40

دادبیداد…..مودی سرکار اور کشمیر…….ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

مو دی سرکار نے کشمیر میں ایک سال سے کر فیو لگا یا ہوا ہے ایک کروڑ 26لاکھ کی آبادی اپنے گھروں میں محصور ہے ہر گلی میں ہر گھر کے دروازے پر بھارتی فوج کا پہرہ ہے اگر کوئی 90سالہ بوڑھا باہر نکلتا ہے، 7سالہ بچی گھر سے با ہر قدم رکھتی ہے تو بھارتی فوج اس کو گو لیوں سے بھون ڈالتی ہے اس ظلم کی وجہ سے گذشتہ ایک سال کے اندر 6ہزار شہری مارے جا چکے ہیں 10ہزار شہریوں کو قید میں ڈالا گیا ہے انسانی حقوق کے ادارے چیلنج کرتے ہیں کہ اگر مو دی سر کار کشمیر میں مقبو لیت کا دعویٰ کرتی ہے تو کر فیو اُٹھا کر دیکھ لے لاک ڈا ون ختم کر کے دیکھ لے مگر مو دی سر کار میں اتنا دم خم نہیں ہے لیلیٰ آر تھر جب اغوا ہوئی تو 13سال کی بچی تھی اب اس کی عمر 14سال ہو گئی ہے ایک سال سے بھارتی فوج کے ٹار چر سیل میں بند ہے اس پر عزت کی زندگی حرام ہو چکی ہے ظلم کی حد یہ ہے کہ اس کو ذلت کی مو ت چننے کا اختیار بھی نہیں اور بین لاقوامی اداروں کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے اعداد و شمار کی رو سے کشمیر کی ایسی مظلوم بیٹیاں ہزاروں کی تعداد میں ہیں جو بھارتی درندوں کی حراست میں ہیں رمزی کا شانی 17سال کا عاقل با لغ نو جوان ایک سال سے کا لج نہیں گیا، گھر میں محصور ہے کبھی ہفتہ بھی فاقے سے گذر جاتا ہے مہینے میں ایک بار کپڑے بدلتا ہے اپنے 45سالہ باپ سے پو چھتا ہے ابوجی! ہمیں کیوں گھروں میں قید کیا گیا ہے؟ باپ سکول ٹیچر ہے، بیٹے کو بتا تا ہے کہ ہندو ستان کے آئین میں دفعہ 370کے تحت کشمیر کو خصو صی درجہ حا صل تھا اور یہ درجہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطا بق استصواب رائے تک جاری رہنا چا ہئیے تھا مو دی سر کار نے5اگست 2019کو آئین کا دفعہ 370ختم کر کے کشمیر کی خصو صی حیثیت کو ختم کیا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ردی کی ٹو کری میں پھینک دیا آئین کا ایک دوسرا دفعہ 35 /اے تھا اس کے تحت بھارتی ہندووں کو کشمیر میں زمین خرید نے کی اجا زت نہیں تھی اس دفعہ کو بھی ختم کر دیا گیا اب بنا رس، انبا لہ اور جا لندھر کا ہندو کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے چند سا لوں میں یہاں ہندووں کی آبادی مسلما نوں سے زیا دہ ہو گی کشمیر ی آئین کے دونوں دفعات کی بحا لی کے لئے احتجا ج کر رہے ہیں بھارتی فو ج احتجا ج کو روکنے کے لئے کر فیو لگا رہی ہے رمزی کا شا نی اپنے باپ سے پو چھتا ہے کیا ہم اس ملک کے آزاد شہری نہیں ہیں؟ اُس کا باپ کہتا ہے ہم ہندووں کی غلا می میں زند گی گذار رہے ہیں بارہ مو لا آ زاد نہیں میر پور آزاد ہے، سری نگر آزاد نہیں مظفر آباد آزاد ہے شو بیاں آزاد نہیں باغ آزاد ہے 17سالہ نو جواں بے بسی کی تصور بنے ہوئے اپنے باپ کے چہرے پر نظر ڈالتاہے باپ کی آنکھو ں سے آنسو رواں ہوتے ہیں نو جواں کے صبر کا پیمانہ بھی چھلک جا تا ہے اور یہ کسی ایک گھر کا منظرنہیں ایک کروڑ 26لاکھ کی آبا دی میں ہر گھر کا یہی منظر ہے گل رعنا 24سال کی بچی ہے تاریخ میں ایم اے کیا ہے کر فیو سے پہلے مقا می سکول میں پڑھاتی تھی گذشتہ ایک سال سے گھر میں محصور ہے کسی بھی وقت بھارتی فوج گھر میں داخل ہو کر اس کو اُٹھا سکتی ہے اس لئے وہ ہر شام کو آخری شام اور ہر صبح کو آخری صبح قرار دیتی ہے گل رعنا نے لا ک ڈاون سے پہلے گھر میں کتا بوں کا ذخیرہ کر لیا تھا وہ ایم فل کے لئے تحقیقی مقا لہ لکھنا چاہتی تھی وہ اپنی ماں کو بتا تی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلا متی کونسل نے کمشیر یوں کے حق خود ارادیت کے لئے 17قرار داد یں منظور کیں مگر کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہوا وہ اپنی ما ں کو بتا تی ہے کہ 1947ء میں پورا ہندوستان آزاد ہوا صرف کشمیر آزاد نہیں ہوا کسی بھی یو نیورسٹی کی لائبریری میں کسی بھی ریڈیو یا ٹی وی چینل کے ڈیوٹی روم میں اور کسی بھی اخبار کے ڈیسک پر معلومات عامہ کی ایک کتاب مو جو د ہوتی ہے اس کتاب میں دیگر عالمی معلومات کے ساتھ کشمیر کے بارے میں چند اہم حقائق ملتے ہیں 3لاکھ مربع کلو میٹر پر مشتمل مقبوضہ کشمیر کو سری نگر، جمو ں اور لداخ کے تین الگ جعرافیا ئی خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے شاعر مشرق علا مہ اقبال نے اس کو ”وادی لو لاب“ کا نام دیا کشمیر کی وجہ شہرت اس کی خوب صورت جھیلیں بھی ہیں اس خطے میں زعفران کی پیدا وار بھی ہے 1586ء میں جلا ل الدین اکبر کے دور میں کشمیر پر مغلوں کی حکومت قائم ہوئی1747ء میں کشمیر پر افغا نوں کا قبضہ ہوا 1819ء میں مہا را جہ رنجیت سنگھ نے کشمیر کو اپنی قلمرو میں شامل کیا 1843ء میں انگریزوں نے کشمیر کا سودا کر کے ڈوگرہ راجہ گلا ب سنگھ سے 75لاکھ نانک شا ہی سکے وصول کر کے کشمیر کو اس کے با شندوں سمیت ڈوگرہ کے ہاتھ فروخت کیا ”قومے فروختندوچہ ارزان فرختند“ کا مصرعہ اس پر دلا لت کرتا ہے 1947ء میں تقسیم ہند کے منصو بے میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ جس صو بے میں اکثر یتی آبادی مسلمانوں کی ہو گی وہ صوبہ یا ریا ست پا کستان میں شا مل ہو گی کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے اس اصول کو ماننے سے انکار کیا اور کشمیر ہندووں کی غلا می میں چلا گیا کشمیر میں آخری مردم شما ری 2011ء میں ہوئی اس کی رو سے مسلمانوں کی آبادی 86لاکھ ہے ہندو 35لاکھ ہیں عیسائی 35ہزار، سکھ 23ہزار،بدھ مت کے پیرو کار 11ہزار ہیں ایک فیصد سے کم آبادی جین مت اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی ہے کشمیر گذشتہ 72سالوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مو جو د ہے مشرقی تیمور میں عیسائی آبا دی انڈو نیشیا کے مسلمان ملک سے آزاد ی کا مطا لبہ کر رہی تھی مغر بی اقوام نے آزادی کے لئے لڑنے والے دو لیڈروں کا رلوس بیلو اور سنا نہ گسماؤ کو امن کا نو بل انعام دیا سلا متی کونسل نے رائے شماری کر وا کر مشرقی تیمور کو آزادی دلوائی کشمیر میں بھارت کی ہندو اکثریت سے آزادی کا مطا لبہ کرنے والے حریت پسند وں کو دہشت گر د قرار دیا جا تا ہے اور کشمیر میں رائے شما ری سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے اس طرح جہاں مغربی دنیا کا دہرا معیار بے نقاب ہورہا ہے وہاں اقوام متحدہ کی منا فقانہ سفارت کاری کا پردہ چاک ہوتا ہے مگر آخر کب تک یہ کھیل جاری رہے گا کشمیری ایک نہ ایک دن آزادی خا صل کر کے رہینگے۔

Facebook Comments