57

ملک بھر کے مہنگائی سے ستائی سرکاری ملازمین سڑکوں پرنکل آئے، شہر اقتدار ہائے مہنگائی ہائے، بجلی مہنگی، آٹا مہنگا، چینی مہنگی، غریب مر گئے جیسے نعروں سے گونج اٹھا

اسلام آباد(  آوازچترال) وفاقی دارالحکومت ہائے مہنگائی ہائے ، ہائے مہنگائی ہائے ، پانی مہنگا ، بجلی مہنگی ،آٹا مہنگا ، چینی مہنگی ، کفن مہنگا ، جینا مہنگا ، مرنا مہنگا ، غریب مر گئے آئے مہنگائی کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی ، موجود ہ حکومت کے قائم ہوئے دو سال میں پہلی مرتبہ سرکاری ملازمین کی تنظیم ہاء آل پاکستان ملازمین مزدوراتحاد ایکشن کمیٹی و آل پاکستان گورنمنٹ ایمپلائزکنفیڈریشن اور انجمن اساتذہ (رجسٹرڈ )پاکستان کے زیر اہتمام ایک ملک گیر احتجاجی جلسہ اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا جس میں کشمور سے لیکر نیلم تک ، کراچی سے گلگت تک کے ملازمین ، مزدور ، پنشنرز کا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ زیر صدار ت الحاج عبدالمناف خان چیئرمین آل پاکستان گورنمنٹ ایمپلائز کنفیڈریشن منعقد ہوا ، جس میں حاجی محمد اشرف خاصنحیلی ، حافظ غلام محمد کھوسہ ، شیخ معراج خالد ، قاضی حفیظ الرحمان، محمد سلیم خان پاشا ، بنارس خان جدون ، محترمہ کشور فاروق ، نصیر الدین ہمایوں ملک ، حبیب اللہ عمر زئی ، شیخ ناظم الدین خیر پور سندھ ، غازی احمد حسن کھوکھر ، پروفیسر خان دل بادشاہ ، سید نذیر حسین شاہ ، پروفیسر احمد اعوان، ظفر اقبال ترانہ ، پروفیسر ڈاکشر طارق کلیم ، ڈاکٹر امتیاز عباسی ، رانا اقبال نون ، شوکت کیانی، محمد سلیمان خان ، قاضی زاہد اقبال ، ریاض خان، ملک نثار فضل غفار باچا ، سید اشفاق حسین باچا ، پروفیسر محمد عارف ، ظفر جمیل میو، رانا امجد علی خان ، سید فیاض گیلانی، فخر عالم خٹک ، خالد جاوید سنگھیڑا ، حاجی اسلام الدین خان ، محمد یوسف کاکڑ ، جمیل اختر تنولی ، مسعود احمد خان سمیت دیگر مختلف تنظیم ہا و مزدور رہنمائوں کے زعماء نے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام دشمن قرار دیا ہے ، مقررین کا کہنا تھا کہ مہنگائی سو فیصد جبکہ ذرائع آمدن ختم ہو چکی ہے ، حکومت کے رواں مالی سالبجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر پروفیشنل ٹیکس کے نام پر تنخواہوں سے کٹوتیاں کرنے اور میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق ملازمین کی سالانہ انکریمنٹس کو ایڈھاک ریلیف سے بدلنے اور بجائے پنشن کے یکمشت کچھ رقوم دے کر سروس سے علیحدہ کرنے اور ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں ردو بدل کرنے پر شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے انہوںنے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کی ملازم کش پالیسیوں اور ملازمین کے معاشی قتل اور مستقبل میں حکومت مجوزہ اقدامات جن کے نتیجہ میں ملازمین اور ان کے اہلخانہ کی یقینی مالی تباہی ہے حکومت مثبت پالیسیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو بہتر بناتی ہے جبکہ اس حکومت نے تمام تر مالی خسارے پورے کرنے کے لئے ملازمین کے گلے پر چھری پھیرنے کا فیصلہ کر لیاہے جو حکومت کے لئے آسان راستہ ہے تاہم ملازمین کسی بھی طرح اس معاشی استحصال کے متحمل نہیں ہو سکتے ، اپنی آواز ارباب اقتدار تک پہنچانے کیلئے آج ہم نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پارلیمنٹ ہائوس کی طرف لانگ مارچ کرنا تھا لیکن ہم موجودہ حکومت کو مہلت دیتے ہیں اور ملک گیر تنظیم ہاء کے مرکزی قائدین بشمول انجمن اساتذہ رجسٹرڈ پاکستان کا ایک مشترکہ اجلاس15 اکتوبر کو اولیا ء اللہ کے شہر ملتان میں طلب کیا ہے جس میں چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان بشمول آزادکشمیر سے لاکھوں ملازمین حکومت کی ملازمین کش پالیسیوں کے خلاف پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے تا دم مرگ دھرنا دینے سمیت دیگر امور پر بات چیت کرتے ہوئے حتمی فیصلہ جات کئے جائیں گے ، اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور حصولکے لئے کیا لائحہ عمل مرتب کرنا ہے ، مقررین نے کہا کہ ملازمین کسی طرح بھی اس معاشی استحصال کے متحمل نہیں ہو سکتے ، اپنی آواز ارباب اختیار ، اقتدار تک پہنچانے کیلئے جملہ ملازمین ، قائدین احتجاج کا راستہ اختیار کریں ، کیوں کہ پاکستان کے ملازمین اتحاد ایکشن کمیٹی نے سروس رولز کو بروئے کار لاتے ہوئے ملکی دستور و آئین کے اندر رہتے ہوئے وہ تمام قانونی تقاضےپورے کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کے طریقے اختیار کیے لیکن حکومت وقت نے ہمارے مطالبات کو سننے کے بجائے حیلے بہانے اور ٹال مٹول سے کام لینے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے ، شرکاء احتجاجی مظاہر ین نے بعد ازاں دھرنا دیا اوروفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتوں کی ملازمین ، مزدور ، پنشنرزکی کش پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کرتےہوئے سینہ کوبی کی ، احتجاجی دھرنے اور جلسہ میں ملک بھر کی ملازمین تنظیم ہاء عہدیداران کی طرح آزاد کشمیر سکول ٹیچرز آرگنائزیشن پنشنرز ایسوسی ایشن آزاد و انجمن اساتذہ کے ذمہ داران سید نذیر حسین شاہ ، سردار سجاد خان ، چوہدری سعید عالم ، چوہدری اشتیاق ، چوہدری عبدالغفور ،خادم مرزا ،میر الیاس شاکر ، انور محمود قریشی ، قاری حفیظ الرحمان، حافظ محمد کاظم ، شیخ معراج خالد ، سردار فردوس خان، سردار شفقت حیات ، راجہ ممتاز خان ، میر رفیق ، سردار عارف شاہین ، محمد سخاوت غوری ، سردار صادق خان سمیت دیگر سینکڑوں عہدیداروں نے مظاہرہ اور جلسہ میں شرکت کی ۔

Facebook Comments