44

گولین سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی آمدورفت کی بحالی ممکن نہ ہو سکی ہے

چترال( آوازچترال نیوز ) گولین سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی آمدورفت کی بحالی ممکن نہ ہو سکی ہے ۔ ریسکیو 1122 نے ایمرجنسی بنیادوں پر  دریاء کے اوپر سیڑھیوں کے ذریعے پل بنا کر رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر اس پر سے ہر کسی کا گزرنا مشکل ہے ۔ اس لئے سیلاب سے خوفزدہ لوگ جانی خطرے کے پیش نظر مجبوری کے باوجود سفر کرنے سے گریزان ہیں ۔ راستےکی خرابی کے باعث امدادی کاموں اور امدادی پیکیج کی تقسیم میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ گولین کے معروف سماجی کارکن ریٹائرڈ صوبیدار محمد خان نے فون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ سیلاب کو آئے سات دن گزر گئے ہیں ۔ گھروں میں خوراک ختم ہو چکے ہیں ۔ دکانات اشیاء خوردو نوش سے خالی ہیں ۔ پائپ لائن بہہ جانے سے پینے کیلئے صاف پانی دستیاب نہیں ۔ جبکہ نہروں کا نظام مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے ۔ اور فصلیں پانی کی نایابی کے باعث سوکھ گئے ہیں ۔ لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا جا سکا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جب تک آمدورفت کا نظام بہتر نہیں بنایا جاتا ۔ تب تک لوگوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انتظامیہ کی طرف سے پینتیس فوڈ پیکج اتوار کے روز  وادی کے بالائی گاوں کے لوگوں میں تقسیم کئے گئے ۔ جبکہ وادی کی بڑی آبادی امدادی پیکج سے محروم ہے ۔ درین اثنا گولین کے عوامی حلقوں نے  گولین سڑک ، واٹر سپلائی سکیم اور نہروں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ متاثرین ان مسائل کے حل کی پوزیشن میں  نہیں  ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پل نمبر ون سے پل ٹو تک سڑک ختم ہو چکی ہے ۔ پل نمبر تھری سے فش فارم تک سڑک بھی مکمل طور پر بہہ گیا ہے ۔ اس لئے سڑک کی بحالی کے بغیر متاثرین تک امداد نہیں پہنچائی جا سکتی ۔ مخیر ادارے سڑک نہ ہونے کے باعث متاثرین کی امداد سے قاصر ہیں ۔ لوگوں نے کہا ۔ ایک ہفتےسے ہیلی کاپٹر کا انتظار کیا جا رہاہے ۔ ایک مقامی شخص کی فصل کاٹ کر ہیلی پیڈ بنایا گیاہے ۔ لیکن ہیلی کاپٹر آیا اور نہ کسی کو ریسکیو کیاگیا ۔ جبکہ کئی ڈیلیوری کیسز اور دیگر مریض ریسکیو کیلئے ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے ہیں ۔
Facebook Comments