55

داد بیداد…یو نیورسٹی کی تعمیر….ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

وفاق اور صو بائی حکومت نے اپنا بجٹ پیش کیا وفاقی حکومت نے چو تھی بار چترال یو نیور سٹی کے لئے گرانٹ دیدی صو بائی حکومت نے چو تھی با رچترال یو نیور سٹی کے لئے کوئی گرانٹ نہیں دی سینئر صحا فیوں کے پا س جو معلو مات جمع ہیں ان معلومات کی رو سے خیبر پختونخوا میں سب زیا دہ یو نیورسٹیاں جنرل مشرف اور جنرل افتخار حسین شاہ نے بنوائیں ان کی ایک خو بی یہ ہے کہ تعلیمی سر گر میوں کے ساتھ تعمیرا تی کام بھی ان کے دور حکومت میں مکمل ہو گئیں ان میں سے بعض یو نیورسٹیوں نے 10سا لوں کے اندر اپنی رینکنک بہتر بنائی بعض یو نیورسٹیوں نے صو بائی افیسروں کی تر بیت کے لئے اکیڈ یمی کا درجہ بھی حا صل کیا آصف زرداری اور امیر حیدر خان ہو تی نے بھی صوبے میں نئی یو نیورسٹیاں قائم کر نے میں اپنا مثبت کر دار ادا کیا ان کی بنائی ہوئی یو نیورسٹیوں نے بھی تعلیمی میدان میں نام کمانے کے ساتھ اپنی تعمیرا تی شعبے میں بھی بہت پیش رفت دکھائی پا کستان تحریک انصاف کی قیادت سے بھی اسی قسم کی توقعات وابستہ ہیں لیکن صوبے میں 7سال اور ملک میں 2سال حکومت کرنے کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی 2017ء کے وفاقی بجٹ میں چترال یو نیورسٹی کے تعمیراتی منصو بے کے لئے دو ارب 97کروڑ روپے رکھے گئے تھے اگر صوبائی حکومت زمین کی خریداری کے لئے 88کروڑ روپے دے دیتی تو تعمیراتی کام شروع ہو جا تا لیکن ایسا نہیں ہوا چترال یونیورسٹی کا افتتاح پا کستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان نے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک اور کھیلوں کے وزیر محمود خان کے ہمراہ کیا تھا ”مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یا د ہو“ افتتاحی تقریب میں محمود خا ن پہلی صف میں بیٹھے تھے عمران خان اور پر ویز خٹک کی تقریروں پر ہم نے جوتا لیاں بجائیں محمود خان کی تالیاں بھی اس میں شامل تھیں اپنی تقریرمیں جب عمران خان نے کہا کہ چترال کی یو نیورسٹی ملا کنڈ ڈویژن کی یونیورسٹیوں میں نام پیدا کریگی تو میرے سامنے والی نشست پر بیٹھے ہوئے محمود خان نے سب سے زور دار اور کڑا کے دار تا لی بجائی اور عمران خان تقریب کے اختتام پر سٹیج سے نیچے آئے تو محمود خان نے آگے بڑھ کر انہیں مبارک باد دی اب یہ تاریخ کا حصہ ہے 2017سے 2020تک صو بائی حکومت نے چترال یو نیورسٹی کے لئے زمین حا صل کرنے پر ایک پا ئی خرچ نہیں کی وفاقی منصوبہ بندی کمیشن اور ہائیر ایجو کیشن کمیشن کی معائنہ ٹیمیں ہر سال چترال یو نیورسٹی کا معائنہ کر نے کے لئے آتی ہیں تو صو بائی حکومت کی طرف سے ہائیر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کے نما ئندے بھی ان کے ہمراہ ہو تے ہیں معائینہ ٹیمیں چار چیزوں کو دیکھتی ہیں پہلی چیز یہ ہے کہ یو نیورسٹی میں تعلیمی سر گرمیوں کا کیا حال ہے، امتحا نا ت کا کیا معیار ہے، سالانہ داخلوں کی شرح کیا، یو نیورسٹی کی آمدنی کتنی ہے اور یو نیورسٹی میں تعلیمی معیار کی پیما ئش (QEC) کس نو عیت کی ہے یو نیورسٹی کے اندر علمی تحقیق، سیمنار وغیرہ کس نو عیت کے ہیں؟ یو نیورسٹی کے کتنے تحقیقی جرائد کو ہائیر ایجو کیشن کمیشن نے تسلیم شدہ کی گارنٹی دی ہے؟ اور بیرون ملک یو نیورسٹیوں کے ساتھ علمی تحقیق کے حوالے سے یو نیورسٹی نے کس سطح پر مل جل کر کام کرنے کے معا ہدے کئے یو نیورسٹی کے طلباء اور طا لبات کو کتنے سکا لر شپ ملے، یو نیورسٹی کے اسا تذہ کو بیرون ملک ڈاکٹر یٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے کتنے سکا لر شپ دیئے گئے ان معیارات پر چترا ل یو نیور سٹی کا شمار ٹاپ ٹین میں ہو تا آیا ہے معائینہ ٹیم دوسرے نمبر پر یہ دیکھتی ہے کہ یو نیورسٹی کی تعمیراتی سکیم کا ماسٹر پلان منظور شدہ ہے یا نہیں؟ اس معیار پر بھی یو نیورسٹی پوری اتر تی آئی ہے تیسرے نمبر پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ما سٹر پلان میں جس جگہ یو نیورسٹی کی نئی تعمیرات کا نقشہ دیا گیا ہے اُس جگہ بجلی، پانی سڑک اور دیگر لا زمی ضروریات دستیاب ہیں یا نہیں اس معیار پر بھی، ماسٹر پلا ن پورا اتر تا ہے آخری چیز یہ دیکھی جا تی ہے کہ زمین کی خریداری کے لئے صو بائی حکومت نے فنڈ مہیا کیا ہے یا نہیں؟ اس معیار پر ہر سال شرمندگی اٹھا نی پڑتی ہے قواعد و ضوابط اور ایس اوپی (SOP) کے مطا بق یو نیورسٹی کے لئے زمین کی خریداری صو بائی حکومت کے ذمے ہے ہر سال وفاقی حکومت تعمیرا تی مقا صد کے لئے فنڈ مختص کر تی ہے؟ پہلے دو سالوں تک مخا لف پارٹی کی حکومت تھی مگر وفاقی حکومت نے بخل سے کام نہیں لیا اس سال تحریک انصاف کی حکومت نے چترال یو نیورسٹی کے تعمیراتی منصو بوں کے لئے ایک ارب72کروڑ 24لاکھ روپے کا بجٹ دیدیا ہے انگریزی محا ورے کی رو سے بال ایک بار پھر صو بائی حکومت کے کورٹ میں ہے نئے مالی سال کے بجٹ میں پھر چترال یو نیورسٹی کا نام نہیں آیا اب صو بائی گورنر چانسلر بھی تحریک انصاف کا ہے صو بائی وزیر اعلیٰ بھی تحریک انصاف کا ہے مخا لف پارٹی کا کوئی بندہ اس چینل میں نہیں ہے شیخ سعدی ؒ نے سو باتوں کی ایک بات کہی ”شا ہاں چہ عجب گر بنو ازند گدارا“ بادشاہ ہوں کی طرف سے فقیروں پر نوازشات کی بارش ہو تو کسی کو تعجب نہیں ہو تا ہم بھی کشکول بد ست بادشاہوں کے سامنے سوالی بن کر آتے جا تے ہیں ؎

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

Facebook Comments