46

واپڈا کا سفید جھوٹ ایک بار پھر پکڑا گیا

چترال(نمائندہ آوازچترال)واپڈا کا سفید جھوٹ ایک بار پھر پکڑا گیا مارچ2020میں واپڈا نے وزیراعظم عمران خان کے حکم پر اعلان کیا تھا کہ صارفین بجلی کے بلوں میں 3مہینوں کے لئے رعایت دی جائے گی،اپریل اور مئی میں جو بل آئے ان پر لکھا تھا کہ بجلی کا بل جمع کرنے کی ضرورت نہیں،ناٹ ٹو بی پیڈ کاپول اُس وقت کھل گیا جب جون اور جولائی کے بلوں میں وہی رقم دگنی کرکے ڈال دی گئی اگر 600روپے جمع کرنے کی ضرورت نہیں تھی تو وہ رقم اب 1500اور 1800کرکے بھیجی جارہی ہے ساتھ ہی واپڈا کے اہلکار گلی محلوں اور بازاروں میں پھر کر صارفین سے نقد وصولی پر زور دیتے ہیں۔پیسکو کے اہلکاروں نے اس کو بھتہ کا درجہ دیدیا ہے اور بھتہ نہ ملنے پر بجلی کاٹ دیتے ہیں۔صارفین کے پاس ٹی وی نشریات اور اخبارات میں وزیراعظم عمران خان وزیر توانائی عمرایوب اور واپڈا حکام کے اعلانات کی نقول موجود ہیں جن میں بجلی صارفین کو3مہینوں کی چھوٹ دی گئی تھی۔جن صارفین کو 300یونٹ جمع نہ کرنے کا کہا گیا تھا اگلے مہینے ان کے بلوں میں 600یونٹ بقایا ڈالے گئے۔چترال کے بجلی صارفین نے،ضلعی انتظامیہ،ڈی پی او،کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس اور حساس اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا حکام یا پیسکو اہلکاروں کی طرف سے صارفین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر تحقیقاتی کمیٹی بٹھائی جائے اس بات کی تحقیق کی جائے کہ مارچ 2020میں 3ماہ کی رعایت کا اعلان سفید جھوٹ تھا یا اس ماہ واپڈا کی طرف سے بھتہ جمع کرنے کا اقدام سفید جھوٹ ہے۔اگر پیسکو کا قبلہ درست نہ کیا گیا تو امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوگا جس کی زمہ داری واپڈاپر عائد ہوگی۔

Facebook Comments