75

دادبیداد……فرنٹ لائن کے تعلقات.…….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

ہم روز سنتے اور پڑھتے ہیں کہ فلاں نے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن دفاع کیا فلاں نے بھارت کے خلاف فرنٹ لائن پر ملک کا دفاع کیا فلاں نے فلان کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دیں اس نام کو سہولت اور آسانی کے ساتھ استعمال کرنے والوں کو اکثر یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ فرنٹ لائن کس چیڑیا کا نام ہے۔ایک لیڈی ڈاکٹر کو کئی مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی پھر بھی وہ فرنٹ لائن پر ائسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی دے رہی ہے۔ایک گاؤں کی پوری آبادی دشمن کی بمباری سے بے گھر ہوگئی وقت آنے پر اس گاؤں کے سکول میں درجہ چہارم کی ملازمت 200کلومیٹر دور کے ایک دوسرے گاؤں کا باسی اپنے تعلقات اور سیاسی اثر ورسوخ کے بل بوتے پر لے گیا۔یوٹیلیٹی سٹور آیا تو یہ گاؤں محروم رہا،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آیا تو یہ گاؤں کسی کو نظر نہیں آیا،احساس پروگرام ہوا تو اس گاؤں میں کسی بھی غریب کی انگلیوں کے نشانات نہیں ملے اور12000روپے کی امداد گھر کی دہلیز سے واپس کی گئی یہ ہے فرنٹ لائن کی صورت حال ا ور یہ ہیں فرنٹ لائن کے لوگ۔ ہرسال 31مئی کا دن قریب آتا ہے تو چترال میں سوئیر نامی فرنٹ لائن گاؤں کے عوام کو نماز فجر کے وقت افغان سرحد سے آنے والے روسی ہیلی کاپٹروں کی بمباری یاد آتی ہے۔اپنوں کی جدائی کا غم تازہ ہوتا ہے اور 35سال پرانے زخم ہرے ہوجاتے ہیں یہ 31مئی1985کا اندوہناک واقعہ ہے اس سے پہلے ارندو اور اوسیاک کے علاقوں پرکلسٹر بموں سے حملہ ہوا تھا۔اُس وقت پتہ لگا کہ اوسیاک سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دریا کے پار پہاڑی ڈھلوان پر گن شپ ہیلی کاپٹر کے ایجاد سے40سال پہلے1901ء میں انگریزوں نے دروش کا فوجی قلعہ ایسی پہاڑی ڈھلوان پر قائم کیا جو افغان سرحد سے آنے والی کسی بھی شیلینگ کی زد سے محفوظ ہے نہ توپ خانہ اس پر گولہ باری کرسکتا ہے نہ ہیلی کاپٹر فضائی غوطہ لگاکر اس کا نشانہ لے سکتا ہے اُس وقت توپ خانہ،گنرز اور اوپی(OP)کا تصور موجود تھا برٹش سرکار نے اُس حساب سے قلعے کی تعمیر کے لئے محفوظ جگہ ڈھونڈ لیا بعد میں یہ جگہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کے خلاف بھی دفاعی مورچہ ثابت ہوئی۔سوئیر گاؤں فوجی حملے سے مغرب کی سمت میں دریا کے دائیں طرف واقع ہے۔اوسیاک پُل سے7کلومیٹر کا کچا راستہ اس کو فوجی قلعہ اور دروش کے بڑے قصبے سے ملاتا ہے افغانستان میں امریکہ اور سویت یونین کی جنگ1985میں شروع ہوئی افغان مہاجرین کی آمد کے بعد چترال اور دروش کے مختلف مقامات پر ان کے لئے مہاجر کیمپ بنائے گئے دروش کا بڑا مہاجر کیمپ دریا کے بائیں طرف کلکاٹک کے مقام پر واقع تھا یہ جگہ بھی فوجی قلعے کی طرح دشمن کی زد سے محفوظ تھی شاید اسی وجہ سے دریا کے اُس پار سوئیر کا ہرابھرا گاؤں دشمن کے نشانے پر آیا اُس دن کی یادوں کو کریدتے ہوئے سماجی کارکن حیدر عباس کہتے ہیں کہ دروش میں جس کے پاس گاڑی تھی وہ زخمیوں کو لانے کے لیے سوئیر پہنچ گیا جس کے پاس گاڑی نہیں تھی وہ خون دینے کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچ گیا آدھ گھنٹے کے اندر ریسکیواپریشن شروع ہوا۔حالانکہ دوسری بار حملے کا خطرہ موجود تھا مگر لوگوں نے جان کی پروا نہیں کی۔سوئیر کی ممتاز شخصیت پروفیسر سید توفیق جان کہتے ہیں کہ قیامت صغریٰ کا منظر مجھے یاد مت دلاؤ جب 13بے گناہ شہری شہید ہوئے22 ٹی ایچ کیو ہسپتال لے جائے گئے تین زخمیوں کو فرنٹیر ورکس ارگنائزیشن کے فیلڈ ایمبولینس پہنچایا گیا جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ٹی ایچ کیو ہسپتال ریفر کیا گیا۔ٹی ایچ کیو ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر فدا عزیز الدین تھے اُنہوں نے پہلے دن27زخمیوں کو داخل کیا۔زخمیوں اور مرنے والوں میں کوئی مہاجر نہیں تھا۔بعض لوگوں نے اس کو17مارچ1936کا واقعہ لکھا ہے اور کالکٹک پر بمباری کاذکر کیا ہے دونوں باتیں غلط ہیں۔ریکارڈ کو درست رکھنا ضروری ہے۔ اُس دن کو یاد کرکے ڈاکٹر فداعزیز الدین کہتے ہیں کہ لوگوں کو حوصلہ دینے والوں میں لفٹننٹ کرنل مرادخان نیئر،مولانا عبدلاحمید بلبل چترال اور سیاسی شخصیت حاجی خورشید علی پیش پیش تھے جونہی سوئیر پر بمباری ہوئی حاجی نظام نے اپنے میڈیسن سٹور کا سارا مال لاکر ہمارے حوالے کیا ایک گھنٹہ بعد زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا تو ہسپتال کاعملہ بھی حاضر ہوچکا تھا علاج معالجے کاپورا سسٹم فعال ہوچکا تھا 2جون 1985کو صوبائی گورنر لفٹننٹ جنرل فضل حق نے سوئیر گاؤں اور دروش ہسپتال کا دورہ کیا ایک ہفتہ بعد8جون 1985کوچیف آف آرمی سٹاف اور صدر مملکت جنرل ضیاء الحق نے بمباری سے متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا اور ہسپتال میں داخل زخمیوں کی عیادت کی۔جنرل ضیاء الحق نے اُس وقت سوئیرکے لئے سکول کی منظوری دی۔اگرچہ وی آئی پی مہمانوں کو سوئیر کی سڑک اور اوسیاک پُل کی مخدوش حالت پر بھی بریفنگ دی گئی مگر اس بریفنگ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔1901میں تعمیر کیا ہوا جھولا پُل ناکارہ ہوچکا ہے۔سڑک اس سے بھی زیادہ مخدوش حالت میں ہے۔فرنٹ لائن پر واقع سوئیر گاؤں کے لوگ اُس دن کو یاد کرکے کہتے ہیں کہ فرنٹ لائن کی وجہ سے ہمارے حصے میں لاشیں آئیں،قبریں آئیں اپنوں اور عزیزوں کے معذوری آئی۔نہ ہمارا پُل تعمیر ہوا،نہ ہماری سڑک بنی،شعیب بن عزیز نے ایسے مواقع کیلئے ایک مصرعہ کہا تھا”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“آج عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ چاہے کوئی گاؤں فرنٹ لائن پرہو،ہسپتال ہویا ڈاکٹر ہو فرنٹ لائن ہونے کے بڑے نقصانات ہیں۔سوئیر گاؤں سے افغان سرحد پائنا سون اور اورسون کو راستہ جاتاہے۔1901سے اس علاقے میں چترال سکاؤٹس کا گشت جاری ہے۔اس کے باوجود اوسیاک جنجریت پُل اور سوئیر روڈ پر کبھی کام نہیں ہوگاافغان خانہ جنگی کے دوران سرحد کی طرف توپ خانے کو حرکت دینے کی ضرورت پیش آئی مگرراستہ ہی نہیں تھا۔سوئیر گاؤں پر بمباری کے بعد بھی اسطرف کسی نے توجہ نہیں دی۔یہی وجہ ہے کہ فرنٹ لائن والوں سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے۔ان کو بنیادی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔غالب نے اسی لئے کہاتھا۔

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن

خاک ہوجائینگے ہم،تم کو خبر ہونے تک

Facebook Comments