52

مساجد کو فلموں کی شوٹنگ کیلئے استعمال کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف،مسجد وزیر خان میں گانا فلمانے پرشدید ردعمل

لاہور ( آوازچترال رپورٹ) امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مسجد وزیر خان میں فلم کا گانا فلمانا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔مساجد کو فلموں کی شوٹنگ کے استعمال کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔چند ماہ پہلے بادشاہی مسجد اور اب مسجد وزیر خان کو فلم کی شوٹنگ کیلئے استعمال ہونا حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسجد وزیر خان میںفلمی گانے کی شوٹنگ پر اظہار برہمی اور شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کیا۔میاں ذکر اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ مساجد میں عریانی و فحاشی کی یلغار سے دینی حلقوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ اللہ کے گھر کو فلمی شوٹنگ کیلئے استعمال کرنا بہت خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ شوبز کی بے پردہ اور حیاء باختہ عورتوں کی بھرمار پر تاریخی مساجدوں کے منبر و محراب اور در ودیوار خون آنسو بہاتے نظر آ رہے ہیں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست میں اللہ کے گھروں میں یہ مکروہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ مسجد کا رنگ سینما گھروں، فلمی تھیٹروں اور عریانی و فحاشی کے اڈوں پر غالب آتا، مگر کس حد تک معاشرے میں بدی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ مسجد کے اندر کے ماحول پر مسجد سے باہر کا ماحول اس قدر غالب آ گیا ہے۔امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے وزیر اعظم پاکستان اور اعلی عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں فلموں کی شوٹنگ اور حیا باختہ پروگرامات پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور مسجد وزیر خان میں فلمی گانے کی عکس بندی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔ دوسری جانب صوبائی وزیر اوقاف ومذہبی امور سید سعیدالحسن شاہ نے مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کے واقعہ کے حوالے سے سخت ایکشن لیتے ہوئے تین روز میں انکوائری رپورٹ طلب کر لیجبکہ واقعہ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد اور تحریک التوائے کار بھی جمع کرا دی گئی۔ صوبائی وزیر مذہبی امور سید سعید الحسن شاہ نے کہا ہے کہ ایسے غیر ذمہ درانہ واقعات کو ہر گزبرداشت نہیں کیا جائے گا،مساجد اور مقدس مذہبی مقامات کا تقدس ہر قیمت برقرار رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے مسجد وزیر خان میں ”انار کلی“فلم کی شوٹنگ کے دوران مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و سرورکی محفل منعقد کرنے کے خلاف تحریک التوا کار جمع کرا دی۔ رکن اسمبلی سنبل مالک حسین کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک کے متن میں کہا گیا ہے کہ اندرون شہر کی تاریخی مسجد وزیر خان میں 28جولائی کو ”انارکلی فلم“کی شوٹنگ کی گئی۔مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر مسجد میں سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کی گئی۔ویڈیو میں واضح طور پر مذکورہ واقعہ دیکھا جا سکتا ہے جس میں مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں۔جس جگہ امام مسجد امامت کرواتا ہے اور موزن اذان دیتا ہے وہاں پر میوزک اور ڈانس کی محفلیں کرانے سے نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا بلکہ دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔مطالبہ ہے کہ اس گھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مسلم لیگ(ن) کی رکن سمیر املک کی جانب سے اس مناسبت سے قرارداد بھی پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔ جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کی اجازت دینے والے افراد کیخلاف کاروائی کی جائے اورفلم کے ڈائریکٹر اور مسجد کا تقدس پامال کرنے والے فلم کے دیگر اداکاروں کیخلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

Facebook Comments