131

دادبیداد….چترالیوں کے14نکات..…ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

انگریزی اخبار ڈان میں نصف صفحے کی تفصیلی خبر آئی ہے خبر نگار نے عمر اصغر خان فاؤنڈیشن کی ریسرچ کے حواے سے لکھا ہے کہ موجودہ سال کے بجٹ میں خیبرپختونخواکی حکومت نے سوات کو7ارب78کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا ہے جبکہ اپر چترال کو80کروڑ اور لوئر چترل کو11کروڑکا ترقیاتی بجٹ ملا ہے۔یہ بات فاؤنڈیشن والوں کومعلوم ہے نہ اخبار کے لئے بائی لائن لکھنے والے منصور علی کے علم میں آئی ہے کہ چترال کا ضلع2014سے2018تک ایک تھا تو نوشہرہ کے مقابلے میں اس کا حصہ ایساہی ہوتا تھا 2018میں اپر چترال اور لوئر چترال میں تقسیم ہوا ہوا تب بھی چترالیوں کے حصے میں بجٹ کے ایک فیصدسے زیادہ نہیں آیا۔دونوں اضلاع کو ملاکراس کا رقبہ14850مربع کلومیٹر اور اب اپر چترال کا رقبہ 8500مربع کلومیٹر اور لوئر چترال کا رقبہ6250مربع کلومیٹر ہے،چترال کی سیاسی جماعتیں مردہ حالت میں ہیں سماجی تنظیموں اور سول سوسائیٹی کے اداروں کاڈھانچہ موجودہے لیکن موجودہ دور میں یحیٰ خان اور ایوب خان کے مارشل لاء سے بھی بدتر پابندیاں ہیں اس لئے کوئی آواز نہیں اُٹھاسکتا ذیل میں چترالیوں کے موجودہ مسائل کو14نکات کی صورت میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائیٹی کے اداروں کی توجہ کے لئے شائع کیا جاجاتا ہے کم از کم پریس کلبوں اور بار روموں میں ان نکات پر لیکچر یا سمینار ہونے چاہیں
(1)چترال میں گذشتہ 7سالوں کے اندر سڑکوں کی حالت دگرگوں ہوچکی ہے لواری اپروچ روڈ،گرم چشمہ روڈ،تورکھو روڈ،مستوج شندورروڈِِکالاش ویلی روڈ کے منظور شدہ منصوبے2014میں روک دئیے گئے تھے اب تک ساری سکیمیں بند پڑی ہیں۔
(2)پرویزخٹک کے دور حکومت میں چترال کی صوبائی اسمبلی کی دوسری سیٹ ختم کردی گئی ہے۔
(3) اپر چترال کوکاغذی طورپر ضلع بنانے کے بعد نئے ضلع کو پولیس کی400اور لیویز کی200آسامیاں دینی چائیے تھیں جو دوسال گذرنے کے بعد بھی نہیں دی گئیں نئے ضلع کے ہیڈکوارٹر کی تعمیر کے لئے اس سال بھی فنڈ نہیں ملے۔
(4)چترال میں عبدالولی خان یونیورسٹی اور شہید بے نظیر یونیورسٹی کے دو کیمپس کو ملاکر چترال یونیورسٹی بناے کا اعلان کیا۔4سال گذرنے کے باوجودتعمیراتی کام کے لئے ایک پائی کا فنڈ نہیں ملا۔
(5) ضلع لوئر چترال کو 3مقامات پر نصب کرنے کے لئے گیس کی فراہمی کے3پلانٹ منظور کئے گئے تھے 2سال بند رکھنے کے بعد منصوبے کو ختم کیا گیا اب وہ پلانٹ لاہور میں نیلام کئے جارہے ہیں۔
(6)چترال کے لئے سکینڈری ایجوکیشن کے بورڈ کا مسئلہ 7سالوں سے التواء کا شکار ہے طلباء اور طالبات دیگر محرمیوں کے علاوہ ٹاپ ٹوئینٹی کے 40سکالرشپس کی سہولت سے بدستور محروم ہیں۔
(7) چترال لوئر کے لئے سٹیڈیم کی تعمیر کا مسئلہ7سالوں سے التواء کا شکار ہے جو اس ضلع کے نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
(8)دروش میں گرلز کالج کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود 2سالوں سے کالج بند پڑا ہے۔
(9) گولین میں 18دیہات کی واٹر سپلائی سکیمیں 2019کے سیلاب میں برباد ہوئی تھیں ایک سال 3ماہ گذرنے کے باوجود بحال نہیں ہوئیں۔
(10)ریشن کا4میگاواٹ بجلی گھر2015کے سیلاب میں تباہ ہوا تھا۔5سال گذرنے کے باوجود بحال نہ ہوسکا۔
(11) جولائی2020ء میں شندورکے 700مربع کلومیٹر علاقے کو گلگت بلتستان کے ساتھ ملاکر نیشنل پارک بنانے کا اعلان ہوا۔ایک بڑا علاقہ خیبر پختونخواسے چھین کر گلگت بلتستان کودینا حکومت کا ایک اور ظلم ہے۔
(12)گذشتہ7سالوں کے اندر پی ٹی آئی کی حکومت نے چترال کے تین بڑے ہسپتالوں کوکھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ ہسپتالوں کی بحالی اور18سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی 7سالوں سے التواء کا شکار ہے بعض ڈاکٹروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی3آسامیاں اور بھی خالی ہوگئی ہیں۔
(13) نیشنل گرڈ سے بجلی دینے والی پیسکو کے پاس 25میٹرریڈروں کی آسامیاں ہیں ان میں سے صرف دو میٹرریڈر چترال میں موجود ہیں صارفین کومیٹر دیکھے بغیر اندھا دھند بل بھیجے جارہے ہیں۔4بلیوں کا بل60ہزار اور 6بلیوں کا بل ڈیڑھ لاکھ آجاتاہے اس ظلم کا سدباب کرنے والا کوئی نہیں۔
(14) چترال کے غریب اور محنت کش طلباء وطالبات پرائیویٹ امتحان دے کر گریجویشن کرتے تھے حکومت نے گریجویشن کے لئے پرائیویٹ امتحان پر پابندی لگاکر سمسٹر سسٹم کو لازمی قرار دیا ہے پی ٹی آئی حکومت کا یہ قانون چترال کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھنے اور خواتین کیلئے تعلیم کا دروازہ بند کرنے کی سازش ہے۔یہ قانون اگرچہ پورے ملک کے لئے ہے تاہم اس قانون سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والاضلع چترال ہے۔
7بڑے مسائل اور بھی ہیں تاہم اختصار کی خاطرصرف14پر اکتفا کیا جاتا ہے۔اگر سول سوسائیٹی اور سیاسی پارٹیاں ان مسائل کو چترالیوں کی آواز بناکرگلی گلی اُٹھائینگے تو عوام میں اپنی محرومیوں کا شعور پیداہوگا گذشتہ7سالوں میں چترال ترقیاتی سیکموں سے مسلسل محروم رہا۔اس سال سوات کے7ارب 78کروڑ کے مقابلے میں چترال کوصرف11کروڑ روپے دئیے گئے۔اگر یہ حکومت رہی تو اگلے سال اتنا فنڈ بھی نہیں ملے گا۔

Facebook Comments