73

استاذ الاساتذہ مولاٸی جان مرحوم…….تحریر؛۔مولانا محمد الیاس جیلانی

استاذ الاساتذہ مولاٸی جان مرحوم کے بارے میں مجھ جیسے ناچیز کیطرف سے نوک قلم کو حرکت میں میں لانا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔اپ چترال کی نامی گرامی شخصیات میں سے ایک تھے اور بلاریب مانا ہوا اور مستند شخصیات گر بھی تھے کہ جنہوں نے وساٸل و سہولیات سے عاری دور میں شمع علم جلاٸے رکھا اور ہزاروں شمع محفل ترتیب دے گٸے۔انکی نماز جنازہ میں مختلف طبقات فکر اور شعبہاٸے ذندگی سے تعلق رکھنے والوں کی جم غفیر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں لگا کہ اپ لوگوں کے جسموں پر اگرچہ نہیں تو روحوں پر حکومت کرنیوالوں میں سے تھے اور اسطرح کی مقبولیت پیشہ پیغمبری سے وابستہ افراد کو حقیر اور کمتر سمجھنے والوں کے منہ پر ایک تازیانہ سے کم نہیں بشرطیکہ استاذ اپنے پیشے سے مخلص ہو ۔یقینا مولاٸی جان استاذ جیسے نابغہ روزگار شخصیات روز روز عالم عدم سے منصہ شہود کی طرف جلوہ افروز نہیں ہوا کرتیں ایسے افراد نایاب ہوتے ہیں۔اپ علم و عمل کے پیکر تحمل بردباری کے کوہ گراں اور سادگی و انکساری میں اپنی مثال اپ اور لاٸق تقلید تھے۔اپ موجودہ سینٹینیل سکول کے فیض یافتہ تھے ۔میٹرک تک تعلیم یہیں سے حاصل کی تھیں۔اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ طلبا یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن مولاٸی جان مرحوم نے میٹرک کا امتحان بھی پشاور یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا تھا کیونکہ اسوقت بورڈ وغیرہ کا شیوع نہیں ہوا تھا۔۔میٹرک کے بعد اپ بحیثیت استاذ محکمہ تعلیم سے منسلک ہوگٸے۔ایف اے بی اے اور ایم اے کے امتحانات میں پراٸیویٹ امیدوار کے طور پر شریک ہوکر اعلی نمبروں سے کامیابیاں سمیٹتے رہے۔اپ تدریسی اور انتظامی صلاحیتوں سے مالامال تھے۔شاگردوں کو مشکل سے مشکل سبق بھی باسانی سمجھانے کا بھرپور ملکہ رکھتے تھے۔طبیعت کے لحاظ سے انتہاٸی نرم مزاج اور درویشانہ خو سے متصف تھے۔اپ کے سامنے شاگردی کے اداب بجا لانے والوں کے بقول مرحوم طلبا سے سبق یاد کرانے اور مشقی کاموں کے حوالے سے ڈنڈے کا کھبی سہارا نہیں لیا کرتے تھے بہت زیادہ غضبناک ہوتے تو پیشانی کی ابھرتی شکنوں سے ہم پہچان لیتے تھے لیکن جلد ہی ہنسی و خوشی کی لکیریں نمودار ہوتی تھیں اور تلامذہ بھی اپنے عظیم استاذ کی شرافت کا لاج رکھتے ہوے ہر وقت انکے سامنے جبین نیاز خم کٸے رکھتے تھے۔اپ سینٹینیل سکول میں بحیثیت اے سی ٹی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انچارج پرنسپل کے طور پر بھی طویل عرصے تک انتظام و انصرام بھی بحسن و خوبی نبھاٸے رکھا اور ساتھ ہی ال ٹیچر ایسوسی ایشن کا صدر ہونے کے ناطے اساتذہ مساٸل کے حل کے لیٸے بھی فعال کردار ادا کرتے رہے تقریبا دس سال تک ایسوسی ایشن کا صدر رہے۔اپنی قاٸدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اے ڈی او اسٹبلشمنٹ کے عہدے پر بھی ایک کامیاب اور ذی استعداد منتظم کے طور پر بھی ایک عرصے تک متمکن رہے اور یوں ایک طویل دورانٸہ گذارنے کے بعد ریٹاٸرڈ ہوگٸے لیکن کتابوں کے ساتھ عشق اور علم سے محبت نے اپکو گھر ٹکنے نہیں دیا اور پیپلز ورکس سکول کی انتظامی پوسٹ سنبھالنے کیٸے قرعہ فال اپکے نام نکلسالوں تک سکول کا نظم و نسق بہترین انداز میں چلاتے رہے اسی دوران ایک علم دوست شخصیت یار محمد خان کی دور رس نگاہیں اپ پر مرکوز ہوگٸیں انکی شدید خواہش اور اصرار پر چترال ماڈل کالج کے ساتھ منسلک ہوگٸے اور کالج کے بانی مبانی رکن کے طور پر اپنی تدریسی صلاحیتوں سے طلبا کو روشناس کراتے رہے اور انتظامی تجربات یار محمد سے شیٸر کرتے رہے اور یوں کالج کے أغاز سے لیکر دسمبر 2018 تک تدریسی اور مشاورتی خدمات انجام دیتے رہے اور یوں اسٹیٹ کے زمانے سے لیکر 2018 تک ہزاروں کے حساب سے نیک نام شاگرد پیدا کٸے جو ضلعی صوباٸی اور ملکی سطح پر اہم اہم عہدوں پر ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ان سب کا نام ضبط تحریر میں لانا ممکن نہیں۔کثرت تلامذہ کے حوالے سے استاذ مرحوم کو یہ منفرد مقام بھی حاصل ہے کہ اپکی تدریس کا سلسلہ چار پشتوں تک پھیلا ہوا ہے۔حضرت استاذ مرحوم کو رب کاٸنات نے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ۔اپ اردو کے بہترین استاذ اور ادیب تھے فارسی پر بھی کافی عبور رکھتے تھے انگریزی ادب سے بھی شناساٸی رکھتے تھے۔اپ ایک باکمال مدرس ہی نہیں بلکہ اقوام عالم خصوصا چترال کی تاریخ کا ایک نمایاں باب تھے۔چترال کی تاریخ کے مختلف حالات و واقعات اور مرور زمانہ انکو ازبر یاد تھے ۔انکی قوت حافظہ کو دیکھ کر رشک اتا تھا اور ذہن کی سکرین پر یہ حقیقت گردش کرتی تھی کہ اپ واقعی دل کے کھرے اور افکا رو خیالات کے سچے تھے اور ایسے ہی درویش صفت اور پاکباز لوگوں کو ہی مضبوط قوت حافظہ ملا کرتی ہے اور ساتھ ہی بے پناہ قوت ارادی بھی رکھتے تھے پچھلے چند سالوں موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی اپکی معمولات ذندگی جوں کی توں برقرار رہیں۔اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انسان کی شرافت و بزرگی اور اخلاقی پستی و بلندی کا اندازہ انکی گھریلو ذندگی سے لگایا جاسکتاہے بعض افراد گھر کے اندر انتہاٸی نرم خو اور شریف اور کاروبار ذندگی میں داخل ہوتے ہی سخت دل اور تند خو بن جایا کرتے ہیں اور بعض برعکس ذندگی گذارتے ہیں۔حضرت استاذ مرحوم کی گھریلو ذندگی کے بارے میں انکے فرزند نوید اقبال کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر بہن بھاٸیوں میں سے میں ہی شرارتیں ذیادہ کیا کرتا تھا لیکن مجھے کھبی یاد نہیں پڑتا کہ میری کسی شرارت پر ابو نے مجھے مارا ہو یا ناگواری کا اظہار کرکے گھور کر بھی دیکھا ہو بلکہ ہروقت پیار محبت اور الفت سے پیش ایا کرتے تھے اور گھر کے اندر تمام پوتوں پوتیوں نوسوں اور نواسیوں کو اصل نام کے علاوہ اپنی طرف سے پیارومحبت سے بھرپور علحیدہ علحیدہ ناموں سے پکارا کرتے تھے۔بحرحال حضرت استاذ مرحوم چترال کا ایک انمول ہیرا اور قیمتی اثاثہ تھے۔انکی وفات سے چترال کی تاریخ کا ایک اہم باب بند ہوگیا اور اہل چترال ایک عظیم روحانی باب ایک مورخ ایک کامیاب منتظم اور ایک صاحب الراٸے انسان سے محروم ہوگٸے۔مرحوم کے چھبیٹے محترم جاوید اقبال محترم اختر اقبال نوید اقبال اطہر اقبال ا ظہر اقبال اور سعود اقبال سب کے سب برسر روزگار اور اپنے عظیم والد کے رنگ میں رنگے ہوے ہیں جبکہ ایک بیٹی فوت ہوچکی ہیں اورایک بیٹی موجود ہیں۔رب کاٸنات خاندان سمیت ان سبکو صبر جمیل سے نواز دے اور مرحوم استاذ کروٹ راحتیں اور نعمتیں عطا کردے۔

Facebook Comments