55

پاکستان میں پانی کا مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالولی خان

چترال (نمائندہ آوازچترال)پانی بہت بڑی نعمت ہے،انسان کو ا س کی اہمیت اور ضرورت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب پیاس کی شدت اس کو بے چین و بے قرار کردے،تب اسے ایک گھونٹ پانی کی قدر کا احساس ہوگا اور سمجھ میں آئے گا کہ یہ اللہ تعالی کی کیسی عظیم الشان نعمت ہے کہ جس کے بغیر دنیا میں زندہ رہنا مشکل ہے۔ پانی کی قلت پر قابو پانے،پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ حکومت اور عوام دونوں کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے۔
ان خیالات کااظہاراسسٹنٹ کمشنر لوئرچترال عبدالولی خان نے ایکٹیڈ (ACTED) نامی انٹرنیشنل این جی او کے زیراہتمام چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں واٹرمینجمنٹ اور قدرتی آفات، پانی بچاو اورنیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) پلان کے موضوع پردو روزہ آگاہی ورکشاپ کے اختیامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس ان جیالوجی پشاوریونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹرغضنفرعلی، ڈاکٹرمحمدعلی،کنسلٹنٹ منسٹری آف کلائمیٹ چینج سیدہ عنبرین زہرہ،سی ای اوجاد(JAD)فاونڈیشن چترال سیدحریرشاہ،ایریاکواڈینٹرایکٹیڈننگاہ حسین،ریجنل منیجرسنولپرڈ فاؤنڈیشن چترال شفیق اللہ خان،اسسٹنٹ ڈائریکٹرفارسٹ اعجاز احمد،ڈسٹرکٹ پراجیکٹ منیجر کامران زیب اوردوسروں نے شرکاء ورکشاپ سے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ تربیتی ورکشاپ کامقصد پانی بچاؤ اور پانی بڑھاؤ کے حوالے سے لوگوں کو معلومات فراہم کرنا ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے بارشوں کی کمی کی وجہ سے مختلف علاقوں میں چشمے سوکھ چکے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پانی کی قلت پیش آرہی ہے لیکن آنے والے وقت میں یہ پریشانی مزیدتیزہونے کاخطرہ ہے جس کے لئے بروقت لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے اورجہاں پانی کی اسکیموں پر کام چل رہے ہیں ان میں تیزی لائی جائے تاکہ لوگ مزید مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔
مقررین نے پانی کی افادیت اور اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ورکشاپ میں آئے ہوئے شرکاء سے گذارش کی ہے کہ ہم لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے پانی کے اثاثوں کو کسطرح بچا سکے کیونکہ ہماری زندگی پانی پر ہی منحصر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ کا اصل مقصد مقامی لوگوں تک پانی کی اہمیت پانی کا بچاواور پانی کو صاف شِفاف رکھنے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وطن عزیزمیں غیرموثرپالیسی،حکومت کی عدم دلچسپی،بغیرمنصوبہ بندی،لوگوں میں آگاہی میں کمی،بڑتے ہوئے آبادی اورتعمیرات دیگرمسائل کی وجہ سے آئے دن مشکلات میں اضافہ ہورہاہے۔ پانی ایک ایسا ذریعہ ہے جسکی بدولت انسان اپنے ضروریات پوری کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پانی کا مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے جس کے حوالے سے ہمیں قومی سطح پر دوررس پلاننگ کے علاوہ انفرادی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محفوظ زندگی کے لیے صاف پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پانی کا ضیاع ہونے سے روکنے کیلئے واٹر مینجمنٹ پالیسی تشکیل دینے،نیی قانون سازی اور اس کی ترسیل کے حوالے سے واضح واٹر پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔قدرتی آفات کی روک تھام اور بچاؤ کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے پیشگی منصوبہ بندی اشد ضروری ہے۔ سیلاب کے لئے پیش گوئی کی جاتی ہے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) پلان کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ اس وقت انسان تمام تر جدید ترقی کے باوجود قدرت کے معمولی اقدامات کے سامنے تا حال بے بس ہے شاید آنے والے ایام میں ان پر مکمل قابو پایا جاسکے۔پانی کو صاف رکھنا ہمارا فرض ہے تاکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف و پاک رکھا جا سکے اور ندی نالوں میں کوڑا کرکٹ ڈالنے سے پرہیز کریں۔مقریرین نے کہاکہ چترال قدرتی آفات کی زدمیں واقع ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے سبب ندی نالوں میں سیلابی ریلے،طغیانی،پہاڑ گرنے،برفانی تودے اور دیگر آفات کے خطرات موجود رہتے ہیں۔جن سے بروقت نمٹنے اور آفات کے خطرات کو کم کرنے کے لئے عوام کے اندر رضاکارانہ خدمت کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پانی کو صحیح استعمال کرنا اہم ترین ذمہ داری ہے۔اس موقع پرایکٹیڈ پراجیکٹ کے ماسٹرٹرینر غفور احمد،کمیونٹی مبلائزرمحمدفواد،احمدمحمدعلی اوردیگراسٹاف موجود تھے۔

Facebook Comments