88

چترال کے دونوں اضلاع کی انتظامیہ اور ممبران اسمبلی کی ہٹ دھرمی و طے شدہ فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں بالاخر چترال بھی کرونا وائرس کا مرکز بن گیا

چترال ( نمائندہ آوازچترال ) چترال کے دونوں اضلاع کی انتظامیہ اور ممبران اسمبلی کی ہٹ دھرمی و طے شدہ فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں بالاخر چترال بھی کرونا وائرس کا مرکز بن گیا ۔ اور دو دنوں کے اندر پانچ کیسز کا پازیٹیو آنا اس کی واضح مثال ہے ۔ چترال میں اب تک سامنے آنے والے تمام کیسز کا تعلق باہر سے آنے والے افراد سے ہے۔ اور گذشتہ ڈیڑھ مہینوں کے دوران ہزاروں افراد چترال میں داخل ہوئےہیں ۔ خصوصا حالیہ ایک عشرے میں مختلف شہروں سے چترال آنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ عوامی حلقوں کا کہناہے ۔ کہ دونوں ڈپٹی کمشنر اور ممبران اسمبلی نے ابتدا میں لواری ٹنل کے راستے چترال میں داخلے پر سختی سے پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن بعد آزان ممبران اسمبلی کی طرف سے سیاسی سکورنگ اور انتظامیہ کی طرف سے اپنے اختیارات کے غلط استعمال نے چترال کے لوگوں کو ان حالات سے دوچار کر دیا ۔ جن کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا ۔ آج لوئر اور اپر چترال دونوں اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔جبکہ لاتعداد افراد اب بھی قرنطینہ اور ٹسٹ سے باہر ہیں ۔ خصوصا اپر چترال میں قرنطینہ کے بغیر افراد کی تعداد قرنطینہ میں رہنے والوں سے زیادہ ہیں ۔ ادھر پانچ پازیٹیو کیسز کے حامل مریضوں شہاب الدین چیوڈوک چترال ،شیر نواز برزین گرم چشمہ ،رحمت ولی و شمس اکبر ساکنان چمرکن چترال اور شیر گلاب بونی اپر چترال نے اپیل کی ہے ۔ کہ ہسپتال انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ان کے ساتھ سلوک انتہائی افسوسناک ہیں ۔ شیرنواز اور شہاب الدین نےکہا ہے ۔ کہ انہیں بروقت کھانے کو کچھ دیا جارہا ہے ۔ اور نہ ان کی سابقہ بیماری کی ادویات انہیں فراہم کی جاری ہیں ۔ انہیں جیتےجی موت کے منہ میں دھکیلنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ جبکہ دیگر مریضوں کی حالت بھی بہتر نہیں ہے ۔ ہسپتال انتظامیہ ایک ہیجانی کیفیت اور خوف میں مبتلا ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کے علاج کے دوران استعمال میں آنے والے مخصوص لباس اور سامان دستیاب نہیں ہیں ۔ اور ہسپتال اب تک صرف وعدوں اور اعلانات پر چل رہا ہے ۔ اس لئے ڈاکٹرز صرف اپنی جانیں بچانے کی فکر میں ہیں ۔ چترال میں ہانچ کیسز کے سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے کل کی طرح منگل کے روز بھی لاک ڈاون سختی سے برقرار رکھا ۔ اور چترال بازار میں دکانیں بدستور بند رہیں ۔ جبکہ مضافات میں دکانیں معمول کے مطابق کھلی رہیں ۔ اور مضافات میں سماجی فاصلے کی ہدایات پر بھی عمل ہوتا ہوا نظرنہیں آتا ۔ جس سے مذید خدشات کو تقویت مل رہی ہے ۔

Facebook Comments