149

گذشتہ تین دنون کی مسلادھاربارش کے نتیجے میں ایک نوجوان جان بحق۔پشاور روڈ۔گرم چشمہ روڈ سیلاب اور پہاڑی تودہ گرنے سے بند

چترال ( نمائندہ آوازچترال) گذشتہ چھتیس گھنٹوں سے لوئر چترال اور اپر چترال میں مسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کے نتیجے میں ایک نوجوان جان بحق دوگھروں کو پہاڑی تودہ گرنے سے نقصان پہنچا۔ جبکہ ضلع بھر میں سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے کئی واقعات ہوئے۔ بارش کے دوران بالائی چترال کے مقام یارخون اوناوج کا نوجوان میر عزیز ولد عزیز خان جو بکریوں کیلئے چارہ لانے کیلئے جنگل گیا ہوا تھا۔ پہاڑ پر جان بحق ہوا۔ جس کی لاش بعد آزان گاءوں والوں نے گھر پہنچا کر سپرد خاک کیا۔ اسی طرح لوئر چترال کے مقام چمر کن میں دو بھائیوں شمس الحق اور مجتبی کے گھر پر پہاڑی تودہ گرا۔ جس سے دونوں کے مکانات اور سامان کو نقصان پہنچا۔ لیکن گھر کے مکین معجزانہ طور پر بچ گے ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں کے پانی میں طغیانی اور سیلاب سے پشاور چترال مین روڈ سمیت ضلع بھر کی سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ اور دریائے چترال میں پانی کی سطح سردیوں کے بعد پہلی مرتبہ بلند ہوئی ہے۔ مین چترال روڈ سیلاب سے عشریت اور چمرکن میں جبکہ چترال بونی روڈ مروئے کے مقام بند ہو گئے تھے۔ تاہم ریسکیو 1122نے چمرکن میں اسکیویٹر کے ذریعے سیلابی ملبہ ہٹاکر روڈ بحال کر دی ہے۔ بارشوں سے اورغوچ،شیشی کوہ، گولین، گرم چشمہ، زیئت، ریشن، بیوڑی وغیرہ مقامات میں بھی سیلاب آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ نردیت میں بڑا پہاڑی تودہ سڑک پر گرا ہے جس سے چترال شہر کے بالائی مضافاتی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ تودے کو ہٹانے کیلئے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نالہ ایون میں پانی کی سطح میں غیر معمولی طغیانی آئی ہے۔ اور کالاش ویلیز روڈ بُری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ اور کئی مقامات میں سڑک سیلابی ملبے سے بھر گیا ہے۔ پشاور چترال روڈ کی بندش سے خوراک کے ٹرک، سبزیات اور مرغیوں کے ڈاٹسن پک اپ جگہ جگہ پھنس گئے ہیں۔ اور خوراک کی ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔ ضلع بھر میں سڑکوں کی بندش اور کرونا وائرس کیلئے کئے گئے لاک ڈاءون کے نتیجے میں محدودپیمانے پر چلنے والی ٹریفک بھی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ بارشوں نے سڑکوں کا حلیہ بھی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ کیونکہ ضلع کے طو ل وعرض میں پہاڑی تودے اور سیلابی ملبہ سڑکوں پر آچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے رہی سڑکیں بھی تباہی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ جبکہ پہلے ہی سڑکیں کھنڈر کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ مین پشاور چترال روڈ اور چترال مستوج روڈ جس نا گفتہ بہہ حالت سے پہلے دوچار تھے۔ اب اُن کی حالت مزید بگڑگئی ہے۔ حکومتی بے حسی اور عوامی مسائل سے پہلو تہی کی وجہ سے لوگ پہلے ہی مشکلات کا شکار تھے۔ اب اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاءون اور مسلادھار بارشوں نے لوگوں کو بالکل محصور کرکے رکھ دیا ہے۔ مال مویشیوں کیلئے تازہ چارہ کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ خصوصا دیہاتی علاقوں کے لوگ جن کی زندگی کا مکمل انحصار تازہ دودھ کے حصول کیلئے مال مویشیوں پر ہے۔ لیکن پانی کی قلت والے علاقوں کے لوگوں نے بار شوں سے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ حالیہ بارش سے گندم کی فصل کووافر مقدار میں پانی مل گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود کرونا وائرس کا خوف، حکومتی سطح پر لاک ڈاءون، معاشی سطح پر درپیش مسائل نے کم وسائل والے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ خصوصا ایسے فراد جو اپنی عزت کی لاج رکھنے کیلئے کسی کے سامنے اپنی مجبوری بیان نہیں کر سکتے۔ عوامی حلقوں نے پر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ حکومت صرف کرونا کا بہانہ بنا کر عوام کی مشکلات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ ترک کرے۔ اور سڑکوں کی صفائی مرمت اور معاشی مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کرے۔

Facebook Comments