61

حکومت فی لیٹر پیٹرول پر47روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے، وفاقی وزیر

اسلام آباد( آوازچترال نیوز) حکومت فی لیٹر پیٹرول پر47روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے سینیٹ اجلاس میں بتایا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت خرید اور ٹیکس برابر ہے، پیٹرول کی قیمت خرید 48روپے 54پیسے ہے جبکہ حکومت پیٹرول پر47روپے 86پیسے اور ڈیزل پر 51روپے 41پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران بات کرتے ہوئے ان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر17فیصد ٹیکس لے رہے ہیں، خطے میں پاکستان میں تیل کی قیمت اس وقت سب سے کم ہے اگر حکومت ٹیکس وصول نہیں کرے گی تو سینیٹ کی لائٹس اور تنخواہ کا خرچہ کون دے گا۔خیال رہے کہ اس سے قبل وزات خزانہ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بتائی گئی ہے۔ وزارت خزانہ نے وزیراعظم عمران خان کو ارسال ہونے والی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ قیمت ہائی سپیڈ ڈیزل 3 روپے سستا کرنے کی تجویز مسترد کی گئی جس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔ خیال رہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد اب ایک مرتبہ پھر پیٹرول کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے حکومتی ٹیکسوں میں اضافہ مسترد کر دیا تھا۔ مطالبہ تسلیم نہ کرنے پر ملک گیر تیل سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سرمایہ کاری سمیت کاروبار کی اجازت دی جائے۔ ایسو سی ایشن نے حکومت کو 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی۔مزید مطالبہ کیا کہ کمرشل لوڈنگ،صوبائی سروس اورٹول ٹیکس کو بندکیا جائے۔پرانے طرز کی گاڑیوں کے حوالے سے پالیسیوں کو واضح کیا جائے۔ علاوہ ازیں کرائے بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا۔ آئل کمپنیوں نے ملک میں یورو5 پٹرول لانے کی مخالفت کردی،یورو5 معیار لانے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7روپے فی لیٹر کا مزید اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں25 روپے فی لیٹر تک کمی کی تو آئل کمپنیوں نے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس کروایا اور ملک بھر میں پٹرول کی قیمت74 روپے فی لیٹر سی100روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

Facebook Comments