79

چترال میں تیز اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری..بعض مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کی اطلاعات ہیں..سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں

چترال ( محکم الدین ) چترال کے دونوں اضلاع میں پیر اور منگل کی رات سے بغیر وقفے کے تیز اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ جس سے تمام ندی نالوں اور دریاوں میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے ۔ اور بعض مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کی اطلاعات ہیں ۔ حالیہ مسلسل بارشوں سے سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں ۔ کیونکہ زیادہ تر متاثرین خیموں میں رہائش پذیر ہیں ۔بارش سے تمام امدادی سرگرمیاں معطل ہوئی ہیں ۔ خصوصا متاثرین جو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے کھنڈر مکانات کی باقیات جمع کر رہے تھے ۔کا کام رک گیا ہے ۔ ریشن میں سیلاب برد پل کی وجہ سے اپر چترال کے علاقے تورکہو ، موڑکہو،مستوج ، یارخون ، بروغل اور گلگت بلتستان بدستور لوئر چترال سے منقطع ہیں ۔ اور لوگوں کو آمدورفت میں انتہائی پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ سابق ناظم امیر اللہ نے فون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ سیلاب متاثرین مسلسل بارش سے انتہائی پریشانی اور مصیبت میں ہیں ۔ اب بھی ریشن میں لوگوں کو درمیانے درجے کے سیلاب کی مشکلات کا سامنا ہے ۔ متاثرین کو کوئی سمجھائی نہیں دیتا ۔ کہ کیا کیا جائے ۔ گھر بار برباد ہوچکے ہیں۔ رہنے کیلئے محفوظ جگہ اور خوراک نہیں ، اور مال مویشیوں کیلئے چارہ دستیاب نہیں ۔ کیونکہ زمینات اور کھڑی فصلیں سیلاب میں بہہ گئی ہیں ۔ یا دب کر رہ گئی ہیں ۔ انہوں نے حکومتی امدادی سرگرمیوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ابھی تک ریشن میں اپر چترال کی دو لاکھ آبادی ایک پل صراط کو جان ہتھیلی پر رکھ کر عبور کرتے ہیں ۔ اس کیلئے تاحال کوئی انتظام نظر نہیں آتا ۔ جبکہ اپر چترال جانے والے مسافروں کو ریشن سے گا ڑیاں دستیاب نہیں ۔ اور خوش قسمتی سے کسی کو گاڑی مل جاتی ہے ۔ تو منہ مانگے کرایہ وصول کیا جاتا ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ فوری طور پر ریلیف کامطالبہ کرتے ہیں تاکہ وہ سردی میں شدت آنے سے پہلے اپنی بحالی کیلئے کچھ کرسکیں ۔ امیراللہ نے کہا ۔ کہ سیلابی کٹاو کیوجہ سے ریشن میں بجلی کے دو پول بھی گر چکے ہیں ۔ اور علاقہ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ۔ اسی طرح ریشن ہی میں دریائے چترال کے کٹاو کے ڈر سے کئی گھر مکمل طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ کچھ یہی حال کالاش ویلی رمبور اور بمبوریت کے سیلاب متاثرین کا ہے ۔ جوانتظامیہ کی طرف سے بحالی کے امداد کے منتظر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے ۔ کہ اگرچہ مصیبت کی اس گھڑی میں خوراک و خیمے اور پوشاک کی امداد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ تاہم متاثرہ مکانات کی بحالی بھی اس زیادہ ضروری ہے ۔ کیونکہ چترال ایک سیزنل کام کی جگہ ہے ۔ جہاں کسی بھی تعمیرات کیلئے گرمیوں کے چند مہینے دستیاب ہیں ۔ جن کے دوران کام کی انجام دہی انتہائی ضروری ہے ۔
بارش سے موسم میں اچانک بڑی تبدیلی آئی ہے ۔ اور چترال میں گرمی کا زور مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ۔ اس لئے بعض تجربہ کار بزرگوں کا کہنا ہے ۔ کہ موسم خزان کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس اچانک سرد موسم کی وجہ سے فصلوں پر انتہائ منفی اثر پڑ سکتا ہے ۔ خصوصا دھان کی فصل جس کیلئے مناسب گرمی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حالیہ بارشوں سے تمام ندی نالوں کے پانی گدلے ہو چکے ہیں ۔ اور کئی مقامات پر واٹر سپلائی سکیمیں سیلاب برد ہوچکی ہیں ۔ اس لئے لوگوں کا زیادہ انحصار اب کنواں اور نہروں کے پانی کو روایتی طریقے سے فلٹر کرنےپر ہو چکا ہے۔

Facebook Comments