69

دعا……تحریر کلثوم رضا

دعا کی ایک خوبصورت تشریح میری نظروں سے گزری کہ”دعا ایک فریاد ہے شب تاریک کی تنہائیوں میں گرنے والا پانی کا ایک قطرہ بھی دعا ہے،سر نیاز کا بے نیاز کے سامنے جھک جانا بھی دعا ہے،مضطرب دل کی دھڑکن بھی دعا ہے،دعا دینے والے کے در پر کبھی ہم سائل بن کر جاتے ہیں اور کبھی دعا دینے والا سائل بن کر ہمارے در پر دستک دیتا ہے“۔ تو ہم بھی کچھ دعا کا تذکرہ کرتے ہیں کہ دعا کیا ہے؟ اور اسکی قبول ہونے اور نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ نہایت عاجزی اور انکساری سے اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کو دعا کہتے ہیں۔دعا کے لیے وہ الفاظ موثر اور قیمتی ہیں جو دل سے اٹھتے ہیں اور زبان کی پوری تاثیر کو ساتھ لیے بارگاہِ الٰہی میں پہنچ کر رحمت خداوندی کو سمیٹ کر انسان کے دامن میں ڈال لیتے ہیں۔دعا ایک مستقل عبادت ہے جسے انسان ہر وقت اور ہر حال میں کرتا ہے۔دعا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جہاں دعا مانگنے والا وہیں دعا قبول کرنے والا ہوتا ہے۔مطلب جب بآواز بلند دعا مانگا جائے تو تو وہ دور سے سنتا ہے اور جب دل میں مانگا جائے تو وہ وہیں موجود ہے۔ارشاد خداوندی ہے کہ واذاسالک عبادی عنی فانی قریب یعنی یہ یقین دلایا گیا ہے کہ داتا اور فریادی کا قریب ہونا بہت ضروری ہے،اتنا قریب کہ کسی واسطے کی ضرورت نہ پڑے۔اللہ کی ذات تقرب پسند ہے اور یہی تعلیم اس نے اپنے بندوں کو دی ہے مگر ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے تقرب کے علاؤہ سب کچھ مانگتے ہیں اور گلہ بھی کرتے ہیں کہ ہماری فلاں فلاں آرزوئیں پوری نیہں ہوئیں۔اور یہ بلکل بھول جاتے ہیں کہ ہم نادانی میں وہی کچھ مانگ رہے ہوتے ہیں جو ہمارے لیے نقصاندہ ہیں۔حلانکہ انکا نہ ہونا ہی ہمارے لیے مفید ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ”تمہارا رب ذندہ اور کریم ہے جب بھی اسکا کوئی بندہ اس سے کچھ مانگتا ہے تو اسے خالی ہاتھ لوٹانے سے اللہ شرم محسوس کرتا ہے“۔اس لیے دعا مانگتے رہنا چاہئیے۔ دعا مانگنا شرط ہے اس کی منظوری شرط نہیں یہ اختیار رب کائنات کو ہے کہ وہ جو چاہے،جب چاہے ہمارے حق میں قبول فرمائے۔یہ یقین کر لینا چاہئے کہ کوئی بھی دعا بیاثر نہیں ہوتی دعاؤں کا اثر مستقبل کے کسی بھی زمانے میں ظاہر ہو گا۔دعا پر یقین ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔جتنا اللہ پر یقین مضبوط ہو گا اتنا ہی دعا پر یقین ہو گا۔دعا الفاظ کی محتاج بھی ہے اور الفاظ سے بے نیاز بھی۔ دعا کا انداز قبول کرنے والا خود ہی عطا کرتا ہے۔دعا دراصل ایک ندا ہے،فریاد ہے جو بندے کو اپنے خالق کے سامنے کرنی ہے۔خوش قسمت ہے وہ انسان جو دعا کا سہارا ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔جب بھی انسان دعا کا دامن ہاتھ سے چھوڑتا ہے تب مصائب میں گرفتار رہتا ہے۔ صاحب دعا صاحب محبت ہوتا ہے۔ اسی کی دعا قبول ہوتی ہے جو اپنی زندگی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق گذارے۔ ایک دفعہ تحریر پڑھی تھی”دعا قبول نہ ہونے کی وجوہات“تو اس میں درج تھا کہ ایک دفعہ ایک بزرگ حضرت ابراہیم ادھم بلخی سے کسی نے پوچھا،یا حضرت ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں تو حضرت کچھ یوں گویا ہوئے کہ مجمع پر سناٹا چھا گیا۔فرمانے لگے کہ ”اللہ اس لیے ہماری دعائیں قبول نہیں کرتا کہ ہم اللہ پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننے کے باوجود ان کی پیروی نہیں کرتے۔قران مجید پڑھتے ہیں مگر اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔یہ جانتے ہیں کہ جنت اللہ کی فرمانبرداری کرنے والوں کے لیے ہے مگر اس کی طلب نہیں کرتے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے مگر اس سے پناہ نہیں مانگتے۔ہمیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ شیطان مردود ہمارا دشمن ہے مگر ہم اس سے بھاگنے کے بجائے اسے دوست بناتے ہیں۔اس بات سے بھی خوب واقف ہیں کہ موت برحق ہے ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر سفر آخرت پر روانہ ہونا ہے مگر اس سفر کے لیے کوئی زادراہ ہمارے پاس نیہں صرف متاعِ دنیا سمیٹنے میں سرگرداں ہیں۔اپنے عزیزو اقارب کو اپنے ہاتھوں سے دفناتے ہیں مگر عبرت نہیں پکڑتے اور نہ ہی آپنی برائیاں ترک کرتے ہیں۔دوسروں کا عیب دل کھول کر بیان کرتے ہیں اور اپنا گریباں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ہمارے اندر کتنے عیوب ہیں بعض ظاہر ہیں بعض مخفی۔کون انسان ایسا ہے جو عیبوں سے پاک ہے۔بے عیب تو صرف اللہ کی ذات ہے۔انسان تو خطا کار ہے،غافل ہے اس لیے دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنے عیبوں کی خبر لینی چاہیئے۔یہ ہمارا حال ہے تو دعائیں کیسے قبول ہونگی؟ شیخ کی گفتگو ختم ہوئی تو سارا مجمع اشکبار اور نادم تھا۔ لیکن ہمارا حال اب بھی وہی ہے یہ سارے عیوب جو اپر مذکور ہیں ہمارے اندر ہیں اور ان سے توبہ بھی نہیں کرتے اور شور مچاتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔سب سے بڑی دیانت داری اپنا محاسبہ کرنا ہے۔لوگوں کے دل تو ہم صاف نہیں کر سکتے مگر اپنا دل صاف رکھنا تو ہمارے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ”یا اللہ ہم پر اتنا کرم نہ ہو کہ ہم تیری یاد سے غافل ہو جائیں اور اتنا غضب نہ ہو کہ ہم تیری رحمت سے مایوس ہو جائیں۔یا اللہ ہمیں منظور اور مقبول ہونے والی دعاؤں کی آگہی عطا فرمائیے اور ان دعاؤں کی توفیق عطا نہ فرمائیے جن پر باب قبولیت بند ہو۔۔امین

Facebook Comments