113

چترال شہر کے بازاروں کو سولرائزیشن پر نوے لاکھ روپے خرچ کئے گئے..چھ دن بعد ہی مردہ ہو گئے ۔

  چترال (  نمائیندہ آوازچترال ) چترال شہر کے بازاروں کو روشن کرنے کیلئے سولرائزیشن پر نوے لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے ۔ کہ سولر پینل اپنی تنصیب کے چھ دن بعد ہی مردہ ہو گئے ۔ اور چترال بازار کو روشن کرنے کا خواب شرمندۃ تعبیر نہ ہو سکا ۔ آج بھی چترال کا مین بازار ، عبد الولی خان بائی پاس روڈ ، اتالیق چوک ، گولدور چوک سمیت تمام بازار رات کی تاریکی میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ اور باولے و آوارہ کتوں کی اماجگاہ بنے ہوئے ہیں ۔ حکومت کے خزانے سے 90 لاکھ کی خطیر رقم کا اس طرح ضائع ہونا اور متعلقہ اداروں خصوصا ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی کا واضح ثبوت ہے ۔ ایک طرف حکومت سیاحوں کو متوجہ کرنے کیلئے بیوٹیفیکیشن کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے ، جبکہ دوسری طرف سولرائزیشن پر بھاری فنڈ کے ضیاع کے باوجود حکومت کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ جو بے حسی کی بد ترین مثال ہے ۔ چترال شہر میں عبدالولی خان بائی پا س روڈ ، شاہی بازار روڈ ، نیو بازار وغیرہ چترال شہر کی پہچان ہیں ۔ لیکن شہر کے ان اہم سیاحتی اور کاروباری بازاروں اور سڑکوں کے منصوبے ادھورے اور نہایت ناقص انجام پائے ہیں ۔ جس کی واضح مثال یہ ہے ۔ کہ بائی پاس روڈ تعمیر ہوئے سات سال بیت چکے ہیں ۔ لیکن اس روڈ پر نصب شدہ پولز کو بجلی کی سپلائی تاحال نہیں ہوئی ۔ یوں کھمبوں کی افادیت ختم ہوکر رہ گئی ہے ۔ اور یہ روڈ رات کی تاریکی میں اداروں کی کرپشن ، غفلت اور بے حسی کا رونا رو رہا ہے ۔ بازاروں کی اس قسم کے ناگفتہ بہہ حالات کے حوالے سے صدر تجار یونین چترال شبیر احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ نوے لاکھ روپے کی لاگت سے بازار میں بجلی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے چالیس سولر پینل کے کھمبے ڈی سی آفس روڈ ، نیو بازار تا چیو پُل ، آفیسر کالونی ، جغور تا پرانا سبزی منڈی اور اتالیق بازار میں لگائے گئے تھے ، لیکن یہ سسٹم دس دن بھی کام نہ دے سکے ۔ اب ان سولر پولز میں سے چھ کوبحال کر دیا گیا ہے ۔ جو کہ مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ بازار کے تمام سولر کھمبوں کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اس پر بھاری فنڈ خرچ ہو چکے ہیں ۔ شبیر احمد نے سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے بائی پاس روڈ پر لگائے گئے پولز کو بھی ناقص قرار دیتے ہوئےکہا کہ ان کھمبوں کو روڈ کے سنٹر لائن میں نصب کرکے ڈبل سائیڈ لائٹ لگا نے چاہیے تھے ۔ کھمبوں کی ایک سائیڈ پر تنصیب نے روڈ کو متاثر کیا ہے ۔ اور سب سے افسوسناک امر یہ ہے ۔ کہ اب تک بائی پاس روڈ پر نصب شدہ پولز کو بجلی کی سپلائی نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے پُر زور اپیل کی ہے ۔ کہ چترال بازار کی لائٹنگ کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے ۔

Facebook Comments