58

پچیس ا پریل کو آٹا اور چینی مافیا کے بارے میں آنے والے فرانزک رپورٹ میں دو ہفتے کی تاخیر نے معاملے کو مشکوک بنادیا ہے۔

پشاور (آوازچترال نیوز)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ 25اپریل کو آٹا اور چینی مافیا کے بارے میں آنے والے فرانزک رپورٹ میں دو ہفتے کی تاخیر نے معاملے کو مشکوک بنادیا ہے۔ حکومت کی جانب سے فرانزک رپورٹ میں تاخیر قابل مذمت ہے۔ حکومت نے وعدہ کرکے ایک بار پھر عوام کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کیا ہے۔ وزیر اعظم اپنے چہیتوں کو بچانے کے لئے رپورٹ میں ہیر پھیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماہ صیام کے شروع ہوتے ہی سبزیوں، پھلوں اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ قابل افسوس ہے۔ دالیں، سبزیاں اور پھل پہلے ہی عوام کی دسترس سے باہر تھے، اوپر سے مرغی کے گوشت کی فی کلو قیمت میں 22روپے کا اضافہ کردیا گیا۔ حکومت کی گرفت کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔ مہنگائی کے سونامی نے غریب عوام کو تباہ کردیا ہے۔یہ حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور سے جاری کئے گئے بیان میں کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ حکومت ایک طرف مارکیٹ اور منڈیوں پر انتظامی گرفت کھوچکی ہے، دوسری طرف آٹا اور چینی کی رپورٹ میں تاخیر نے کئی سوالات کھڑے کردئے ہیں۔ ذخیرہ اندوز اور مہنگائی مافیا کابینہ کے اندر، حکومتی صفوں میں موجود اور حکومت پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے روزے سے ہی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔دکاندار من مانی قیمتیں وصول کررہے ہیں۔کورونا کی وجہ سے بے روز گار ہونے والے لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں اور عام آدمی کیلئے افطاری اور سحری کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز لوگوں کے منہ کا نوالہ بھی چھین لیں گے۔لگتا ہے حکومت مکمل طور پر بے بس ہوچکی ہے۔انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ فرانزک رپورٹ جلد از جلد منظر عام پر لائی جائے اور وزیر اعظم ذخیرہ اندوز وں اور آٹا، چینی مافیا کو بے نقاب کرکے انہیں سزا دیں۔

Facebook Comments