32

گجر” پانچ ہزار سال کا ایک انتہائی قدیم اور سب سے بڑا خانہ بدوش قبیلہ ہے۔…شبیر چوہان

"گجر” پانچ ہزار سال کا ایک انتہائی قدیم اور سب سے بڑا خانہ بدوش قبیلہ ہے۔ ۔ جس کی جڑیں مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں ملتی ہیں،، ایسی ہزاروں جگہ موجود ہیں۔۔ جن کے نام میں لفظ گوجر سابقے یا لاحقے کی صورت میں موجود ہے۔۔ یہ نام جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے کچھ علاقوں پر گجروں کی حکمرانی کے دور میں رکھے گئے پاکستان کے چاروں صوبوں میں ایسے مقامات بکثرت پائے جاتے ہیں۔۔۔
مثلا پنجاب میں تخت گوجری،، گجرات،، گجرانوالہ،، کوٹلہ گوجر،، گوجر پینڈ،، گجرپور،، گجر ولی،، بیرا گجران،، گجر کلے،، میاں گجر،، چوہا گجر،، سندھ گوجرو،، گوجرہ،، بلوچستان میں گوجار،، گجر،، گوجرو،، گجرزی،، اسلام آباد ڈیرہ گوجران وغیرہ۔۔۔۔
افغانستان میں گجروں کو اجار کہا جاتا ہے ،،پاکستان کا نام پاکستان بھی ایک گجر چوہدری رحمت علی ،نے تجویز کیا۔

۔ اردو کے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی، بھی گجر تھے حافظ سعید لشکر طیبہ والے بھی گجر ہیں،، اس کے علاوہ مشہور صوفی شاعر میاں محمد بخش پاکستان کے پانچویں صدر فضل الہی چوھدری بھی گجر ہیں،، اور پاکستان کا سب سے بڑا قبیلہ بھی گجر ہی ہے۔۔۔۔
گجروں کی ریاست کا نام کشاں تھا،، محمود غزنوی نے گجروں کو شکست دی اور دس سو اٹھارہ ،اے ڈی ان کی ریاست کا خاتمہ ہوگیا سماجی طور پر پسماندہ گجر سنسکرت زبان کا لفظ ہے،، جس کا مطلب دشمن کو قوت سے نکالنے والے دنیا میں قدیم ترین اقوام میں شامل اور افرادی لحاظ سے سب سے بڑی قوم ہے پاکستان بشمول آزاد کشمیر گجروں کا تناسب 41 فیصد ہے۔۔۔۔
پاکستان ،ہندوستان اور افغانستان میں آباد لفظ گجر کا ماخذ گرجر ہے،، اور سنسکرت میں اس کے معنی بہادر اور جنگجو کے ہیں،، گجر کہاں سے آئے اس کے بارے میں مختلف واقعات ہیں تاریخ میں کچھ لوگ کہتے ہیں،، یہ آریانسل ہیں تو کچھ کا خیال ہے کہ یہ علاقہ گرجستان وسط ایشیا سے آئے وسطی ایشیا میں سب گرجستان میں ایک گاؤں دس ہزار سال پرانا ہے،، یہ گاؤں دریائے ہلمند کے کنارے سیستان جانے والی سڑک پر قائم ہے یہاں کے باشندے گجر کہلاتے تھے یہاں سے  ان لوگوں نے ہزاروں سال قبل روس چین ہندوستان افغانستان اور تب ہجرت کر لی تھی،،،
پنجاب میں گجرات اور گوجرانوالہ ان ہی لوگوں نے آباد کیے۔۔۔۔
بعض مورخین کے مطابق گجر اصلاکھشتری ہیں،،، جن کی مادری زبان سنسکرت تھی پھر یہی زبان گوجری ہوئی،، اور ان کا ابتدائی مذہب ویدک تھا،، راجستھان میں ایک گجر سلطنت کا ذکر ملتا ہے جس کا دارالحکومت بھنمال تھا پھر یہ لوگ جہاں آباد ہوئے اسی نسبت سے علاقوں کے نام بھی منسوب ہوئے پر تہار ذات کے راجپوت دراصل گجر ہیں،،،
جو وقت کے ساتھ ساتھ خانہ بدوش چرواہے بن گئے ۔۔۔
جنوبی ایشیاء میں گجر قوم کے تین ہزار سے ذیادہ قبیلے ہیں، ،
کے۔ پی۔ کے،کے علاقوں میں عموما گجر اپنے نام سے پہلے یعنی سابقے کے طور پر سردار لگاتے ہیں۔۔گجروں کی اکثریت مسلمان ہے جبکہ باقی ہندو اور سکھ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔
ماضی کے پکھلی سرکار اور آج کے مانسہرہ کی بھی سب سے قدیم قوم گوجر ہے گجر ہزارہ میں سب سے پہلے آئے مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہی یہاں آباد ہوچکے تھے مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کرکے ان کو اپنی رعایا بنایا سواتیوں نے جلال بابا کی زیر قیادت جب مانسہرہ فتح کیا تو گجروں کو پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف بھگا دیا اور زرخیز زمینیں اپنے قبضے میں لے لیں۔۔۔
جب سید احمد شہید نے سکھوں کے خلاف اپنی تحریک آزادی کے لیے ہزارہ کی زمین کا انتخاب کیا تو اس وقت گجر اپنے اوپر دیگر قبیلوں کے غلبے کی وجہ سے بے اختیار اور کمزور تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق سید کی خدمت کی وہ نہ  صرف مجاہدین کو راستے کی رہنمائی کرتے بلکہ انہیں دودھ اور مکھن بھی پیش کرتے  اور انکے راستوں میں برف بھی صاف کرتے ۔۔۔۔۔۔
انہوں نے اپنے آپ کو ایک اچھا میزبان ثابت کیا اگرچہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ گجر ہی تھے جنہوں نے سکھوں کو ڈاڈر کے راستے بالاکوٹ میں سید احمد پر حملہ کرنے کے لیے مدد فراہم کی۔۔لیکن وہ اس روایت کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں جس سے گجروں کی غداری ثابت کی جا سکے اور ایک آدمی کی غلطی کو پوری قوم سے منسوب نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔
سکھ دور حکومت میں گجر پہاڑوں کی چوٹیوں، وادیوں اور میدانوں میں رہتے تھے لیکن برطانوی راج قائم ہونے کے بعد ان کے حالات انتہائی ابتر ہو گئے اور بہت سارے گجروں کو ان کی زمینوں سے محروم کردیا انہوں نے مقامی خانوں کا مزارہ بن کر رہنا شروع کر دیا جن کے ظلم نے انہیں دوسرے درجے کی مخلوق بنا دیا جن کے دباؤ کے تحت یہ دن رات ان کی خدمت کرتے اور اس طرح گجر ایک کمزور اور دبی ہوئی قوم بن کر رہ گئے جن کی زندگی کا مصرف معض خانوں کی خدمت یا بیگار کرنا رہ گیا ۔۔۔۔۔
انیس سو پچاس میں گجروں کی بے رنگ زندگی میں اس وقت تبدیلی کا آغاز ہوا جب عبدالقیوم خان کی زرعی اصلاحات سے ان زمینوں کے مالکانہ حقوق ملے مگر جبری مشقت بھٹو دور حکومت تک جاری رہا 1970 کے الیکشن میں پہلی بار ایک گجر امیدوار سردار عبدالرحمن نے حصہ لیا یہ وہ دور تھا جس نے انہیں سیاسی شعور بخشا انیس سو پچاسی میں مانسہرہ کے سیاسی منظر نامے پر پہلی بار گجر سردار یوسف کی پی ایف 45 سے جیت کی صورت میں نمودار ہوئے اور یہیں سے گجروں کے عہد زوال کے خاتمے کی ابتداء اور سیاسی کامیابیوں اور ضلع مانسہرہ کے سیاسی غلبے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے ۔۔۔
سردار یوسف جن کے والد کا نام سردار شاہ زمان ہے اپنی سیاست کا آغاز  1979 میں ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر کے الیکشن سے کیا انیس سو پچاسی اور نوے میں وہ صوبائی اسمبلی کی نشست سے کامیاب ہوئے انیس سو نوے 93 اور 96 میں وہ قومی اسمبلی کی نشست سے کامیاب ہوئے پرویز مشرف دور میں وہ مانسہرہ کے ڈسٹرکٹ ناظم رہے جبکہ گریجویشن کی پابندی کے سبب قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ نہ لے سکے اور ان کی جگہ ان کے صاحبزادے سردار شاہجہان یوسف نے انتخاب میں حصہ لیا اور کامیاب قرار پائے ۔۔۔۔۔
2013 کے انتخاب میں سردار یوسف ایک بار پھر قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مانسہرہ کے حلقہ بیس سے کامیاب ہوئے اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کے عہدے پر براجمان رہے
اور اس کے بعد 2018 کے الیکشن صوبائی اسمبلی سے حصہ لیا اور قومی اسمبلی میں اپنے بیٹے سردار شاہجہان یوسف کو ایک بار پھر موقع دیا اور سردار یوسف صوبائی اسمبلی سے الیکشن جیت گئے جبکہ ان کے بیٹے سردار شاہجہان یوسف کو صالح محمد خان سے شکست ہوئی۔۔۔۔۔

Facebook Comments