67

کورونا وائرس، اربوں ڈالر کے سی پیک منصوبے متاثر، تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں

اسلام آباد( آوازچترال نیوز) کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستانی حکام نے سی پیک منصوبوں میں تاخیر سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔  قومی اقتصادی کمیٹی (این سی سی) کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والی چین کی کمپنیوں کو تاخیر اور زیادہ لاگت کے ساتھ سپلائی چین اور مزدوروں سے متعلق مسائل کا سامنا ہوگا۔  اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کے قیام کا منصوبہ بھی متاثر ہوگا کیوں کہ چین کی کمپنیوں کو فوری افرادی قوت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز بہت اہمیت کے حامل ہوں گے۔  یہ مانا جارہا ہے کہ جی۔8 ممالک کاروبار سے متعلق بہت سوچ بچار کررہے ہیں تاکہ عالمی سپلائی چینز کو وسعت دی جاسکے تاکہ ایک ملک میں ایمرجنسی صورت حال ہونے کی صورت میں وہ دیگر ذرائع پر انحصار کرسکیں۔  یہاں تک کے چین میں کچھ بڑے کاروباری افراد یہی سوچ رکھتے ہیں اور وہ اپنے پروڈکشن ہائوسز کو مختلف ممالک میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ پاکستان اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے عالمی کاروبار کے مواقعوں سے مستفید ہوسکتا ہے۔  اس حوالے سے بہترین پالیسی کی ضرورت ہے۔ غیر یقینی صورت حال سے پالیسی سازی کا عمل پیچیدہ ہوسکتا ہے۔  صحت کے نظام اور سماجی تحفظ کے لیے مستقل رقم کی ضرورت سے بجٹ ناکافی ہیں۔  اسی لیے بروقت اور زیادہ متاثرہ شعبوں کے لیے پالیسی کی ضرورت ہے جو کہ جزوقتی طور پر ٹیکس ریلیف اور کیش ٹرانسفرز کے ذریعے ہوسکتی ہے۔  آمدنی اور خرچوں کے مقاصد میں ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی کیوں کہ کم درآمدات کے نتیجے میں کم آمدنی کے ساتھ وبا سے نمٹنے کے لیے خرچوں میں اضافے سے مالی خسارہ بڑھ جائے گا۔ جس کی وجہ سے قرضوں کی صورت حال متاثر ہوگی۔  اسٹیٹ بینک کو چاہیئے کہ وہ بینکوں کو وافر لیکویڈیٹی فراہم کرے خاص طور پر ایس ایم ایز کو کیوں کہ ان کی مالی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بہت سے کاروبار میں لیکویڈیٹی مسائل کا سامنا ہوگا۔  رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹوں میں سختی ہوگی لہٰذا برآمدات اور ترسیلات، مالی توازن دردناک ہوسکتا ہے، قرضوں میں اضافہ مسائل کا سبب ہوگا، ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقوم ملنا مشکل ہوگا، آمدنی میں اضافہ دشوار جب کہ اخراجات میں بےتحاشہ اضافہ ہوگا اور ان سب کے لیے مستحکم پالیسی بنانا ضروری ہے تاکہ اس بحران سے نکلا جاسکے۔

Facebook Comments