49

پی ٹی آئی حکومت 15مقامات پر ماڈل نیشنل پارک بنانے کا اعلان کیا ہے تو پہلے سے موجود اور عالمی سطح پر مشہور اس نیشنل پارک کونظر انداز کردیا ہے۔

چترال (نمائندہ ا ٓوازچترال  ) چترال گول نیشنل پارک میں جنگلی حیات اور درختوں کی غیر قانونی شکار اور کٹائی کے خطرات پر خاموشی برتنے اور کمیونٹی واچروں کو گزشتہ دس ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر محکمہ وائلڈ لائف کی خاموشی اور غفلت کے خلاف سول سوسائٹی کے نمائندوں نے چترال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایسے حالات پید اکرنے کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا اور کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت 15مقامات پر ماڈل نیشنل پارک بنانے کا اعلان کیا ہے تو پہلے سے موجود اور عالمی سطح پر مشہور اس نیشنل پارک کونظر انداز کردیا ہے۔ چترال گول نیشنل پارک سے متصل گیارہ دیہات میں قائم ویلج کنزرویشن کمیٹیوں کی نمائندہ تنظیم نیشنل پارک ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں نے نیشنل پارک میں جنگلی حیات اور درختوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات پر مشتمل نعرے لگائے جبکہ ان مطالبات پر مشتمل کتبے بھی اٹھارکھے تھے۔ نمائندہ ایسوسی ایشن کے صدر عالم زیب ایڈوکیٹ اور ویلج صدور حسین احمد، ظفر علی شاہ،ریاض احمد دیوان بیگی، اشفاق احمد،اعجاز احمد، علی خان، مسرور علی شاہ، خورشید احمد، رحمت علیم، عزیز اللہ اور دوسروں نے کہاکہ 1984ء میں نیشنل پارک کے قیام کے وقت مارخوروں کی تعداد 200تھی مگر اب کمیو نٹی کی تعاون کی وجہ سے یہ تعداد چھ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور دوسرے جنگلی حیات کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے اور دیودار کی جنگل بھی پہلے سے ذیادہ رقبے پر پھیل گئی ہے مگر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اپنی ذمہ داری اور متاثرہ دیہات کے ساتھ کی گئی وعدے کو نبھانے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے کنزرویشن کا کام خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1998ء میں ورلڈ بنک کی مالی تعاون سے اس نیشنل پارک میں کمیونٹی کی شراکت کے لئے 22کروڑ روپے پر مشتمل انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس سے ملنے والی آمدنی سے کمیونٹی واچر مقرر کئے گئے اور ویلج کنزرویشن کمیٹیوں نے مختلف ترقیاتی منصوبے بھی سر انجام دئیے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج منسٹری سے انڈومنٹ فنڈ سے سالانہ آمدنی کا حصول اور چترال میں کمیونٹی کو پہنچانا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کی ذمہ داری ہے جس میں وہ گزشتہ دس مہینوں سے ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے 30کے لگ بھگ کمیونٹی واچروں کو تنخواہ کی بندش کی وجہ سے ڈیوٹی دینا بند کردی ہے اور اب نیشنل پارک مکمل طور پر غیر قانونی شکاریوں اور ٹمبر چوروں کے رحم وکرم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ نہ صرف اسلام آباد سے فنڈز کے حصول اور کمیونٹی واچروں کو ادائیگی کے لئے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں بلکہ اس تاخیر کے مرتکب وائلڈ لائف افسران کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ 18ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں اس انڈومنٹ فنڈ کو اسلام آباد سے صوبے اور پھر چترال میں وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی مسئلہ پید ا نہ ہو۔ احتجاجی مظاہرہ بعدازاں پرامن طور پر منتشر ہوگئی۔

Facebook Comments