76

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان سیلاب زدہ علاقہ ریشن کا دورہ…۔دیر آید درست آید۔اس لئے وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں….حمید جلال

چترال (نمائندہ  آوازچترال )حمید جلال جنرل سیکرٹری پی پی پی آپر چترال نے ایک اخباری بیان دیتے ہوئے انتہائی خوشی کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان چترال کے سیلاب زدہ علاقہ ریشن کا دورہ کررہے ہیں۔دیر آید درست آید۔اس لئے وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اور اس کے ساتھ وزیراعلی اور پی ٹی ائی قائدین سے یہ امید رکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اکثر ممبرز اور وزارا کا تعلق ملاکنڈ ڈویژن سے ہیں یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔اور چترال کی پسماندی کو بہتر طورپر سمجھتے ہیں۔چترال میں بعض ایسے سنگین مسائل ہیں جن کے بارے پی ٹی آئی قیادت وزیراعلیٰ کو اگاہ کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ2015میں سیلاب کی وجہ سے پورا انفراسٹرکچر تباہ ہوا تھا۔ابھی دوبارہ چترال کے کافی گاؤں خاص کر ریشن،یارخون مکمل متاثر ہوگئے،اُن کو ریلیف مہیا کرنا اور خصوصی پیکیج کا اعلان ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اپر چترال کو تحریک انصاف کی حکومت نے ضلع کا درجہ دیا جس کے لئے ہم پی ٹی آئی کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔مگر یہاں ڈی سی،ڈی پی او وغیرہ کیلئے دفترات موجود نہیں۔اگر دفتری لحاظ سے کوئی افسر مطمین نہ ہو تو سرکاری خدمات انجام دینامشکل ہے مختلف جگہ پولیس چوکیاں بن گئی ہیں اُنکے لئے بلڈنگ بنانا انتہائی ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یارخون روڈ پر اپنی مدد آپ کے تحت کام ہورہا ہے۔حکومت کیطرف سے ان کو فنڈ مہیا کیاجائے جس سے سیاحت کو فروغ ملے گا تاکہ شندور اور بروغل فیسٹول سے سیاح لطف اندوز ہوسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ تورکہو روڈ تیار ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ عوام شدید اظطراب کا شکار ہیں۔اور مریضوں کوڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچانے میں بھی کافی مشکلات ہیں۔اور سردیوں میں اکثر حادثات رونما ہوتے رہے ہیں۔اگر اس روڈ کے لئے مناسب فنڈ مہیا کیا جائے تو عوام کو ریلیف مل جائے گا۔ حمید جلال نے کہا کہ نہر اتہک کافی عرصہ سے تعطل کا شکار ہے۔اس پر صوبائی حکومت غور کرکے وفاق سے فنڈ حاصل کرے تاکہ عوام بے ابی کے مشکل مسائل سے نکل سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے چترالی عوام کو مطمین کیا جائے۔کیونکہ سی پیک کی وجہ سے چترال میں ترقی کے دروازے نکل جائیں گے اور دفاعی لحاظ سے بھی اہمیت کاحامل ہے اور یہاں کے جوان بے روزگاری سے بچ جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ریشن بجلی گھر پرکام کی رفتار کوتیز کرنے کے لئے وفاقی حکومت سے گفت وشنید کی جائے۔تاکہ عوام تاریکی کے ماحول سے نکل کر روشنی دیکھ سکے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بجلی علاقے میں ندارد، ہوشروبا بلوں سے عوام کونجات دلایاجائے۔اور چترال کومتاثرہ علاقہ قرار دیاجائے۔ جنرل سیکرٹری حمید جلال نے اپنے گوں ناگوں مصروفات کے باوجود چترال کا دورہ کرنے پر ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔اوراُمید کا اظہار کیا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان ہمارے مطالبات پر غور فرمائینگے۔

Facebook Comments