60

دو شادیاں دو سبق….نثار احمد

   گزشتہ ہفتے دائرہ ء تعلق میں دو شادیاں ایسی ہوئیں جن میں مختلف پہلوؤں سے ہمارے معاشرے کے لیے سبق و رہنمائی پنہاں و پوشیدہ ہے۔ ان میں سے ایک شادی پشاور میں سکونت پذیر موڑکھو سے تعلق رکھنے والے پیر مختار جبکہ  دوسری شادی شاہی مسجد چترال کے خطیب محترم مولانا خلیق الزمان کاکاخیل صاحب کے صاحبزادے حذیفہ خلیق کی تھی۔ پیر مختار پشاور یونیورسٹی میں ایم اے کا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ پشاور میں چترالیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے قائم شدہ نوزائیدہ تنظیم “تنظیم تحفظ حقوقِ چترال” کا صدر بھی ہے۔
پیر مختار کی شادی کی خاص بات یہ تھی کہ آپ نے پامیر ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں یتیموں کی کفالت کے لیے قائم محافظ بیت الاطفال کے بیس پچیس بچوں کو بطورِ مہمانانِ خصوصی مدعو کر رکھا تھا۔ ترجیحات کی غیر منصفانہ درجہ بندی کی وجہ سے ہماری معاشرتی زندگی میں بے سہارا یتیم بچوں کو وہ پروٹوکول نہیں ملتا جو عام بچوں کو ملتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تناظر میں پیر صاحب کا یہ کام نہایت ہی قابلِ ستائش ہے اور قابلِ داد بھی۔
       پامیر ہوٹل کے کانفرنس ہال میں مختلف سیاسی،مذہبی اور سماجی جماعتوں کی طرف سے تقاریب منعقد ہوتی رہتی ہیں لیکن اس بار کی تقریب کانفرنس ہال کے درودیوار کے لیے اِس لیے حیران کن تھی کہ اس میں ایک طرف کے صوفوں پر سفید پکوڑ زیب ِ سر کیے اُجلے سفید کپڑوں میں بیسیوں چھوٹے چھوٹے یتیم بچے براجمان تھے جبکہ دوسری طرف کے صوفوں پر شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان کاکاخیل، معروف قانون دان اور سیاسی و ادبی شخصیت عبد الولی خان عابد، معروف سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر، فائنانس افیسر سعید احمد، روز کے چئیرمن ہدایت اللہ، سیاسی و ادبی شخصیت کوثر ایڈووکیٹ  اور محافظ بیت الاطفال کے منتظم مفتی ضیاء اللہ سمیت بیسیوں مختلف شعبہاء زندگی کے افراد مسند نشین تھے۔ پامیر ہوٹل میں پروگرام منعقد کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے پیر مختار نے شرکاء تقریب کو بتایا کہ
” مجھے پشاور میں ایک واقف کار کی دعوت ِولیمہ اٹینڈ کرنا شادی ہال جانا تھا۔ شادی ہال میں داخل ہونے کے لیے جونہی مین گیٹ کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ گیٹ میں موجود منتظم ایک چھوٹے بچے کو واپس باہر دھکیل رہا ہے۔ بچے کے ساتھ اظہارِ ہمدردی دو بول بولتے ہوئے جب میں اُسے تھوڑا کھوجا، کُریدا تو معلوم ہوا کہ یہ بچہ باپ کے سائے سے محروم ہے۔ یہی وی موقع تھا جب میں نے اپنی شادی کی تقریب میں یتیموں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔”
        محافظ بیت الاطفال بنیادی طور یتیموں کی کفالت کے لیے قائم ایک ادارہ ہے جس میں حسب ِ بساط محدود پیمانے پر یتیم بالخصوص مالی لحاظ سے انتہائی کمزور بچوں کو نہ صرف سکونت و اقامت کی سہولت مہیا کی جاتی ہے بلکہ مختلف اچھے اور معیاری تعلیمی اداروں میں ایڈمیشن دلوا کر اِنہیں زیور ِ تعلیم سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کے بچے ادارے کی جانب سے لینگ لینڈ سمیت ضلعے کے مختلف معیاری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ آپ یہ جان کر خوش ہوں گے کہ امسال ادارہ ء ہذا کے تین بچے کیڈٹ کالج قصور میں زیر ِ تعلیم ہیں۔ اپنے لیے، اپنے بچوں کے لیے سبھی جیتے ہیں۔ مزہ تب ہے جب اپنی خوشیوں میں کم آمدنی والے لوگوں اور بے سہارا بچوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ یتیموں کی کفالت کے لیے قائم جتنے ادارے ہیں اُن کے ساتھ مالی تعاون کیا جائے۔ ان کے تعمیراتی کاموں میں دل کھول کر مدد کی جائے۔
        برادرم حذیفہ خلیق کی شادی اس حوالے سے مثالی، منفرد اور متاثر کن تھی کہ یہ اول تا آخر اپنے اندر سادگی سموئے ہوئے تھی۔ سادگی کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ سو ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر قریب ہی گھر میں موجودگی ہوتے ہوئے بھی ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کب باراتی اسلام آباد سے گھر وارد ہو چکے اور ناشتہ بھی کر چکے ہیں۔ دلہن کے گھر میں داخل ہونے کے وقت کسی بھی قسم کا شور شرابہ کہیں تھا اور نہ ہی پٹاخے پھٹنے کی کان پھاڑ آوازیں۔ ہر طرف سکون ہی سکون اور چین ہی چین تھا۔ ولیمے کی دعوت کے لیے قریب کی دو مسجدیں مختص کی گئی تھیں جن میں حسبِ اعلان مغرب کی نماز کے بعد سادہ مگر انتہائی پروقار انداز میں اہلِ محلہ کی ضیافت کی گئی۔ اس سے قبل بھی خطیب صاحب نے اپنی بیٹی کی رخصتی انتہائی سادگی کے ساتھ کر کے اچھی اور مثالی روایت کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈالا تھا ۔کم از کم، باقی نہ سہی، صرف مقتدا اور پیشوا حضرات بھی اپنے گھروں میں ہونے والی شادیوں کے اندر سادگی اپنانے اور تکلفات کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کا التزام کریں گے تو معاشرے میں اس کے نہایت مثبت خوشگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس شادی میں حذیفہ خلیق کے سسر ابو مفتی فیض الرحمن صاحب کا رویّہ بھی انتہائی سبق آموز رہا۔ ملک بھر میں معروف و متعارف علمی و ادبی شخصیت ہونے کے باوجود بھی آپ نے مُٹھی بھر افراد کی موجودگی میں انتہائی سادگی کے ساتھ اپنی بیٹی کی رخصتی کی تقریب کو ناک کا مسئلہ بننے نہیں دیا۔
پاکستان کے وسط اسلام آباد میں واقع دینی و دنیاوی علوم کے جامع ادارہ علوم اسلامی کے مہتمم مفتی فیض الرحمن عثمانی علمی حلقوں میں ایک بڑا نام ،اور اپنی ذات میں حقیقتاً پوری انجمن ہیں۔ آپ بیک وقت عالم بھی ہیں اور مفتی بھی۔ مصنف بھی ہیں اور ادیب بھی۔ مقرر بھی ہیں اور صاحب قلم لکھاری بھی۔بہترین منتظم بھی ہیں اور کامیاب مدرس بھی۔ بہرکیف  اِن چند ذیلی و ضمنی سطور میں آپ کی شخصیت کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔
             ہمارے معاشرے میں شادیاں انتہائی سرعت کے ساتھ سادگی کے دائرے سے نکل کر عبث تکلّفات و تصنّعات کی بھینٹ چڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ صورت حال اہل ِ فکر کے لیے انتہائی پریشان کن بھی ہے اور نہایت فکر انگیز بھی۔ اس روش کی اگر بیخ کنی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں نوجوانوں کے لیے رشتہ ء ازدواج سے انسلاک مزید مشکل ہو گا۔ جس معاشرے میں شادی کرنا مشکل تر ہوتا جائے وہاں پھر متبادل کے طور پر دوسرے اخلاقی جرائم کی بہتات انہونی نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروت اس امر کی ہے کہ شادیوں میں سادگی اپنانے اور لایعنی تکلفات سے اجتناب برتنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس بابت سب سے زیادہ توجہ بچیوں کی اس کے لیے زہن سازی اور تربیت پر دینی ہے۔
        بہرحال مذکورہ دو شادیوں میں سے پہلی شادی کا سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں میں یتیموں اور بے سہارا لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ دوسری کا یہ کہ شادی سادگی کے ساتھ بھی بخوشی و عافیت انجام پذیر ہو سکتی ہے۔
Facebook Comments