48

داد بیداد……داعش اورافغان امن……ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا افغا ن صدر اشرف غنی نے امریکہ سے در خواست کی ہے کہ 14مہینوں کے اندر خارجی فو جوں کے انخلا ء کا عمل روک دیا جائے اگر خا رجی فو جوں کا انخلا ء ہوا تو داعش کی طرف سے افغا نستان کی سلا متی کو سنگین خطرہ لا حق ہو گا 4ما ہ پہلے فروری 2020ء میں قطر کے دارالحکومت دوحہ کے اندر افغان شہری زلمے خلیل زاد اور افغا ن جنگجو ملا عبد الغنی برادر کے درمیاں ایک مبہم سا معا ہدہ ہوا تھا معا ہدے میں دو فریق امریکی حکومت اور افغا ن حکومت شریک نہیں تھے ملا عبد الغنی برادر کو جنگجو کما نڈر کی جگہ امارت اسلا می افغا نستان کا نما ئندہ ظا ہر کیا گیا اسی طرح زلمے خلیل زاد کو امریکی حکومت کا نما ئیندہ دکھا یا گیا دونوں کی دستا ویزات میں وا ضح ابہام تھا، معا ہدے میں کہا گیا تھا کہ جنگجو کما نڈر وں کی طرف سے جنگ بندی کی جائیگی افغان حکومت کی طرف سے جنگجو گروپوں کے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا نیز افغا ن حکومت اور جنگجو کمانڈروں میں صلح کے لئے بین الافغان مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گاافغا نستان کے اندر امن قائم ہو نے کے بعد 14مہینوں کے اندر امریکی فو جیں افغا نستان سے نکل جائینگی جس کو خار جی فو جوں کے انخلا ء کا عنوان دیا گیا معا ہدے پر دستخطوں کے بعد ایک گروہ نے اس کو تاریخ ساز امن معا ہدہ قرار دیا ایک دوسرے گروہ نے افغا نیوں کو ان کے وطن میں امن کی راہ ہموار ہو نے پر مبارک باد دی معا ہدے کے بعد چشم فلک نے دیکھا کہ کا بل میں اشرف غنی اور عبد اللہ عبداللہ نے دو متوازی حکومتیں قائم کیں قطر میں مقیم جنگجووں نے ملا ہیبت اللہ کی سر براہی میں امارت اسلا می کے قیا م کا اعلا ن کیا پھر وقت اور امریکہ نے ایک ساتھ پلٹا کھا یا تو اشرف غنی کی حکومت میں امریکی چھتری کے نیچے عبدا للہ عبد اللہ کو قومی سلا متی کی کونسل کے سر براہ کا بھاری بھر کم عہدہ مل گیا البتہ ملا ہیبت اللہ کی امارت اسلا می اب تک خوابوں اور کا غذوں میں ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکی حکومت اشرف غنی کی حکومت کو اربوں ڈالر کی امداد دے رہی ہے قطر میں جنگجو کما نڈر وں کا دفتر بھی امریکی حکومت کی خرچ پر چلا یا جا رہا ہے عراق اور شام سے داعش کو بھی امریکی خرچ پر افغا نستان لا یا گیا ہے امریکی صدر ڈو نلڈ ٹر مپ نے 4سال پہلے اپنی پا رٹی کی انتخا بی مہم میں امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر یو رپ، افریقہ اور ایشیا کے دور دراز ملکوں میں فو جی خد مات پر امریکی ٹیکس دہندہ گا ن کی دولت ضا ئع نہیں کرینگے انہوں نے ڈنکے کی چوٹ اعلا ن کیا تھا کہ عراق، شام اور افغا نستان یا کسی اور ملک کا دفاع ہمارا مسئلہ نہیں امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ایسی فضول مہم جوئی پر خر چ نہیں ہو نا چا ہئیے اب ری پبلکن پارٹی ایک بار پھر انتخا بی مہم کی تیا ری کر رہی ہے ساتھ ساتھ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بلکہ ان کی خون پسینے کی کمائی افغا نستان میں تین الگ الگ گروہوں پر لٹا ئی جارہی ہے آزاد ذرائع نے دسمبر 2019ء میں جو اعداد شمار جاری کئے ان کی رو سے افغا ن حکومت کو 3ارب ڈالرسالانہ کی امداد دی جا تی ہے قطر میں جنگجو کما نڈروں کے دفتر اور قیام پر 50کروڑ ڈا لر سا لا نہ کی لا گت آتی ہے جبکہ داعش اور اس کے ساتھ وا بستہ بلیک واٹر پر بھی ہر سال 50کروڑ ڈالر کا خر چ آتا ہے امریکی کانگریس سے ان اخراجا ت کی منظوری لی جا تی ہے جس میں جنگجو کمانڈر وں کے ساتھ ساتھ داعش کے جاری اخراجات کو سیکیورٹی بِل کا نا م دیکر پا س کروایا جا تا ہے بعض تجزیہ نگار وں نے فروری 2020ء میں خدشہ ظا ہر کیا تھا کہ قطر معا ہدہ کے تحت افغا نستان میں نہ تو امن قائم ہو گا نہ ہی خار جی فو جوں کا انخلا ء عمل میں آئے گا تجزیہ نگاروں کے یا سیاست پسند طبقے کا استدلال یہ تھا کہ معا ہدے میں نہ امریکی حکومت فریق ہے نہ افغا ن حکومت شریک ہے جنگجو کمانڈر وں نے خود کو اما رت اسلا می کا نما ئیندہ ظاہر کیا ہے جس کا کوئی وجود نہیں خا رجی فو جوں کے انخلا ء کے حوالے سے نا اُمید طبقے کا خیال تھا کہ 4ماہ یا 6ماہ بعد افغا ن حکومت کی طرف سے امریکہ صدر کو درخواست بھیجی جائیگی کہ افغا نستان کو مزا حمت کا روں کی طرف سے پے در پے حملوں کا خطرہ ہے اس لئے امریکی فو جوں کے انخلا ء کا عمل روک دیا جائے یہ درخواست امریکی کا نگریس کی کمیٹی میں جائیگی کمیٹی کی طرف سے کا نگریس کو قائل کیا جائے گا افغا نستان میں ہماری فو جوں کے قیا م کو مزید طول دینا وسیع تر امریکی مفا دات کا تقا ضا ہے ور نہ ساری محنت رائیگاں جائیگی امریکی کانگریس میں بل منظور ہو گا اور افغا نستان میں امریکی فو جوں کے قیا م میں تو سیع کی منظوری کے بعد جنگجو گروپوں کی طرف سے قطر معا ہدے کو توڑ نے کا اعلا ن ہو گا کیونکہ 14ماہ کے اندر خا رجی فوج کا انخلا ء اس مبہم معا ہدے کا حصہ ہے یو ں کھیل کا پانسہ امریکہ کے حق میں پلٹ جائے گا 1960ء کے عشرے کا قصہ ہے جہلم کے قرب و جوار میں ایک بد قماش گروہ وارداتیں کرتاتھا اس گروہ کا سر غنہ نہا یت عیا ر اور چا لا ک آد می تھا اُس کے تین بیٹے تھے ایک بیٹے کے ذمے یہ کا م تھا کہ کسی گاوں پرشبخون مارے جب وہ اپنے ساتھیوں سے شبخون ما رتا تو دوسرے بیٹے کا یہ کا م تھا کہ وہ گاوں والوں کی ہمدردی سمیٹنے کے لئے شبخون ما رنے والوں کو پکڑ کر سزا دیدے اور تیسرا بیٹا پنچا یت کا سر براہ یعنی سرپنچ تھا چنا نچہ ڈکیتی کا ما ل تین بھائیوں میں تقسیم ہو تا تھا اور گاوں کے مجبور مفلوک الحال لو گ ان کے باپ کو صبح و شام دعائیں دیتے تھے افغانستان میں ا مریکی طریقہ ورادات بھی اس کہا نی سے ملتا جلتا ہے داعش بھی ان کا اپنا، جنگجو بھی اُن کے اپنے اور افغا ن حکومت بھی ان کی جیب میں چنا نچہ سکرپٹ میں جو لکھا ہے اس کے مطا بق ڈرامہ ہو رہا ہے اور ہم اس کو افغا ن امن عمل کا نا م دیکربغلیں بجا تے ہیں علا مہ اقبال نے 1913ء میں یہ بات کہی تھی ؎

رومی بد لے شا می بد لے بد لا ہندوستا ن
تو بھی اے فرزند کہستان اپنی خود ی پہچان
اپنی خودی پہچان او غا فل افغان

Facebook Comments