132

گولین سڑک کو نالے کے پانی سے کافی اونچائی پر پہاڑ کاٹ کر تعمیر کیا جائے ۔ تاکہ نقصان سے بچا جا سکے ۔..متاثرہ وادی گولین احتجاج

چترال ( محکم الدین ) سیلاب سے متاثرہ وادی گولین کے سینکڑوں افراد نے ہفتے کے روز چترال بونی روڈ پر مشیلک کے مقام پر احتجاج کیا ۔ متاثرین کامطالبہ ہے ۔ کہ گولین سڑک کو نالے کے پانی سے کافی اونچائی پر پہاڑ کاٹ کر تعمیر کیا جائے ۔ تاکہ بار بار نقصان سے بچا جا سکے ۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ 108 میگاواٹ گولین ہائیڈل پراجیکٹ کی تعمیر کے وقت ہیڈ تک پہنچنے کیلئے پکی سڑک نالے کے پانی کے ساتھ ساتھ تعمیر کی گئی تھی ۔ جو گذشتہ سال کے خوفناک سیلاب میں مکمل طورپر واش آوٹ ہو گیا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ محکمہ واپڈا نے سڑک محفوظ جگہوں سے گذارنے کی بجائے دوبارہ اسی مقام سے مرمت کرکے عارضی بحال کر دی ۔ اب حالیہ سیلاب نے اسے پھر سے ملیامیٹ کر دیا ہے ۔ اور لوگوں کیلئے پیدل راستہ بھی نہیں بچا ہے ۔ اس لئے اب اس روڈ کو دریا سے کافی اونچائی پر تعمیر کرکے محکمہ واپڈا خود اپنےآپ کو اور علاقے کے لوگوں کو نجات دلائے ۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے ۔ کہ گولین وادی سے چترال کے کئی علاقوں کو واٹر سپلائی اور سائفن ائریگیشن کے پائپ اسی روڈ سے گزاری جاتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے سڑک میں نقل و حمل بری طرح متاثر ہو تی ہے ۔ اور روڈ کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ اس لئے اب اس سڑک پر سے یہ پائپ لائن بچھانا انہیں کسی صورت منظور نہیں ۔ گولین سے تعلق رکھنے والے سوشل ایکٹی وسٹ اور سابق کونسلر سفیراللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ لوگ مجبورا احتجاج کر رہے ہیں ۔ کیونکہ ان کی زندگی انتہائی مشکل میں گھری ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایک طرف سیلاب سے لوگ متاثر ہیں اور دوسری طرف واپڈا , عوام چترال اور انتظامیہ ان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں ۔ ہر کوئی اپنا مطلب نکالنے میں لگا ہواہے ۔ متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ایک اور معروف سماجی کارکن ریٹائرڈ صوبیدار محمد خان نے فون پر بتایا ۔ کہ تین دنوں سے ریسکیو کیلئے ہیلی کاپٹر کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ میڈیکل ٹیم کا انتظار ہو رہا ہے ۔ لیکن اب تک نہ ہیلی کاپٹر آیا اور نہ میڈیکل ٹیم کی آمد ہوئی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ خود میرے گھر میں ڈیلوری کیس کامسئلہ ہے ۔ مجھے سمجھائی نہیں دے رہا ۔ کہ میں کیا کروں ۔ اور میں باوجود کوششوں کےاسے ہسپتال پہنچانے سے قاصر ہوں ۔ کیونکہ جو راستے ریسکیو والوں نے بحال کئے ہیں ۔ اس سے صحت مند اور توانا آدمی ہی شاید گذر سکتا ہے ۔ کسی مریض کو خصوصا خواتین کو لے جانا انتہائی مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انتظامیہ کی طرف سے پچاس افراد میں فوڈ پیکیج تقسیم کئے گئے ہیں ۔ اور مزید پچاس پیکج کوغوزی ہسپتال پہنچائے گئے ہیں ۔ لیکن گولین کی تمام آبادی متاثر ہے ۔ جن لوگوں کے پاس خوراک کیلئے گندم موجود ہے ۔ ان کے پاس اسے پیسنے کیلئے پن چکیاں دستیاب نہیں ۔ کیونکہ پن چکیان سیلاب برد ہو چکے ہیں ۔ احتجاجی مظاہرین نے کہا ۔ کہ پچھلے سال کے سیلاب میں جب وزیر اعظم کی بہن حلیمہ خان گولین میں پھنس گئی تھی ۔ تو اگلے روز ہی ہیلی کاپٹر سے اسے ریسکیو کیا گیاتھا ۔ اب بار بار مطالبات اور تین دنوں سے انتظار کے باوجود ہیلی کاپٹر کی آمد نہیں ہو رہی ۔ احتجاجی مظاہرین نے کہا ۔ کہ پہلے روڈ کی تعمیر صحیح معنوں میں کی جائے ۔ اس کے بعد واٹر سپلائی سکیمیں بحال کئے جائیں ۔ مظاہرین نے کہا ۔ کہ ان کے مطالبات منظور نہ کئے گئے ۔ تو وہ دھرنا اور بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ درین اثنا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایڈیشل اسسٹنٹ کمشنرلوئر چترال شہزاد مظاہرین سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

Facebook Comments