197

چترال میں شادی کا رواج اور ایک غلط فہمی۔۔۔ تحریر محمد کوثرایڈوکیٹ

چترال میں شادی بیاہ کی رسم ” لاورئی آن ” سے اس پار کے لوگوں سے کافی مختلف ہے۔ لواری ٹاپ کے اس پار کے رسم و رواج دراصل ہندوانہ ہیں۔ جیسے لڑکی سے جہیز کی طلبی اور پھر اس جہیز کو لوگوں کو فخریہ طور پر دیکھانا۔جہیز میں کسی چیز کی کمی پر دلہن کوزندہ جلانا یا طلاق دلوانہ یا اس پر دیگر اوچھے طریقے سے مظالم ڈھانا۔بدقسمتی سے یہ رسومات صوبہ خیبر پختونخواہ پنجاب وغیرہ میں شدومد سے ادا کیے جاتے ہیں اور اخبارات کی بھی زینت ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس چترال میں شادی کے لیے جہیز دلہن کے بجائے دلہا سے طلب کیا جاتا ہے۔اس میں دلہن کے گھر والوں کو مہمانوں کو کھانا کھلانے کے لیے حسب رواج یا خاندان کی حیثیت کے مطابق رقم کا مطالبہ یا دلہا کے گھروالے خود جو مناسب سمجھتے ہیں ادا کرتے ہیں۔اس میں غریب امیر مہتر فقیر کا فرق نہیں ہوتا۔ بڑے گھرانے والے بھی اپنی بیٹی کو بیاہتے وقت رقم طلب کرتے ہیں یہ رواج غیر پشتون بلٹ یعنی چترال گلگت واخان وغیرہ میں صدیوں سے رائج ہے۔میرے ناقص معلومات کے مطابق ازبک ترک اور عربوں میں بھی یہی رواج ہے۔واللہ اعلم۔ البتہ بدقسمتی یہاں شروع ہوتی ہے جب چترال کی بیٹی غیر چترالیوں یا لاواری سے اس پار بیاہی جاتی ہے۔ ایسے شادیوں میں بہت سی قباحتیں پیدا ہوتیں ہیں۔ مثلا اس رواج کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بیٹی کو فروخت شدہ کا طعنہ دیا جاتا ہے یا علاقے پر یہ ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے وغیرہ۔۔۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ درہ لاواری کے اس پار لوگ برے ہیں۔ نہیں! بلکہ بہت سے خاندانوں کے ساتھ قدیم الایام سے ایسے رشتے قائم ہیں مگر یہ شاید سو میں سے دو یا تین فیصد ہی ہونگے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم چترال سے باہر رشتوں کی حوصلہ شکنی کریں اور چترال یا غذر وغیرہ تک خود کو محدود رکھیں۔ بیشک لڑکا غریب ہو چاہے جونسے بھی خانداں سے تعلق رکھتا ہو مگر چترالی ہی ہو۔آپ کاہم زبان اور روایات کا سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔مشاہدے میں آیا ہے کہ ماسوائے چند معدودے تلخ واقعات کے چترال ہی میں رشتے سو فیصد کامیاب رہتے ہیں۔ البتہ جس طرح جہیزہندو سماج کو گھائل کرچکا ہے اور لڑکیاں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتیں ہیں اسی طرح چترال میں اکثر لڑکے ”مال دیکو موڑار” مشکلات میں گھرے رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر دیکھیں کہ ہم دیگر علاقوں میں بلاتحقیق ایسے لوگوں سے بیاہتی ہیں جو پہلے سے ہی شادی شدہ ہو یا رنڈوا یا بوڑھا۔اس کے بنسبت اپنے علاقے میں شادی شدہ سے عار محسوس کرتے ہیں۔ یار لوگ شاید اسے ہنسی مذاق میں ٹال دیں مگر میری علماء کرام سے اپیل ہے کہ عوام میں کثرت ازدواج کی اہمیت پر زور دیں۔اسی طرح ہر تعلیم یافتہ مرد اور عورت کو سمجھ لینا چاہئے کہ کثرت ازدواج شرعی ضرورت اور معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے نہ کہ عیب۔اب تو الحمداللہ چترال میں خواتیں 75٪ تعلیم یافتہ اور باشعورہیں۔البتہ میری گذارش یہ ہے کہ خدا را چترال سے باہر شادیوں سے گریز کیا جانا چاہے۔

Facebook Comments