47

ازغور گلیشئرکی جھیل کے مزید ٹوٹ پھوٹ اور سیلاب کے خدشات ہیں۔ اس لئے مقامی لوگ انتہائی خوف میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں.سفیراللہ

چترال (محکم الدین) گذشتہ روز چترال کے سیاحتی مقام گولین میں گلیشئر کے پھٹ جانے سے آنے والے سیلاب کے خوف نے پوری وادی کو منگل کے روز بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ جبکہ متاثرین نے گلیشئر کے مزید پھٹ جانے کے خوف سے پہاڑوں کے دامن میں محفوظ مقامات میں رات گزاری۔ گولین کے معروف شوشل ایکٹی وسٹ سفیراللہ نے اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا۔ کہ ازغور گلیشئرکی جھیل کے مزید ٹوٹ پھوٹ اور سیلاب کے خدشات ہیں۔ اس لئے مقامی لوگ انتہائی خوف میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ تاکہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے کہا۔ کہ اس وقت سب سے اہم کام آمدو رفت کی بحالی ہے۔ تاکہ وادی کے لوگوں کا رابطہ چترال شہر سے ہو سکے۔ جس کے بعد لوگ ہسپتالوں تک پہنچنے کے قابل ہو سکیں گے۔ اور اپنی خوراک اور دیگر ضروری اشیاء حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ گذشتہ روز میڈیا میں نقصانات کی پوری تفصیل نہیں دی گئی۔ جبکہ سیلاب نے علاقے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا ہے۔ جس میں گولین ہائیڈل پاور سٹیشن کے ہیڈ، سڑکوں، پائپ لائنوں کے علاوہ گھروں، دکانوں مسجدو مدرسہ، فصلوں، باغات اور زمینات کو زبر دست نقصان پہنچا ہے۔ اور اس علاقے کے لوگ مستقل بنیادوں پر ہجرت کرنے پر مجبور ہ گئے ہیں۔ علاقے کے ایک اور سماجی کارکن ریٹائرڈ صوبیدار محمد خان نے گولین سے فون پر بتایا۔ کہ انتظامیہ نے سیلاب سے پہلے فوڈ آئیٹم اور ٹینٹ وغیرہ وادی میں سٹاک کیا تھا۔ جو کہ متاثرین کیلئے یہاں موجود ہیں۔ فی الحال ازغور گلیشئرکے قریب پانچ گھرانے مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔ سیلاب کے باعث پُل ٹوٹ جانے کی وجہ سے نقل و حمل ممکن نہیں۔ ان افراد کو خوراک کی ضرورت ہے تاہم رابطہ نہ ہونے پر ان تک خوراک نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گولین کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے۔ وہ راستے کی بحالی ہے۔ کیو نکہ وادی کی بڑی آبادی میں کئی ڈیلیوری کیسز ہیں۔ اگر راستہ بروقت نہ کھولا گیا۔ تو ڈیلیوری کیسز میں خدا نخواستہ جانی خطرات بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں کئی مقامی سیاح اور تبلیغی جماعت کے افراد بھی پھنس گئے ہیں جو پیدل راستے کے کُھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ درین اثنا ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے پشاور سے چترال پہنچنے کے بعد گولین ویلی کے ابتدائی مقام مشیلک میں سیلاب کا جائزہ لیا۔ اور امدادی کاموں میں مصروف ریسکیو 1122 چترال پولیس چترال لیویز کے کام کی تعریف کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہماری قبل از وقت سٹریٹیجی کامیاب رہی انشا اللہ گولین وادی میں خوراک اور دیگر اشیاء کی قلت نہیں ہو نے دیا جائے گا اور پیدل راستہ بھی فوری طوری پر بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ ا فراد سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہ میں ان حادثات سے دل شکن نہیں ہونا چاہیے، املاک کی تعمیر دوبارہ ہو سکتی ہے۔ لیکن جان سب سے قیمتی چیز ہے یہ اللہ کا شکر ہے کہ سیلاب میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

Facebook Comments