115

گولین,پرکشش اورصحت افزاء مقام تباہی کے دہانے پر۔……..محمد آیوب کوغذی

گولین قدرت کا بنایا ایک پرکشش اور صحت افزاء مقام ہے جو آجکل عتاب خداوندی کے لپیٹ میں ہے۔پچھلے دو ایک سالوں سے نصف گولین کی تباہی وبربادی پوری چترال دیکھ رہی ہے، خدا نخواستہ یہ سلسلہ پورے وادی ہی کو لپیٹ میں نہ لے۔ گلوبل وارمینگ سے لیکر علاقے میں Glof تک کے فلسفے کو ہم دل وجان سے ماننے کے لئے تیار ہیں مگر علاقہ مکین اصل حقیقت کو جان، مان کر بھی حقیقت سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔ لہذا علاقے میں بربادی کے ان تمام فکٹر کے علاوہ کہیں وادی گولین کی تباہی کا ایک اور عنصر کسی کی حق تلفی تو نہیں ہے؟۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہم تھوڑا پیچھے جاتے ہیں۔

 میتار آمان الملک کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا افراسیاب کو 1892 میں گولین کی پوری جائداد ورثے میں ملی تھیں۔ کہیں زرعی زمین تو کہیں شکار گاہ اور چراگاہ وادی کے شروع سے لیکر کروئے اوچ اور پرگام آن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ میتار ژاو افراسیاب کے پانچ میں سے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کی پیدائش کے بعد وادی کے مختلف دیہات میں پرورش کی گئی ہے لہذا ایک طرف سے دونوں اقوام کا آپس میں دودھ کا رشتہ بھی رہا ہے، جسکی ہر طرح سے پسران افراسیاب پاسداری کرتے آئے ہیں، اور اس رشتے کے عوض دو دیہات کو افراسیاب کی طرف سے بڑی بڑی جاگریں بھی دی گئی ہیں۔گولین کے آپس میں بھائیوں کی طرح رہنے والے اقوام کے درمیان تنازعہ اسوقت سے شروع ہوئی جب بھٹو دور میں مشہور زمانہ لینڈ ریونیو ایکٹ نافذوعمل ہوئی۔ چراگاہ، اور غیر آباد زمین ریاست پاکستان کا ہے کہہ کر علاقہ مکین1976۔ 77 میں گولین کے طول و عرض میں افراسیاب کے بیٹوں کے مروثی و سند شدہ جائدادوں پر ایسا قبضہ جمانے لگے جیسے کہ بھٹو کی جاگیر تھیں، جو اب گولینیوں کو سونپ دی گئی ہے۔ ہر طرف لا قانونیت اور قبضہ مافیا کا راج ہونے لگا، میتار ژاوان کے 21 چراگاہوں،زرعی ارضیات اور غیر آباد زمینوں پر مکین علاقہ قبضہ کر بیٹھے۔ ایک دو جگہوں پر ان ہی لوگوں کی پشت پناہی سے پشت در پشت بکروال گجر بھی قابض ہونے میں کامیاب ہوئے۔

مخصوض افراد کی زیر سرپرستی علاقے میں جنگلی حیات و جنگلات کی بہتات تھیں، کسی کی کیا مجال کہ بغیر اجازت کے شکار کھیلے یا ایک گیلی درخت کاٹ دے۔ جونہی اس قبضے کے بعد وادی میں موجود جنگلی حیات جن میں آئی بیکس کی بے دریغ شکار ہونا شروع ہوئے، اور اوریاڑ کی نسل آج علاقے میں ناپید ہے علاوہ قدرتی صنوبر کے حسین جنگلات اور گولین جنگل میں موجود دیوہکل بیرج اور بید وغیرہ کے جنگل بے دردی سے گرانا شروع ہوئے اور چند سالوں کے بعد یہ جگہ ضرف نام کا جنگل رہا جسے آج بھی جنگل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ گولین میں یہ جنگل نامی علاقہ، علاقہ مکینوں کے بجائے ریاست چترال ہی کی ملکیت رہی ہے جو چترال ریاست کا پاکستان میں مارج ہونے کی صورت میں ریاست پاکستان کی سرکاری زمین قرار دی گئی۔ جہاں ریاست ختم ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ لوئر چترال کے مختلف دیہات سے لوگ اپنے مال مویشی چرانے لے جاتے اور گرمیوں میں دو تین مہینے یہاں رکھ کر واپس لے جاتے،مگر بعد میں اس سرکاری زمین کو بھی قبضہ گروپ نے نہیں بخشا اور اس بڑے ایریے کے ذیادہ تر حصے پر قبضہ جما بیٹھے۔
چونکہ لینڈ ریونیو ایکٹ 74 کے مطابق تمام چراگاہ، ریور بیڈ سٹیٹ پراپرٹی قرار دئے گئے ہیں مگر اس کی مزیدوضاحت یہ بھی کردی گئی ہے کہ آن سرکاری قرار دئے گئے زمینوں پر حق استفادہ ان لوگوں کو حاصل ہوگا جن کے زرعی زمینات یا گھر اس کے اوپر نیچے آتے ہوں۔
گولین کے شروع سے آخر تک کے ہر دیہات کے قانونی حدبندی کو مہترجوان تسلیم کرتے آئے ہیں، اور کبھی بھی کسی گاوں کے ذرہ برابر زمین پر حق جتانے کی کوشش نہیں کئے ہیں مگر گولین کے عمر رسیدہ حضرات حقیقت جان کر بھی حق تلفی پر اُتر آئے ہیں یا خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور دور حاضر کے نوجوان نسل کو غیر آباد زمینوں پر قبضے کی کھلی چھٹی دے رکھے ہیں جو جا بجا مہتر جوان کے مروثی جائدادوں پر قبضے کو فخر سمجھتے ہیں۔
جس جگہے میں پرسوں glof ہوئی ہے، یہ بھی افرسیاب کے ایک بیٹے کا جاگیر رہا ہے جو 1975۔ 76میں علاقہ مکینوں نے قبضہ کیا ہے۔
اس تمام تحریر کا مقصد یہ ہے کہ وادی گولین میں سالانہ جو تباہی ہو رہی ہے، گلوبل وارمینگ وغیرہ کے علاوہ ایا اس کی ایک وجہ کہیں دوسروں کے حقوق پر نا جائز طریقوں سے ڈاکہ ڈالنا تو نہیں ہے؟۔ جی ہاں اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اللہ کے نزدیک کسی کا حق ضائع کرنا گناہ اعظیم ہے، جسکا ذکر قرآن حکیم میں بار بار آئی ہے مگر سب کچھ اچھی طرح جان کر بھی یہ کام علاقہ مکین پچھلے44 سال سے نبھاتے آرہے ہیں، جسکا خمیازہ ایسے قدرتی آفات کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور اب بھی علاقے کے باشندے توبہ استغفار اور کئے گئے گناہوں سے معافی نہ مانگیں تو آنے والے وقتوں میں یہی گلاف پورے وادی کو لپیٹ میں لینے کی پیش گوئی خارج از امکان نہیں ہے، اور آخر میں نتیجہ کھوار مقولے کے عین مطابق”نا تتے ڈوری نا متے کیپینی“ ہوکر سامنے آنے کی صورت کو سب چترالی آنے والے وقتوں میں خود دیکھیں گے، کیونکہ ہمارے یہ تمام عملیات ظلم کے ذمرے میں آتے ہیں، اور اس ظلم کی ایک حد مقرر ہوتی ہے جس کے بعد جلال خداوندی کا طیش میں آنا اور ایسے قدرتی آفات آنا اظہر من شمس ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو حق پر جینے، مرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
نوٹ۔ میرے اس تحریر کا مقصد کسی پر انگلی اُٹھانا یا کسی کی دل آزاری ہر گز نہیں ہے، بلکہ علاقے کے بارے تلخ مگر بھر مبنی حقائق سامنے لانے کی چھوٹی سی کوشش ہے۔ شکریہ

Facebook Comments