54

کالاش تہذیب و ثقافت اور اس کا قدیم آرکیٹکچر عظیم سرمایہ ہیں۔.ڈاکٹرعبد الصمد

چترال (محکم الدین) ممتاز ماہر آثاریات ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم صوبہ خیبر پختونخوا ڈاکٹرعبد الصمد نے کہا ہے۔ کہ کالاش تہذیب و ثقافت اور اس کا قدیم آرکیٹکچر عظیم سرمایہ ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قدیم ٹریڈیشنل آرکیٹکچرکی اہمیت سے بے خبر ہونے کی سے یہ عمارات انتہائی تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ اگر جدید تعمیرات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ تو بہت کم عرصے میں ہم قدیم آرکیٹکچرسے محروم ہو جائیں گے۔ جبکہ پوری دنیا میں کالاش تہذیب و ثقافت اور اس کے ہیرٹیج کی بہت اہمیت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز کالاش ویلی بمبوریت میں میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر زارا، چترال میوزیم کے انکیوبیٹر سید گل کالاش، ریسرچ اسسٹنٹ کالاشہ دور میوزیم اکرام حسین اور دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر صمد نے کہا کہ آرکیٹکچر میں تیز رفتار تبدیلی کی بنیادی وجہ قانون کا نہ ہونا اور موجود قوانین پر عملدر آمد میں کو تاہی ہے۔ اس لئے ہماری کوشش ہے۔ کہ کالاش ثقافت کی منفرد حیثیت کے پیش نظر اس علاقے کے لئے خصوصی قانون سازی کی جا ئے۔ جس پر آرکٹکٹ ڈکٹر زارا کام کر رہی ہیں۔ ان کی مرتب کردہ سفارشات کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔ تاکہ معدومیت کے خطرے سے دوچار کالاش تہذیب و ثقافت اور آرکیٹکچر کو محفوظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کالاش ویلیز میں غیر مقامی کاروباری لوگوں کی طرف سے کالاش کلچر سے متصادم تعمیرات کو علاقے کیلئے زہر قاتل قرار دیا۔ اور کہا۔ کہ کراکال بمبوریت میں اس قسم کے ایک ہوٹل کو ہم نے منہدم کرنے کی سفارش کی ہے۔ جس پر عنقریب عملدر آمد کیا جائے گا۔ ڈاکٹر عبد الصمد نے کہا۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی دلچسپی اور معاون خصوصی وزیر اعلی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کی کوششوں سے دس کروڑ روپے کی لاگت سے کالاش مقدس مقامات، قبرستان اور ٹمپلز کو محفوظ بنانے پر کام جاری ہے اسی طرح اطالوی حکومت کے گرانٹ سے کالاش ویلی میں ووڈ کنزر ویشن پر کام کیا جا رہا ہے۔ جس میں لکڑی کو محفوظ بنانے کے عمل سے گزارا جائے گا۔ اسی طرح اپر چترال میں ایک میوزیم تعمیر کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر عبد الصمد نے کہا۔ کہ چترال میں آثاریات کے کئی سائٹس موجود ہیں۔ خصوصا آرین دور کے سائٹس میں سینگور چکست نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار سائٹس موجود ہیں۔ جن پر کام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کالاش قبیلے کے اوریجن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا۔ کہ ہماری ریسرچ یہ بتاتی ہے۔ کہ کالاش لوگ یہاں کے مقامی لوگ ہیں۔ یہ سکندر اعظم اور اُن کی فوجیوں کی نسل نہیں ہیں۔ کیونکہ سکندر اعظم اور ان کی فوجوں کا گزر چترال کی وادی سے ہوا ہی نہیں ہے۔ چترال میں پندرہ سو قبل مسیح میں آبادی موجود تھی۔ جبکہ سکندرا عظم کی فوج کشی تین سو قبل مسیح میں ہوئی۔ اس لئے کالاش لوگوں کو یونانیوالنسل قرار دینا حقیقت کے بر عکس ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال میں فروغ سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ دہشت گردی اور کرونا نے سیاحت کو بہت نقصان پہنچایا۔ تاہم اب حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال خصوصا کالاش ویلیز کی سیر کیلئے آنے والوں کو ایجوکیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کلچر اور ماحول کو متاثر کئے بغیر سیاحت کا لطف اُٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ کالاش کلچر کے تحفظ کیلئے کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جن کے علاقے اور سیاحت پر مثبت اثرات مرتب ہو ں گے۔

Facebook Comments