61

انجمن ترقی کھوارچترال نے ادب دوست شخصیت محمدنبی خان کی مالی تعاون سےشہزادہ حسام الملک کمال فن ایوارڈ2020کااہتمام

چترال (نمائندہ آوازچترال)مرکزی انجمن ترقی کھوارچترال نے بارسلونااسپین میں مقام چترال کے خوبصوت وادی استاروتورکہوسے تعلق رکھنے والے ادب دوست شخصیت محمدنبی خان کی مالی تعاون سے ”بابائے کہوارشہزادہ حسام الملک کمال فن ایوارڈ2020کااہتمام کیاجس میں چترال کے 28سینئر صاحب کتاب شعراء،ادباء کے ساتھ گلوکاروں،ڈرامہ نگاروں،اداکاروں،صداکاروں،موسیقاروں،ستارنوازوں کوایوارڈ سے نوازاگیا۔ایوارڈلینے والوں میں پروفیسراسرارالدین،ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی،گل نوازخاکی (بعدازمرگ)،امیرخان میر،ناجی خان ناجی،امین الرحمان چغتائی،گل مراد حسرت،ڈاکٹرقاری بزرگ شاہ الازہری،امیرگل امیر(بعدازمرگ)،اقبال حیات،پروفیسررحمت کریم بیگ،شیرولی خان اسیر،اقبال الدین سحر،افضل اللہ افضل،مولانانقیب اللہ رازی،ظفراللہ پرواز،محمدحسن،سلطان غنی،منصورعلی شباب،محمدذکرزخمی،شیرافضل شاذی،خالدبن ولی (بعدازمرگ)اوردیگرنے نام شامل ہے۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افیسر محکمہ تعلیم چترال منہاس الدین،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لوئرچترال فیاض احمدقریشی،(ر)پروفیسراسرارالدین،مرکزی انجمن ترقی کہوارچترال کے صدرشہزادہ تنویرالملک اوردیگرنے کہاکہ مرکزی انجمن ترقی کہوارچترال نے کہواروزبان وادب کی بے لوث خدمت کرنے والے سینئر ادبا، شعرا اور دانشوران کوایوارڈسے نوازنے کا اچھاسلسلہ شروع کیا ہے جس سے کھوار ادب کی بے لوث خدمت کرنے والے ان افراد کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے شاعراورادیب کا کام ہوتا ہے کہ اپنے قلم سے معاشرے میں جنم لینے والی برائیوں کے خلاف آواز بلندکریں اور اپنے تحریرکے ذریعے حقیقت پڑھنے والوں کے سامنے رکھیں اور اخلاقی قدروں کے معیارکوبلندکریں۔انہوں نے کہاکہ چترال کے شعراء کیلئے مستقل بنیادوں پرایک پلیٹ فارم بنا ہوناچاہیے جہاں وہ مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کریں، ادبی موضوعات پر یا زندگی کے دوسرے موضوعات پر بحث کریں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ مرکزی انجمن ترقی کہوار کا ایک احسن قدم ہے جوسینئرلکھاریوں کوایوارڈ سے نوازاگیا اور اگراس طرح کی پروگرام باربار منعقد کئے جائیں تواہل قلم حضرات اپس میں مل بیٹھ کر شعر اور نثر کی زبان میں اپنے ادب اور زبان کی ترقی اور ترویج میں کردار ادا کریں گے۔اسٹیج کی فرائص مرکزی انجمن ترقی کہوار کے جنرل سیکرٹری ظہورالحق دانش انجام دے رہے تھے۔
پروگرام کی دوسری نشست میں غیرطرحی محفل مشاعرہ کاانعقاد کیاگیا جس کی مہمان خصوصی (ر)پروفیسرممتازحسین،صدرمحفل اقبال الدین سحر تھے چترال پریس کلب سے صدرسینئرصحافی ظہیرالدین عاجزاورمرکزی انجمن ترقی کہوار کے صدرشہزادہ تنویرالملک بھی اسٹیج پرموجودتھے نظامت کی فرائض مرکزی انجمن ترقی کہوار کے جائنٹ سیکرٹری حسن بصری انجام دے رہے تھے اس غیرطرحی مشاعرے میں شہزاد احمدشہزاد،حسن بصری ہمراہی،اخترعباس احساس،سلیم اللہ ساگر،سعیدالرحمان سعیدی،نقیب رانجہ،سیدافضل حسین مہجور،مطع الرحمان پاشاہ،زاہدافنان،سراج الدین ساحل،شمس نبی شادمانی،سیدنذیرحسین شاہ نذیر،جاویداخترجواد،ظفراللہ ماہی،محمدسرورسرور،فداالرحمن فدا،عنایت الرحمان عنایت،محمدجلال الدین شامل،ظہورالحق دانش،حفیظ اللہ امین،اقرارالدین خسرو،ثناء اللہ ثانی،محبوب الحق حقی،محمدشریف عروج،شہزادہ مبشرالملک مبشر،شیربڑانگ گداز،مشہورشاہد،محبوب حسین محبوب،ظفراللہ پرواز،ذاکرمحمدزخمی،افضل اللہ افضل،اقبال الدین سحر اوردوسروں نے کلام پیش کئے۔آخرمیں مہمان خصوصی (ر)پروفیسر ممتازحسین اورصدرمحفل اقبال الدین سحرنے شعراء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شاعری کا تعلق حساس لوگوں کے ساتھ زیادہ ہے، کیونکہ حساس لوگ کا مشاہدہ بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ مربوط الفاظ میں انسانی جذبات و احساسات کی ترجمانی کو شاعری کہا جاتا ہے۔ شاعری کسی بھی انسان کے لیے اپنے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی اور ترجمانی کا دوسرا نام ہے۔انہوں نے کہاکہ شعراء اکرام نے انسانی دْکھوں، پیچیدگیوں،احساسات، جذبات کو اتنے نازک طریقے سے بیا ن کرتے ہیں کہ شاعری کو دانِش، جمالیات اور روح کی معراج تک پہنچانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑتی ہے۔ا س محفل مشاعرہ میں نوجوانوں نے جوکلام پیش کئے قابل تعریف ہے شعر و ادب نے علم و آگہی کے طلب گاروں کو بہت کچھ عطا کیا۔

Facebook Comments