94

اپر چترال میں قرنطینہ مرکز کا نظام مایوس کُن ہے۔ مرکز سے اس وبا کو روکنے کے سلسلے کسی سنجیدگی کی عکاسی نہیں ملتی۔ آل پارٹیز اپرچترال

بونی(ذاکرذخمی سے) ممبر صوبائی اسمبلی چترال وا چیرمین ڈیڈک اپر چترال مولانا ہدایت الرحمٰن کی کال پر آج اپر چترال میں آل پارٹیز کے نمائیندہ گاں اور سول سوسائٹی کے افراد کا مشترکہ غیر معمولی اجلاس تحصیل میونسپل ہال بونی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں بونی اور قرب و جوار کے عمائدین نے شرکت کی۔ ایم۔پی۔اے مولانا ہدایت الرحمٰن ابتدائی کلمات اور میٹنگ بولانے کے مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائریس سے پیدا شدہ صورت حال اور اب تک کے تجربات کی روشنی میں ضرورت اس امر کی پڑی ہے کہ باہمی مشاورت اور انتظامیہ کے ساتھ اتفاقِ رائے سے منظم لایحہ عمل مرتب کرکے اس وبا کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اور منظم اقدامات اٹھایا جانا ہے۔ اس لیے آپ کی اراء کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے ساتھ ایک میٹنگ کی جائیگی جس میں آپ کی شرکت اور مشاورت سے اگے بڑھنے کے لیے حکمت عملی بنائی جائیگی۔
میٹنگ میں موجود شرکاء جن میں جمیعت علماء اسلام اپر چترال کے سنئیر نائب امیر مولانا فتح الباری،جماعتِ اسلامی اپر چترال کے امیر مولانا جاوید حسین،تحریکِ انصاف کے سردار حکیم،پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے جنر سکرٹری حمید جلال، پیپلز پارٹی کے سرگرم راہ نما پرویز لال،پاکستان مسلم لیگ کے پرنس سلطان الملک،تحریکِ حقوق اپر چترال کے سنئیر نائب صدر رحمت سلام لال،سابق تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف،تجار یونین کے جنرل سکرٹری ذاکر محمد زخمی و دیگر نے اپنے رائے دیتے ہوئے کرونا کی وبا ء کو روکنے کے لیے اب تک کے اقدامات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اپر چترال میں قرنطینہ مرکز کا نظام مایوس کُن ہے۔اس میں کہیں بھی سنجیدگی نظر نہیں ارہی ہے۔اس مرکز سے اس وبا کو روکنے کے سلسلے کسی سنجیدگی کی عکاسی نہیں ملتی۔ جہاں طبی سہولیات کے جملہ اصولوں کو نظر انداز کی جاتی ہے۔اور نہ صحت کی مروجہ اصولوں کے مطابق ماحول میاثر ہے۔ سماجی فاصلے کے کوئی آثار دیکھائی نہیں دیتا۔مرکز میں موجود افراد دن رات اپس میں خوش گپیوں اور مل ملاپ میں مصروف رہتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ یہ مرکز کوئی وائریس روکنے کے حفاظتی اقدامات کے لیے نہیں بلکہ وائریس پھیلانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اور ساتھ باہر سے ائیے ہوئے لوگوں کو انٹر ی کرکے انہیں گاوں کی راہ دیکھائی جاتی ہے۔اور یہ ہی لوگ گاوں پہنچکر کر کسی بھی حفاظتی اصولوں کی پیروی کیے بے غیر مسجیدوں،عبادت خانوں میں بلا خوف و خاطر حاضر ہوتے ہیں اور سماجی رابطوں میں رہتے ہیں۔جو کہ ایک خطر ناکے صورت حال ہے۔ اور جن لوگوں کو قرنطینہ سنٹر میں رکھا جاتا ہے۔وہاں بھی ان کے ساتھ تسلی بخش سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ وہاں یہ تمیز نہیں کہ کس کو کہاں رکھا جائے۔ اس وجہ سے تندرست اور صحت مند افراد بھی ذہنی مریض اور نفسیاتی طور پر پریشان رہتے ہیں۔اگر خدانخواستہ ایک مریض یا متاثرہ فرد قرنطینہ میں موجود ہو تو وہاں سب خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
لہذا ان لوگوں کو قرنطینہ مرکز میں رکھ کر ذہنی مریض بنانے کے بجائے کوئی ایسی نظام واضع کی جائے جس سے ان لوگوں کے لیے خیر اور انتظامیہ کے لیے آسانی ہو۔ شراکاء نے تجویز دی کہ ہر یونین کونسل یا ویلیج کونسل سطح پر رضا کار تنظیم بنائی جائے جہاں سابق ویلیج ناظمین، کونسلرز، اساتذہ اور پیش امام اور واعظین وغیرہ کی خدمات حاصل کرکے انہیں ڈپٹی کمشنر یہ اختیار دے کہ وہ ان لوگوں پر نظر رکھیں جو باہر سے گاوں پہنچتے ہیں۔ اور انہیں گھروں یا قریبی سکولوں میں قرنطینہ مرکز بنا کر وہاں منتقل کرکے ان کی نگرانی کریں۔ اور متعین ایام تک یہ رضاکار ان کی نگرانی کرتے رہے۔کسی بے ضبطگی کے صورت میں قریبی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دیکر بے جائی کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ کاروائی عمل میں لایا جائے تو اس صورت حال میں ایک طرف لوگ ذہنی پریشنانی سے چھٹکارہ پا لینگے تو دوسرے طرف انتطامیہ کے لیے بھی اسانیاں پید ہونگے۔اور وباء پھیلنے کے حدشات کم سے کم رہ جائینگے۔۔مقررین میں حمید جلال نے اس بات کی نشاندہی کی۔ کہ مختلف سرکاری آفیسر تمام اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ازادنہ طور پر چترال انے جانے میں مصروف ہیں۔ اس لیے ان سب پر اصولوں کی پاسداری لازم قرار دی جائے۔ اور ہر انے والے کو حفاظتی اقدامات کے پیش نظر قرنطینہ میں قیام کو لازمی بنایا جائے۔ اس وبا ء کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کس کو لگتی ہے کس کو نہیں۔
آخر میں ممبر صوبائی اسمبلی ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال ہر حال میں بہتریں تعاون کرنے والے انتظامی سربراہ ہیں جو ہر وقت ہمارے جائز مشوروں پر مثبت کردار ادا کرتا رہتا ہے۔اس سلسلے ایک دو روز میں ان کے ساتھ با قاعدہ میٹنگ کرکے ان مسائل کے حل کرنے کے سلسلے راہ نکالی جائیگی۔ اور ساتھ ایم۔پی۔اے نے مزید کہا کہ اس وقت ہمارے بہت بہیں بھائی ضلع سے باہر انتہائی پیرشانی اور مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہمیں احساس ہے کہ وہ کن پریشانیوں سے دوچار ہیں جامع طریقہ کار واضع ہونے کے بعد انہیں چترال لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔تاکہ ان کے پریشانی دور ہو سکے۔

Facebook Comments