128

عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان کیلئے ایک ارب40 کروڑڈالرکے اضافی قرضے کی منظوری کا امکان

واشنگٹن(آوازچترال نیوز ) عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے مشترکہ سالانہ اجلاس آج واشنگٹن میں شروع ہونگے جس میں پاکستان کیلئے ایک ارب چالیس کروڑڈالرکے اضافی قرضے کی منظوری کا امکان ہے. تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے نمٹنے کیلئے سماجی دوری کی پالیسی کی وجہ سے ویڈیو لنک اجلاس ہوں گے مشترکہ سالانہ اجلاس 14 تا 17 اپریل تک جاری رہیں گے اجلاس کے آغاز پر ورلڈ اکنامک آوٹ لک رپورٹ بھی جاری کی جائے گی اجلاسوں میں عالمی دنیا کو درپیش معاشی چیلنجزبالخصوص کورونا سے پیدا صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا.اجلاسوں میں کئی اہم عالمی معاشی صورتحال کے حوالے سے فیصلوں کی منظوری بھی دی جائے گی اجلاس میں پاکستان کیلئے 1.   4 ارب ڈالر اضافی قرض کی منظوری کا امکان ہے اضافی فنڈزریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ کی مد میں دیئے جائیں گے‘واضح رہے کہ پاکستان نے کورونا کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے اضافہ فنڈزکی درخواست دی تھی. قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف )نے جن 25ممالک کے قرضوں میں فوری ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے ان میںپاکستان شامل نہیں ہے . آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکل معاشی صورتحال کے پیش نظر 25 ممالک کے قرضوں میں فوری ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے البتہ ان ممالک میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے‘آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے ایک طرح کی مدد ہے اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے ایگزیکٹیو بورڈ نے 25 ممالک کو آئی ایم ایف کے ریلیف ٹرسٹ کے تحت قرضوں میں ریلیف دینے کی اجازت دے دی ہے یہ آئی ایم ایف کی جانب سے کورونا کی وبا سے معاشیات پر پڑنے والے اثرات پر قابو پانے کے لیے ایک طرح کی مدد ہے.انہوں نے بتایا کہ سی سی آر ٹی اس وقت پانچ سو ملین امریکی ڈالرز کی گرانٹ بطور ریلیف دے سکتا ہے جن میں برطانیہ کی جانب سے 185 ملین ڈالر اور جاپان کی طرف سے دیے گئے سو ملین ڈالر شامل ہیں ان ممالک کے علاوہ چین اور نیدرلینڈز بھی ریلیف کے اس پروگرام میں شامل ہوں گے. انہوں نے بتایا ہے کہ س گرانٹ سے ہمارے غریب اور سب سے زیادہ متاثرہ ممبران کو آئی ایم ایف کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 6 ماہ مل جائیں گے تاکہ وہ اس وبا کے پھیلاﺅ کے پیش نظر اپنے دیگر مالی وسائل پر کام کر سکیں اور طبی اور امدادی کوششوں کو بہتر بنا سکیں.آئی ایم ایف کی جانب سے افغانستان، یمن، دی گیمبیا، گینی اور ہیٹی سمیت 25 ممالک کو یہ گرانٹ دی جائے گی تاہم ان میں پاکستان شامل نہیں ہے عالمی مالیاتی ادارے نے افغانستان، یمن، گیمبیا، گینی اور ہیٹی سمیت 25 ممالک کو قرض کی ادائیگی کیلئے 6ماہ کا رلیف دینے کا اعلان کیا ہے. داریں اثناءوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک تنگ دستی اور قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے کورونا وائرس سے شدید متاثر ہوں گے‘وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے قرضوں میں ریلیف کے لیے عالمی اقدامات کی اپیل کے حوالے سے جرمن چانسلر اینجلا مرکل سے ٹیلی فون پر گفتگو کی.گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے زور دیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر صحت اور معیشت میں غیر معمولی بحران پیدا ہوا ہے اور ترقی پذیر ممالک تنگ دستی اور قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے اس سے شدید متاثر ہوں گے‘انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کو کورونا وائرس سے یا بھوک سے موت کے مشکل انتخاب کا سامنا ہے. وزیر اعظم نے جرمن چانسلر کو آگاہ کیا کہ کووڈ-19 کے چیلنج سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی قابلیت کا انحصار فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف کی فراہمی پر ہے‘انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ جرمنی جیسے ممالک جی-20 ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس، بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں اس مسئلے کو اجاگر کریں گے.جرمن چانسلر سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کووِڈ 19 نے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی معاشی اور صحت کے بحران کو جنم دیا ہے اور اس بحران سے ترقی پذیر زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کی معاشی صورتحال پہلے ہی متاثر ہے. وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کا کووِڈ 19 کے چیلنج سے نمٹنے کا انحصار ایسے ممالک کو قرض میں فی الفور ریلیف فراہم کرنے پر ہو گا وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ساتھ جرمنی جیسے ممالک یہ معاملہ جی 20 وزرائے خزانہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے آئندہ اجلاسوں میں اٹھائیں گے.

Facebook Comments