78

ڈی سیز لاک ڈاؤن پر عملدرآمد یقینی بنائیں ٗ وزیرا علیٰ محمود خان

پشاور (آوازچترال رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کورونا صورتحال میں تمام ڈویژنل کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور طبی عملے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انتظامیہ اس مشکل صورتحال میں عوام کی مزید بہتر انداز میں خدمت اور اُنہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوششیں کریں۔ وزیراعلیٰ نے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات کی وہ اپنے اپنے علاقوں میں لاک ڈاؤن اور سماجی رابطوں کو کم سے کم کرنے کیلئے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور جن صنعتوں اور کاروبار کو کھولنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اگر وہاں پر حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہو رہاتو اُن کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور اُنہیں بند کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ رمضان کے مہینے میں بازاروں میں روزانہ کی بنیادوں پر پرائس چیکنگ اور ذخیروں اندوزوں پر کڑی نظر رکھنے کیلئے اپنے ماتحت تمام عملے کو ابھی سے متحرک کردیں۔ وہ منگل کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تمام ڈویژنل کمشنرز کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔  وزیراعلیٰ کے ہمراہ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑ ا اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر کا ظم نیاز کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز جبکہ ڈویژنل کمشنرز کے ہمراہ ڈپٹی کمشنرز اور علاقے کے منتخب عوامی نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ تمام کمشنرز نے اپنے اپنے ڈویژن میں کورونا صورتحال سے متعلق مختلف اُمور بشمول کیسز کی تعداد، لاک ڈاؤن کی صورتحال، کھولی گئی صنعتوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد، اشیائے خوردونوش، اسٹاکس، ٹیسٹنگ کی استعداد، قرنطینہ اور آئسولیشن کی سہولیات، طبی عملے کیلئے حفاظتی اشیاء کی فراہمی اور دیگر مختلف معاملات کے بارے میں وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے موجود صورتحال کو سب کیلئے ایک مشکل وقت قرار دیتے ہوئے منتخب عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی روابط میں رہیں بعض عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ بینکوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائیں۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ جن علاقوں میں کورونا کیسز سامنے آرہے ہیں وہاں پر لاک ڈاؤن کو سخت کرنے اور سماجی رابطوں کو کم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں جبکہ رمضان المبارک کے دوران مساجد میں عبادات کی ادائیگی کیلئے علمائے کرام کی مشاورت سے طے شدہ ایس او پیز پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے مقامی علماء اور آئمہ مساجد کی مشاورت سے لائحہ عمل ترتیب دیئے جائیں۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف جرمانہ کرنے اور اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے اُن کے مسائل کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں اور اُنہیں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیلئے قائل کریں۔  محمود خان نے کہاکہ مخصوص ملکی حالات کی وجہ سے ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم مکمل لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگ بھوک و افلاس کا شکار ہو جائیں گے اور اگر لاک ڈاؤن ختم کریں گے تو وباء پھیل جائے گی اسلئے ہمیں ان دونوں چیزوں کے درمیان توازن سے کام لینا ہو گا۔ گندم کی خریداری کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ رواں سیزن کیلئے مقامی سطح پر گندم کی خریداری کا عمل بروقت شروع کریں اور اس سلسلے میں اپنے اپنے اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کورونا کی وباء اچانک سے پھیلی اور دُنیا کے کسی بھی ملک میں اس سے نمٹنے کیلئے کوئی تیار ی نہیں تھی، یہی صورتحال پاکستان اور خیبرپختونخوا میں بھی تھی لیکن حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا آغاز کر دیا اور ابتدائی دنوں کی نسبت صوبے میں اس وقت انتظامات بہت بہتر ہوئے ہیں

Facebook Comments