58

کورونا… …علم و آگاہی کی موت…….تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک

٭ توکل۔

صبع دس بجے سے رات تک مسجد میں… سوڈان پلٹ … تبلیغی جماعت کے ارکین کا ڈھرا جما رہا جو دومنٹ کی دوری میں اپنے والدین، بیوی بچوں اور رشتہ داروں کی سات مہینے کی دوری کے صدمے کو اور بھی… تابناک.. بنانے کے لیے… ڈٹے… رہے اور گھروں کی جانب… تقویٰ… میں کمی کے خوف سے نظر تک ڈالنا… گوارا…نہ کی۔ اگر چہ ان کے بچے مسجد میں ان کے انتظار میں ناک میں دم کرتے رہے۔ حیرت کی بات یہ کہ ساتھ ساتھ پورے چترال میں… ہرکارے… دوڑا دئیے کہ ہم لوگ… نیل کے ساحل میں جھنڈے گاڑ کے… کاشغر… لوٹ آئے ہیں۔ ایک پر تکلف… افطارپارٹی… کے بعد جم غفیر کی کارگزری میں یہ انکشاف ہوا کہ سوڈان میں تبلیغ کا کام ہم سے بہت بہتر انداز میں جاری ہے اور لوگ دینی حوالے سے بہت آگے ہیں۔ہم ”اشاروں“ میں انہیں بتاتے تو وہ اشاروں کی زبان سمجھ جاتے اور ہمارا مدعا لوگوں تک پہنچاتے اور کام چل جاتا اور گھومتے گھومتے مہینوں نکل گئے…. جب کورونا… نے یلغار کی تو وہ لوگ ہاتھ ملانے، گلے ملنے میں احتیاط برتے اور…. قرآن… و… حدیث… کا حوالہ دیتے مگر ہم کہاں ماننے والے تھے… ان دینی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر زبردستی… گلے ملا ہی لیتے۔ایک ساتھی نے سوال کیا ”ا میر صاحب اگر قرآن و حدیث کو ماننا ہی نہ تھا تو تبلیغ پر جانے کی ضرورت ہی کیا تھی…. جواب ملا… ”توکل“
جہاں تک اسلام میں … اللہ پر توکل… کی تعلیمات ہیں وہ کچھ یوں ہیں… گھوڑے اور اونٹ کی رسی پہلے باندھ کر توکل کرو… مرض میں علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کرا کر توکل کرو…محنت مزدوری کرکے توکل کرو…. فصلوں کی بویائی اور دیکھ بال کے بعد توکل کرو۔
کورونا ایک وبائی مرض ہے جسے ”طاعون“ کا ہم زلف کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔جو نسل انسانی کے لیے تباہی کا سبب ہے بدقسمتی سے ہم اسے چینی، امریکی، بل گیٹی، ٹرومی، کفری، اسلامی، میڈیائی، افوائی، حکومتی، ڈبلیو ایچ او آئی جیسے ناموں سے یاد کرتے رہتے ہیں اور کوئی بھی طبقہ اسے سنجیدہ لینے کو تیار نہیں… دین دار طبقہ اسے دین اور توکل کے خلاف سمجھ کر احتیاط کر نے والوں کو… بے دین… سمجھ کر کراہت کی نظروں سے گھور رہا ہے۔ ذرا تاریخ کے…. دریچے … میں جھانک کے دیکھتے ہیں کہ کیا اسلامی دنیا میں اس قسم کے امراض کاکوئی وجود رہا بھی ہے کہ نہیں۔… مصر… میں 749 ہجری اور 833 ہجری دو بار ایک وبائی مرض کا حملہ ہوا تو… قاہرہ… میں 40 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ دینی طبقے نے زوردیا کہ لوگ تین دن کا… روزہ… رکھیں اور اجتماعی دعا اور… توبہ… کے لیے دریا کنارے جمع ہوں… لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اس اجتماعی دعا میں شرکت کی اور جب گھروں کو لوٹنے لگے تو… وبا… کے کام دیکھا دیا کہ راستے میں ہی.. ایک ہزار… سے زائد لوگ ہلاک ہوئے۔اور روزانہ کے حساب سے ہزار لوگ مرنے لگے۔ لوگ حیران ہوئے کہ یہ کیا ہوگیا ہم تو اللہ کا سہارا لینے آئے تھے۔ سیانوں نے بتایا کہ آپ لوگوں نے بے احتیاطی سے… مریضوں… کو… تندرست… کے ساتھ ملا دیا یوں اموات میں اضافہ ہوا۔حافظ عسقلانی، ابن کثیرابن بطوطہ نے ”یورپ کی کالی موت“ کے نام سے وبائی امرض کا تذکرہ کیا ہے جس میں اسلامی دنیا میں بھی ہزاروں اموات روزانہ ہورہیں تھیں۔
18 ہجری میں حضرت عمرفاروقؓ شام کے سفر پر جاتے ہوئے جب… تبوک… پہنچے تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ، یزید بن ابو سفیان ؓ، شرجیلؓ، جیسے جرنیل استقبال کو آئے اور حاضر خدمت ہو کے عرض کی کہ… شام… میں وبا پھوٹ پڑی ہے۔خلیفہ مخمصے کا شکار ہوئے کہ کیا کیا جائے آپ نے حکم دیا کہ… مہاجرین اولین… کا اجلاس بلایا جائے اجلاس میں کچھ نے خلیفہ کو واپس جانے اور کچھ نے شام جانے کا مشورہ دیا۔ حضرت عمر ؓ نے انصار کا اجلاس طلب کیا یہاں بھی اتفاق رائے نہ ہوسکا آپ ؓ نے… فتح مکہ… میں جو مہاجر آپ ﷺ کے ساتھ تھے انہیں بلایا۔انہوں نے… متفق ہوکے فیصلہ دیا کہ ان حالات میں… خلیفہ اسلام… کوخطرہ میں کودنے سے بہتر ہے کہ واپس چلاجائے۔ ان کی رائے سن کے حضرت عمرؓ نے اعلان کیا کہ ہم صبح واپس مدینہ لوٹ جائیں گے۔صبح حضرت ابوعبیدہ ؓ واپس آئے اور خلیفہ سے کہا ”امیر المومنین آپ تقدیر الہی سے بھاگ رہے ہیں۔“ حضرت عمرؓ نے جواب دیاکہ ہاں ہم اللہ کی ایک تقدیر سے اللہ کی دوسری تقدیر کی طرف جارہے ہیں۔ اسی اثنا ء میں حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ تشریف لائے اور یہ ماجرہ دیکھ کر کہا”اس بارے میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ کا واضح حکم موجود ہے کہ اللہ رسول ﷺ نے فرمایا ہے ”جب کسی علاقے میں وباپھیلی ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو ا ور جب تم سنو کہ کسی علاقے میں وبا پھیلی ہے تو وہاں مت جاوء“ یہ حدیث نبوی ﷺ کا سنناتھا کہ حضرت عمر ؓ خوشی سے مدینہ لوٹ آئے۔مدینہ سے ایک ضروری کام کے بہانے حضرت ابوعبیدہ ؓ کو مدینہ آنے کے لیے خط ارسال کیا… ابو عبیدہ سمجھ گئے کہ خلیفہ انہیں بہانے سے واپس بلا رہے ہیں۔ ابوعبیدہ نے جنگی محاذ، دفاعی حکمت عملی کے بہانے اسلامی فوج کا ساتھ نہ چھوڑنے کے عذر پیش کرکے معذرت کر لی۔۔۔۔ حضرت عمر ؓ نے دوسرا خط ارسال کیا کہ اسلامی فوج کو نشیبی علاقے سے نکال کر پہاڑوں میں لے جاؤں… ابھی حضرت ابو عبیدہ ؓ ان تیاریوں میں تھے کہ خود ہی… وبا…. کی لپیٹ میں آکر شہید ہوگئے… حضرت معاذبن جبل ؓ جو ان کے جانشین تھے وہ اسلامی فوج کے امیر مقرر ہوئے مگر وبا ء نے پہلے ان کے صاحبزادے پھر خود انہیں موت سے دوچار کیا…. حضرت معاذ ؓ نے آخری وقت میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کو جانشین مقرر کیا تھا اس نے اس ہنگامی صورت حال کا ادراک رکھتے ہوئے اسلامی کمانڈروں کو جمع کیا اور ارڈر دیا کہ وباجب پھیلتی ہے تو جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے لہذا فوج کو جنگل اور پہاڑوں میں الگ الگ چھپالو“ سپاہی بھاگ بھاگ کر پہاڑوں میں کئی دنوں تک… social Distancing یاIsolation میں رہے کچھ دنوں بعد وبا ء کا زور تھم گیا اور لوگ نیچے آئے۔ لیکن ”عمواس نامی“ اس وبا ء نے حضرت ابو عبیدہؓ۔، معاذؓ، یزیدبن سفیان ؓ، حارث بن ہشامؓ، سہل بن عمرو ؓ ، عتبہ بن سہیل ؓ سمیت سیکڑوں اکابر صحابہ اور اشراف اسلام کو موت کی اغوش میں پہنچا دیا۔ اس وبا میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی اولاد میں سے چالیس کی جان لے لی۔ حارث ؓ کے خاندان کے ستر افراد لقمہ اجل بننے صرف چار زندہ بچے تاریخ میں موجود ہے کہ اس وبا ء کے اسلامی لشکر کے 25000 سے زاید مسلمان شہید ہوئے جو کسی جنگ میں نہیں ہوئے تھے۔
تبدیلی سرکار… حسب عادت… کورونا… کے معاملے میں بھی تذب ذب کا شکار رہا ہے ابھی تک کوئی جامع پالیسی نہ دے سکا۔ اس کے قائد سے لے کر وزرا ء تک… کورونا… کو بھی PTI کا خفیہ پاٹنر جانتے رہے جس نے دم توڑتی لمحات میں… خان صاحب… کو دوبارہ زندگی دی۔ کورونا چادر کے نیچے خان کو بہت کچھ چھپانے کا موقع ملا اگر یہ… نعمت عظیم… کا نزول نہ ہوتا تولرزتے خفیہ ہاتھ بھی کام نہ آتے ۔خان صاحب اس فرینڈلی ماحول میں بھی پاکستان کو کورونا کے حوالے سے مناسب پالیسی نہ دے سکے۔ کبھی چینی بحران، کبھی آٹا بحران، کبھی پیٹرول بحران، کبھی ٹڈی دل کی یلغار، کبھی لاک ڈاون، کبھی سمارٹ لاک ڈاون، کھبی فرینڈلی کورونا، کبھی بے ضرر وائرس، کبھی توڑا سا خطرناک،کبھی بہت مہلک، کبھی ہمیشہ ساتھ رہنے کی نوید۔کبھی مئی کبھی جون، جولائی اگست تک اس کی چوٹی سر کرنے کی خوشخبری۔پاکستانی عوام کو بھوک کے خوف سے ڈرا کر کورونا کے جھولی میں پھینکنے کا … کارنامہ… آنے والا وقت خان صاحب کے کھاتے میں ہی ڈالے گا۔اللہ کرئے کوئی اور خفیہ ہاتھ خان صاحب کا ہاتھ پکڑ کر اسے کورونا کی گلیوں سے نکال کر…. ریاست مدینہ… کی راہ دیکھا دے تاکہ اسے… صراط مستقیم… بھی نصیب ہو اور اطمینان قلب بھی۔
٭ سکولز اور مدرسے۔
حکومت کی سب سے زیادہ توجہ جس سیکٹر کوچاہیے تھا وہ پاکستان کے تعلیمی ادارے تھے۔ بدقسمتی سے حکومت کے وزراء اور مشیروں نے اس اہم سیکٹر کی تباہی میں سب سے نمایاں کا رنامہ انجام دیا۔سب سے بڑا نقصان اسٹوڈنٹس کو امتحان اور ٹیسٹ کے مراحل سے گزارے بغیر اگلے کلاسوں میں ترقی دینے کے عمل سے پہنچا اس… نالائقی کے وار… مدتوں کورونا سے بھی سخت محسوس کیے جائیں گے۔حکومت کوچاہیے تھا کہ تعلیمی اداروں خصوصاً سکولز اور دینی مدرسوں کے لیے بہتر ایس او پیز بنالیتے اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے۔ اگر دفاتر، عدالت، مارکیٹس میں ایس او پیز کا خیال رکھا جاسکتا ہے تو سکولز اور مدرسوں میں کیوں نہیں۔ ان تعلیمی اداروں کو بھی ایک ایس او پیز کے تحت ہفتے میں تین دن کلاس نرسری سے کالج لیول تک نصف کلاسزبقایا تین دن نصف کلاس کے فارمولے پر یا ایک کلاس کے نصف اسٹوڈنٹس ایک دن نصف دوسرے دن کے فارمولے کے تحت ماسک اور دستانے کی پابندی کے ساتھ سکولز مدرسہ انتظامیہ بہتر انداز میں چلاسکتے تھے۔ اب غیر معینہ مدت کی بندش کی بدولت مستقبل میں سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ وہ بڑے پرائیوٹ تعلیمی ادارے ہی زندہ رہ سکتے ہیں جو مالی طور پر مستحکم اور مالی سپورٹ رکھتے ہیں جو پاکستان بھر میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے صرف 2%
ہیں۔ باقی سکولز اور مدرسے نجی ملکیت یا کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔ اور ماہ دسمبر سے ان کا کرایہ مالکان پر پہاڑ بنتے چڑھتا جارہا ہے جو لاکھوں، کڑوروں کو چھو رہا ہے۔ ان حالات میں کوئی والدین بچوں کے فیس ادا کرنا تو بہت دور کی بات ہے مارچ کے مہینے سے ابھی تک… ہوم ورک… وصول کرنے بھی نہیں تشریف نہیں لاتے کہ کہیں سکول انتظامیہ فیس کا تقاضا نہ کر یں۔ان حالات میں پرائیوٹ اداروں کے ٹیچرز کو تنخوائیں ملنا بھی ممکن نہیں رہا چترال جیسے کم آبادی والے ضلع میں ہزاروں ٹیچرز بے روزگار ہوچکے ہیں اور ان کے مستقبل کا کسی کو فکر نہیں۔نہ حکومت کے پاس سکولز، مدرسوں کے لیے کوئی ریلیف پیکیج موجود ہے اور نہ مستقبل میں ارادہ اور نہ والدین کو
احساس ہے کہ ان کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے والے جائیں تو کہاں جائیں۔ ایک خوفناک اندازے کے مطابق حکومت اور والدین کا یہ حسن سلوک جاری رہا تو اس سال کے آخر تک 80% نہ صحیح 50% سکولز ضرور بند ہونگے۔اس سے پہلے دہشت گردی کی جنگ میں KPK کے 40% سکولزاور مدرسے دم توڑ چکے تھے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور والدین ان اداروں کو بچانے کے لیے اپنا رول ادا کریں ورنہ…. کورونا…کی…. سونامی… میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو بہالے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ جو لاکھوں ٹیچرز کی بے روزگاری کے ساتھ ساتھ…. سستے اور معیاری تعلیم…. کا خواب… غریب اور درمیانے طبقے کے لیے… خواب… ہی بنا رہے گا۔ اور اس سے بھی بد تر حالات مدرسوں کا ہے جو لوگوں کے باہمی چندے خیرات اور تعاون سے دینی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اب کا کوئی ولی وارث نہیں… طالبہء… کی غیر موجودگی میں لوگوں کا تعاون نہ ہونے کے برابر ہیں اور مدرسے کے اخرجات اور اساتذہ کرام کے تنخوائیں مہینوں سے ادا نہیں ہوسکے ہیں ان حالات میں… مخیر حضرات… اور… درد دل… رکھنے والے افراد ہی رب کعبہ کے حضور سرخرو ہوسکتے ہیں۔

Facebook Comments