82

مائننگ سیکٹر کو لاحق ہونے والی نقصان اور اس سیکٹر سے وابسہ دہاڑی دار طبقے کو کام کی بندش کی وجہ سے بے روزگاری پر جامع پیکج دیا جائے

چترال ( نمائندہ آوازچترال)جمعہ کے روز چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیاگیاکہ چترال میں حالیہ نوول کرونا وائرس کی وجہ سے مائننگ سیکٹر کو لاحق ہونے والی نقصان اور اس سیکٹر سے وابسہ دہاڑی دار طبقے کو کام کی بندش کی وجہ سے بے روزگاری سے دوچار ہونے کی بنیاد پر اس سیکٹر کے تمام افراد کے لئے ایک جامع پیکج کا اعلان کیا جائے۔ اس موقع پر ایک متفقہ قرارداد میں کہا گیاکہ چترال ایک پسمندہ دور افتادہ علاقہ ہے اور اس علاقے میں مائننگ کا کام صرف اور صرف سیزن میں یعنی مارچ تا اکتوبر تک ہوتا ہے اور یہ کہ چترال پاکستان کے دوسرے اضلاع کی نسبت جعرافیائی پس منظر یکسر مختلف ہے اس لئے یہاں پر خصوصی پیکج ناگزیر ہے جس میں اس شعبہ سے وابستہ منرل ڈیپارٹمنٹ سے گرانٹ شدہ ایریا کیلئے آسان شرائط پر مائن اونرز کوقرضے کی فراہمی اور مائننگ سیکٹر کے حوالے سے بقایاجات کی معافی بھی شامل ہے۔ اس موقع پر سمیڈا سے خصوصی اپیل کیا گیا کہ مائننگ اینڈ اندسٹری سے منسلک اونرز کی بحالی کے لئے فنڈز کا اجراء کیا جائے۔ اجلاس ایسوسی ایشن کے سینئر رہنما رضیت باللہ کی صدارت میں ہوا جس میں سینئر رہنماؤں محمد رفیع، حضرت الدین، شجا ع احمد، بشیر احمد خان اور شہزادہ زلفی بھی شامل تھے۔

Facebook Comments