63

اے کے ایچ ایس پی..بونی میں 28،مستوج اورگرم چشمہ میں 20،20بیڈزپرمشتمل جدیدایمرجنسی رسپانس سینٹربنایاہے جہاں مریضوں کا مفت علاج ماہر ڈاکٹروں کی زیرنگرانی..

چترال ( آوازچترال نیوز )ڈپٹی کمشنراپرچترال شاہ سعود نے اے کے ایچ ایس پی کی جانب سے تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال بونی میں کرونا وائرس کے میل فیمل مشتبہ مریضوں کیلئے دو وارڈز میں 12بیڈز،فوم،کمبل،رضائی،پردے اوردوسرے متعلقہ سامان کی فراہمی کے موقع پر علاقے کے عمائدین، ہسپتال اسٹاف اوردیگرسے خطااب کرتے ہوئے کہاہے کہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان چترال میں کروناوائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کوعلاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بونی میں 28،مستوج اورگرم چشمہ میں 20،20بیڈزپرمشتمل جدیدایمرجنسی رسپانس سینٹربنایاہے جہاں مریضوں کا مفت علاج ماہر ڈاکٹروں کی زیرنگرانی کیاجارہاہے۔سینٹرزمیں جدید آلات نصب کئے گئے ہیں جس سے کرونا مریضوں کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات دی جارہی ہے۔اور کرونا وائرس کے مریضوں کو انتہائی نگہداشت کی سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی چترال مشکل کی اس گھڑی میں سب سے آگے بڑھ کر ذات پات، رنگ و نسل، فرقہ واریت سے بالاتر ہو کرعوام کو کرونا وائرس جیسی مہلک وبا ء سے محفوظ رکھنے کیلئے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ طبی امداد میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔ کسی بھی مشکل وقت میں ان کی خدمات انتہائی لائق ستائش اور قابل تحسین رہی ہیں۔اور ان کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتال،میڈیکل سینٹرز، لیبارٹریز، ایمبولینسز، طبی عملے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ٹیم جس میں مرداورخواتین شامل ہیں طبی سہولیات پہنچانے میں ہروقت مصروف عمل نظر آرہے ہیں۔ اور اپنی بساط کے مطابق ہر قسم کی خدمات جو اس وقت کا تقاضا ہوتی ہیں بخوبی سر انجام دیتی ہے۔ضلعی انتظامیہ اپرچترال پوری ٹیم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے یقینا قابل تعریف ہیں۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی چترال میں صحت عامہ کے معیاری سہولتوں کی فراہمی میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ہے ہرمشکل گھڑی میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کررہے ہیں اورسرکاری ہسپتالوں کے استعدادکارکوبڑھاکر طبی فقدان کوختم کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔
اس موقع پرآغاخان ہیلتھ سروس خیبرپختونخوا اورپنجاپ ریجن کے ریجنل ہیڈمعراج الدین نے کہاکہ چترال میں آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی موجودہ خدمات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وہ ابتدائی اور ثانوی سطح پر بھی کووِڈ19- کے مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) اورصحت کے عالمی ماہرین نے بھی آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے طبی عملے کو کووِڈ19- کے علاج کے مختلف پہلوؤں پر تربیت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ19- کے لیے خدمات،30 بنیادی ہیلتھ سینٹروں، 3 کمپری ہینسو ہیلتھ سینٹرز اور چترال میں واقع ایک میڈیکل سینٹر کے ذریعے فراہم کی جانے والی آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سروسزمیں کسی تعطل کے بغیر فراہم کی جا رہی ہیں۔اسی طرح، آغا خان میڈیکل سینٹربونی بھی تمام طبی یونٹس کسی تعطل کے بغیر سیکنڈری کیئر سروسز فراہم کر رہا ہے۔ اِن خدمات میں متعدد اسپشلائزڈ خدمات مثلاً ڈاکٹر سے مشاورت اور ٹیلی میڈیسن کی سہولتیں شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان نے حکومت اور نجی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اپنے عملے کے ذریعے، جن میں ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں،کووِڈ19- کے حوالے سے آگاہی میں بھی اضافہ کیا ہے۔بنیادی سطحوں اور مختلف فورموں پر، متعدد سرگرمیوں بھی منعقد کی گئی ہیں تاکہ دوردراز علاقوں میں موجود آبادیوں سمیت کمیونٹیز کو بھی اہم معلومات فراہم کی جا سکیں اورکووِڈ19- سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی ڈی ایچ او اپرچترال ڈاکٹر فرمان ولی،فوکل پرسن اپرچترال ڈاکٹرسردارنواز،فوکل پرسن آغاخان ہیلتھ سروس چترال انواربیگ،اے کے ایچ ایس پی کے قدرلنساء اوردیگرموجودتھے۔