56

لواری ٹنل پراجیکٹ سے متاثرہ گاؤں عشریت کے عوام اس میگاپراجیکٹ کے لئے مثالی قربانیاں دے کر اپنی معاش کے ذرائع سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔۔’پریس فورم عشریت

چترال (نمائندہ آوازچترال) لواری ٹنل پراجیکٹ سے متاثرہ چترال کے گاؤں عشریت کے عوام نے کہا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کی وجہ سے کئی سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہوکر دربدر کی ٹھوکرکھانے پر مجبور ہیں لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور ضلعی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں جبکہ اس علاقے کے عوام نے اس میگاپراجیکٹ کے لئے مثالی قربانیاں دے کر اپنی معاش کے ذرائع سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ عشریت کے براڈام کے مقام پر چترال پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ ‘پریس فورم ‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے علاقے کے عمائدیں احسان اللہ، مولانا شریف احمد، شیر احمد، عالم زیب، فضل الدین،ظفراللہ، نثار احمد، حاجی فضل سبحان، حاجی عمر خالق، رفیع اللہ اور دوسروں نے کہاکہ لواری ٹنل کے اپروچ روڈ کی تعمیر کے وقت گاؤں کے درجنوں ایریگیشن چینلزبند ہوکر رہ گئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ گزشتہ کئی سالوں سے فصل کاشت نہیں کرسکتے ہیں تو دوسری طرف ان کے میوہ دار اور غیر میوہ دار درخت بھی سوکھ گئے ہیں جوکہ ان کی معیشت کا بڑا حصہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ لواری روڈ کی وجہ سے گاؤں کی واٹر سپلائی اسکیم بھی متاثر ہوگئی ہے اور بعض مقامات پر پائپ لائن پر پچاس پچاس فٹ ملبہ بھی گرادی گئی ہے لیکن لواری ٹنل پراجیکٹ انتظامیہ اس کی بحالی سے انکاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس روڈ کی تعمیر کے وقت مختلف مقامات پر مقامی پیدل ٹریک بھی متاثر ہوگئے ہیں اور روڈ پر کام کی وجہ سے اڑنے والی گردوغبار سے علاقے میں مختلف قسم کی بیماریاں لوگوں پر حملہ آؤر ہوئی ہیں۔ عشریت کے عوام نے کہاکہ ان کی قربانیوں کو پس پشت ڈال دیتے ہوئے این ایچ اے حکام نے ابھی تک ایک بھی مقامی فرد کو پراجیکٹ میں بھرتی نہیں کی اور باہر کے اضلاع سے معمولی اسامیوں پر افراد کو یہاں بھرتی کئے جاتے ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ اہالیان عشریت کے ساتھ واپڈ ا حکام بھی سوتیلی ماں کی سلوک کررہی ہے اور ان کے زرعی زمینات، باغات اور چراگاہ سے گولین گول ہائیڈل پراجیکٹ کی ٹرانسمیشن لائن گزارے گئے لیکن انہیں معاوضہ ابھی تک نہیں ملا جس کے لئے وہ واپڈا ہاؤس لاہور اور ڈی سی چترال آفس کے درمیان گزشتہ تین سالوں سے چکر کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ نگہبانوں کو تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ہرے بھرے درخت بھی کٹ رہے ہیں لیکن محکمہ جنگلات خاموش ہے۔ انہوں نے کہاکہ لواری ٹنل روڈ کی تعمیر کے بعدڈیڑھ سو گھرانوں پرمشتمل زیارت گاؤں ایک سائیڈ پر رہ گئی ہے اور اس کے لنک روڈ کاکام این ایچ اے اپنے مینڈیٹ سے نکال دی ہے جس سے اس گاؤں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور معمولی بارش کے بعد بھی لنک روڈ کئی مہینوں تک خراب رہتی ہے۔ انہوں نے پولیس تھانہ کے عمار ت کے لئے زمین خرید کر مستقل عمارت کی تعمیر، لواری روڈ سے متاثر بیسک ہیلتھ یونٹ اور گورنمنٹ ہائی سکول کے عمارتوں کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے عشریت میں زنانہ ہائی سکول، مردانہ ہائیر سیکنڈری سکول قائم کرنے اور پرائمری سکول کے لئے بلڈنگ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ چترال لیویز میں عشریت کے ویلج کونسلوں کے لئے بھی ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ عشریت کے عوام نے گولین گول ہائیڈل پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے لئے لائن پہلے سے موجود ہے اور اسے صرف کنکشن دینے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر جمال آباد نغر کے عمائیدین نے کالکٹک تا جمال آباد ایریگیشن چینل کے کام کو مکمل کرنے، گاؤں کے لئے بجلی کی ٹرانسفارمر کی منظوری دینے اور یہاں کی مڈل سکول کو ہائی کادرجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

Facebook Comments