89

دادبیداد۔۔۔۔قرنطینی کالم….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

چار خبریں ہیں ایک پر لکھو تو صوبائی حکومت ناراض ہوگی دوسرے پر لکھو تو امریکی سفارت خانے میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوجائینگی تیسری خبر کو اُٹھاؤ تو علمائے کرام کا پورا طبقہ ناراض ہوجائے گا۔چوتھے خبر کوموضوع بناؤ تو وفاقی حکومت کے ماتھے پر پورے12بجے ہونگے عافیت اسی میں ہے کہ قرنطینی کالم لکھا جائے قرنطینی کالم کیا ہوتا ہے یہ ایسا کالم ہوتا ہے جو اکسیجن گیس کی طرح بے رنگ،بے بو اور بے ذائقہ ہوجسے پڑھ کرکسی کی جبیں پر شکن آنے کا خدشہ نہ ہو یہ3سال پہلے کا واقعہ ہے شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپورمیں کانفرنس تھی عنوان تھا”ادب اور ماحولیات“ کانفرنس میں 7ممالک کے مندوبین اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ شریک تھے جن کویونیورسٹی کے ہاسٹلوں اور رہائش گاہوں میں ٹھہرایا گیا تھا خیبر پختونخوا کے مندوبین کوسرکٹ ہاؤس میں جگہ دی گئی تھی تاہم کانفرنس میں وقفوں کے دوران ہم لوگ اپنا دستی بیگ اُٹھا کرقریبی ہاسٹلوں میں وقت گذارتے تھے مجھے ان لمحات میں رضا علی عابدی صاحب اپنے کمرے کی زیارت کراتے اوراپنی صحبت سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتے تھے گفتگو میں کھبی ناصر کاظمی کے فرزند ارجمند باصر کاظمی شریک ہوتے کھبی زاہدہ حنا کی شرکت سے محفل کا رنگ دوبالا ہوجاتا اور کھبی ڈاکٹر خلیل طوقار کی تشریف آوری سے مجلس میں رونق آجاتی سب لوگ رضا علی عابدی کو چھیڑ کربات سے بات نکالنے کی کوشش کرتے کوئی ریل کہانی کا قصہ لے بیٹھا کوئی شیر دریا کی کہانی بیچ میں لے آتا،کوئی سُدھو بھائی کے چٹکلوں کا ذکر کرنے بیٹھتا۔محفل ایک بار جمتی تو جمی رہتی۔ایک ایسی نشست میں باصر کاظمی نے رواں کانفرنس میں 40صفحوں کے مقالے پڑھے جانے اور اُکتاتے ہوئے سامعین کے اونگھنے کا ذکر چھیڑدیا،زاہدہ حنا نے کہا اب تک کی 9نشستوں میں سے صرف ایک نشست کا ایک ہی مقالہ ”خواب آور“ تھا۔باصر کاظمی نے کہا دوایسے ہی خواب آور مقالے اگلی نشست میں رکھے گئے ہیں رضا علی عابدی نے کہا میرے 40سالہ تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ ریڈیو،ٹیلی وژن اور سیمینار یا لکچر کے سامعین 7منٹ تک دلچسپی اور توجہ سے آپ کی بات سنتے ہیں۔اس کے بعد آپ چاہے کیسی ہی گل افشانی کیوں نہ کریں سامعین کا صبرجواب دے دیتا ہے،جمائیاں شروع ہوجاتی ہیں،کھسر پھسر کا آغاز ہوتا ہے،غنودگی آجاتی ہے،خواب کی سی کیفیت چھا جاتی ہے۔یہ تقریر اور تحریر کا بنیادی اصول ہے کہ قلم کار اپنے قارئین اور مقرر اپنے سامعین کو بیدار رکھے اور دلچسپی میں گرفتار رکھے ورنہ لکھنے کا فائدہ نہیں،تقریر بے سود ہے ہمارے ایک ہردلعزیز استاذ ہواکرتے تھے فن خطابت میں طاق اور تقریر بازی میں مشاق تھے۔ان کی مختصر تقریر 3گھنٹے کی ہوتی تھی ایک بار پرنسپل نے انہیں صبح کی اسمبلی میں طلباء سے مختصر خطاب کی دعوت دی۔یہ خطاب عموماً 3منٹ کا ہوتا تھا۔موصوف نے سکول کی تیسری گھنٹی تک تقریر ختم نہیں کی تو ڈرل ماسٹر نے طلباء کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اساتذہ کیلئے کرسیاں لائی گئیں۔استاذ محترم کی تقریر کے دوران تفریح کی گھنٹی بجی تفریح ختم ہوئی تفریح کے بعد مزید3گھنٹیاں بجیں یہاں تک چھٹی کی گھنٹی بجی اور بچہ لوگ اپنے بستوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے مسلسل 7گھنٹے ہمیں اپنی خطابت کا اسیربنانے کے بعد استاذ محترم نے ایک فارسی شعر کا مصرعہ پڑھا ”فصل گل سیر ندیدیم وبہار آخر شد“میں نے پھولوں کے موسم کا لطف نہیں اُٹھایا تھا کہ بہار کا موسم ختم ہوا۔عزیزان من موضوع ابھی باقی ہے بچے اُٹھ کرچلے گئے بارزندہ صحبت باقی۔ایک محفل میں ہمارے ایک مہربان کو دعوت خطاب دیتے وقت استدعا کی گئی کہ5منٹ میں خیر الکلام سے شرکائے محفل کو نوازا جائے۔مہربان نے5منٹ کے موضوع پر آدھہ گھنٹہ لے لیا اور اختصار سے بتایا کہ کس کس مجلس میں اُن سے مختصر بات کرنے کی استدعا کی گئی اور انہوں نے کس طرح دلیل کے ساتھ قلیل کلام کرکے خیرالکلام کا حق ادا کیا اس تمہید کے بعد مہربان نے ڈیڑھ گھنٹہ خطاب کیا ہم نے آنکھ کھولی تو مہربان کی زبان پر وماعلینا الالبلاغ آچکا تھا کچھ لوگوں نے تالیاں بجائیں تومیرے پہلو میں اونگھنے والے دوست نے کہا تہ تالیاں ”ریمانڈ“ ختم ہونے پر بجائی جارہی ہیں میرے حلقہ احباب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کانفرنسوں میں مقررین کو سننے کی جگہ افسانہ،ڈرامہ،کالم یاطویل نظم پرطبع آزمائی کررہے ہوتے ہیں۔رضاعلی عابدی کہتے ہیں کہ زمانہ بدل چکا ہے،یہ محمد حسین آزاد یا رتن ناتھ سرشار کازمانہ نہیں یہ فیس بک اور ٹویٹر کا دور ہے اگر آپ1200الفاظ کی تحریر لکھ رہے ہیں تو ان میں سے 10یا20الفاظ بھی تمہید پر ضائع نہ کریں تمہید بالکل نہ باندھیں اگر آپ کو کسی مجلس میں 5منٹ گفتگو کرنی ہو تو20سیکنڈ تعارف اور تمہید پر ضائع نہ کریں جارج برنارڈ شا سے پوچھا گیا تھا آپ کو ایک گھنٹہ تقریر کیلئے کتنے دن تیاری کی ضرورت ہوگی اُنہوں نے جواب دیا کوئی تیاری نہیں کرونگا ابھی حکم کریں ابھی تقریر کرونگا۔پھر پوچھا گیا آدھہ گھنٹہ تقریر کے لئے کتنی تیاری کروگے؟انہوں نے کہا ایک ہفتہ لگے گا،پھر پوچھاگیا 5منٹ تقریر کے لئے کتنی تیاری کروگے،انہوں نے جواب دیا ایک مہینہ تیاری میں لگے گا کیونکہ لوگ شوق سے سن رہے ہونگے۔رضا علی عابدی کے تجربات کا نچوڑ یہ ہے کہ تمہید باندھنا قدیم اسلوب کی روایت کا حصہ تھا اب یہ قصہٗ پارینہ بن چکا۔اب تمہید کی کوئی ضرورت نہیں رہی اچھی تحریر وہ ہے جوتمہید کے بغیر سیدھی بات شروع کرے اور سیدھے انداز میں ختم کرے۔تاکہ قارئین اُکتاہٹ کاشکار نہ ہوں۔اچھی تقریر وہ ہے جو چند منٹوں میں ختم ہو جبکہ سامعین کے اندر مزید سننے کا شوق اور ذوق باقی ہومقرر کویہ کہنا نہ پڑے کہ وقت کم تھا،سامعین اس بات پر شاکی ہوں کہ مقرر کو بہت کم وقت دیا گیا۔قرنطینی کالم میں ماضی کی یادگار محفلوں کا ذکر خیرہوتا رہے گا۔یہی قرنطینی کالم ہے۔

Facebook Comments