104

مولانا محمد الیاس منٹوں میں محمد الیاس بنا دٸے گٸے۔………تحریر؛۔مولانا محمد الیاس جیلانی

مولانا محمد الیاس منٹوں میں محمد الیاس بنا دٸے گٸے۔جمعیت علما اسلام لوٸر چترال کیطرف سے سابق تحصیل امیر سابق تحصیل نا ظم مولانا محمد الیاس کی بنیادی رکنیت عرصہ دس سال کیلٸے ختم کرانے کے بعد سوشل میڈیا کا معروف کالم نگار محترم نثار احمد کیطرف سے گلہ و شکوہ سے بھرپور تبصرہ کہ جمعیت علما کیطرف سے بنیادی رکنیت کے خاتمے کے ساتھ ہی مولانا کا سابقہ بھی چھین لیا گیا اور ساتھ ہی اس عمل کو مذھبی طبقے کی عمومی روش سے بھی تعبیر کیا ہے ۔نثار صاحب کی ان دو بنیادی نکات سے اختلاف ممکن نہیں کہ کسی بھی کام میں افراط و تفریط سے بچنا لازمی امر ہے محبت اور بغض کا ایک حد ہونی چاہیٸے ۔جہاں تک لفظ مولانا کا تعلق ہے تو اس نسبت کے حصول کیلٸے جمعیت کا ممبرشب فارم بھرنا ضروری نہیں۔درس نظامی سے جو بھی فارغ التحصیل ہوگا وہ مولانا کہنے کا لاٸق ہوگا ۔اس سلسلے میں یہ بھی گذارش ہے کہ مولانا الیاس کی بنیادی رکنیت ختم کرتے وقت لمبے چوڑے القابات اور خطابات سے مزین کرکے اخراج کا اعلان کرنا بھی لفظ مولانا کی توھین ہے سول اور حکومتی اداروں میں کہیں بھی چارج شیٹ کرتے وقت القابات جوڑنے کی نظیر نہیں ملتی اور یہی اصول شاید سیاسی جماعتوں میں بھی لاگو ہے۔اگر جمعیت کیطرف سے شیخ الحدیث غزالی دوران سحبان الھند حضرت مولانا محمد الیاس کو جمعیت کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا جاتا ہے کہنا بھی خلاف عقل اور نامناسب ہے۔کیا دیکھا نہیں جاتا کہ پیارو محبت سے بھرپور الفاظ کیساتھ کوٸی اپنی بیوی کو بھی طلاق نہیں دیا کرتا ۔غصہ نکالنے سزا دینے اور بدلہ لیتے وقت دل کی بھڑاس نکالنے کیلٸے سخت سے سخت الفاظ کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔لہذا مولانا کے سابقے کو حذف کرنا مولانا کی توھین ہرگز نہیں۔ضلعی جماعت اور مولانا محمد الیاس کی اپس میں سیاسی چپقلش وللناس فیما یعشقون مذاھب والا معاملہ ہے۔ہم کسی پارٹی اور افراد پر الزام ہرگز نہیں لگا سکتے یہ جماعت کا خالص اندورونی معاملہ ہے اور شاید یہ فیصلہ حتمی اور اخری بھی ہرگز نہیں ۔باھمی صلح صفاٸی سے بھی معاملہ حل ہو سکتا ہے اور اپیل کیلٸے بھی مولانا الیاس کے پاس دستوری راستے اور فورم ضرور موجود ہونگے۔البتہ سوشل میڈیا میں علما کا ایک دوسرے کے خلاف صف ارا ہونا ایک المیہ ہے اسے اجتناب بحرحال ضروری ہے۔۔

Facebook Comments