206

چیرمین زکواۃ کمیٹی کی سرکاری گاڑی میں بکرآباد کے پولیس چیک پوسٹ میں بھاری مقدار میں چرس اور شراب کی برامدگی کی خبر وائرل۔چترال پولیس کے مطابق خبر من گھڑت

چترال (نمائندہ ا ٓوازچترال) اتوار کے روز سوشل میڈیا میں ضلعی زکواۃ کمیٹی کے چیرمین محمد قاسم کی سرکاری گاڑی میں بکرآباد کے پولیس چیک پوسٹ میں تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں چرس اور شراب کی برامدگی کی خبر وائرل ہوگئی اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولیس اسٹیشن چترال کے ایس ایچ او سجا د حسین نے رابطہ کرنے پر سوشل میڈیا میں لگائی گئی اس پوسٹ کو من گھڑت قرارد یتے ہوئے کہا کہ زکواۃ ڈیپارٹمنٹ کی گاڑی کو بکرآباد چوکی پر روک کر تلاشی لینا معمول کی بات تھی لیکن اس گاڑی سے منشیات کی برامدگی کی خبر درست نہیں۔ انہوں نے کہاکہ گاڑی کو چلانے والے پی ٹی آئی کے ایک مقامی رہنما شفیق الرحمن نے بعدازاں تھانے میں آکر سرکاری گاڑی کی تلاشی پر احتجاج کرکے چلے گئے تھے جبکہ انہیں بعد میں اس خبرکے وائرل ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔ دریں اثناء شفیق الرحمن نے چترال پریس کلب میں صحافیوں کو بتایاکہ وہ پی ٹی آئی کے لیبر ونگ کے ملاکنڈ ڈویژن کے جائنٹ سیکرٹری اور ضلعی زکواۃ کمیٹی کے چیرمین محمد قاسم کے پرسنل سیکرٹری کے طور پر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ اتوار کے صبح وہ اپنے گاؤں اٹانی سے ضلعی چیرمین زکواۃ کی سرکاری گاڑی میں چترال شہر آرہے تھے کہ بکرآباد کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر ان کی گاڑی کو روک کر ڈیوٹی پر موجود ہیڈ کنسٹیبل نے تلاشی لینا شروع کردیا اور اسی اثناء مخالف سمت سے پی ٹی آئی کے کارکنان شاہداحمد (خورکشاندہ)، ضیاء الرحمن ریحانکوٹ، عمران خان بروز، صلاح الدین دولومچ اور احسان خورکشاندہ آتے ہوئے ان کی گاڑی کی تلاشی دیکھ کر اپنی گاڑی سے اتر گئے اور ان میں سے شاہد احمد کو انہوں نے موبائل فون سے تصویر لیتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ عین اس تلاشی کے دوران پی ٹی آئی لویر چترال کے صدر سجا د احمد خان کو بھی انہوں نے اس چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا جوکہ وہاں رکے بغیر چلے گئے۔ شفیق الرحمن کا کہنا تھاکہ ان کی گاڑی میں کوئی قابل اعتراض چیز یا منشیات نہیں تھے لیکن پارٹی میں ان کے مخالفین نے ان کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگادی جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلعی صدر سجا د احمد خان اور ضلعی چیرمین زکواۃ کے درمیان اختلافات موجود ہیں کیونکہ ضلعی صدارت کے حصول کے بعد سجاد احمد خان کامحمد قاسم کے ساتھ رویہ بدل گیا ہے جس کے بل بوتے پر وہ صدر بن گئے ہیں۔ ان ک دعویٰ تھاکہ فیس بک کے جس آئی ڈی سے یہ خبر پوسٹ ہوئی ہے، وہ جعلی ہے اور وہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ درین اثناء جماعت اسلامی ضلع لویر چترال کے سیکرٹری فضل ربی جان نے کہا ہے کہ زکواۃ کمیٹی کی گاڑی سے منشیات کی برامدگی کی سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کی مکمل تحقیقات کی جائے اور اصل صورت حال کو عوام کے سامنے لایا جائے جس میں اگر صداقت ہو تو اس گھناونے کھیل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سز ا دی جائے۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہاکہ محکمہ زکواۃ کی سرکاری گاڑی سے منشیات برامد ہونے کی خبر پر عوام میں پریشانی کا پھیل جاناقدرتی امرہے اور اگر انکوائری کے نتیجے میں یہ خبر جھوٹ اور من گھڑت ثابت ہوتو بھی ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

Facebook Comments