82

رہنما تحریک انصاف عظمیٰ کاردار کو پارٹی سے نکال دیا گیا

لاہور( آوازچترال نیوز) رہنما تحریک انصاف عظمیٰ کاردار کو پارٹی سے نکال دیا گیا، قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب کی جانب سے جاری تحریری فیصلے کے مطابق خاتون رکن اسمبلی کی بنیادی جماعتی رکنیت ختم کر دی گئی، آئندہ سے کسی پارلیمانی عہدے کی اہل نہیں رہیں، فیصلے کو 7 روز کے اندر پارٹی اپیلٹ کمیٹی میں چیلنج کر سکتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب نے پارٹی رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے نکال دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ خاتون اول کیخلاف کی گئی نازیبا گفتگو کے معاملے پر عظمیٰ کاردار سے 15 روز کے دوران جواب طلب کیا گیا تھا۔   کمیٹی نے عظمیٰ کاردار کو موقف سننے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا کہ ان کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی جائے۔ عظمیٰ کاردار کا نے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔ ان کا رویہ غیر منساب اور منصب کے شایان شان نہیں تھا۔ عظمیٰ کاردار آئندہ سے کسی پارلیمانی عہدے کیلئے اہل نہیں رہیں۔ خاتون رہنما اس فیصلے کیخلاف 7 روز کے اندر پارٹی اپیلٹ کمیٹی سے رجوع کر سکتی ہیں۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل عظمیٰ کاردار کے نام سے منسوب ایک کال سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ عظمیٰ کاردار نے اس لیکڈ کال میں فیاض الحسن چوہان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، مہرتارڑ، فردوس عاشق اعوان کے خلاف بات کی تھی۔ جبکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خاتون اول کیخلاف بھی نازیبا گفتگو کی تھی۔ اس لیکڈ کال کے بعد عظمیٰ کاردار کو ترجمان وزیراعظم پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ جبکہ اب ان کی پارٹی رکنیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔

Facebook Comments