75

دادبیداد….ہسپتالوں کی درجہ بندی……ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

50سال پہلے ہسپتالوں کی درجہ بندی کی گئی تھی یہ کٹیگری اے ہسپتال ہے یہ کٹیگری بی ہے،یہ سی ہے،یہ ڈی ہے،یہ رورل ہیلتھ سنٹر ہے اور یہ بیسک ہیلتھ یونٹ ہے50سال گذرنے کے بعد یہ درجہ بندی بے معنی ہوکر رہ گئی ہے۔دیہاتی علاقوں کے سارے ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔بعض ہسپتالوں میں کتے بچے دیتے ہیں۔بعض ہسپتالوں کی دیواریں گرچکی ہیں اور جنکی دیواریں نہیں گریں ان میں کوئی صحت مند انسان یا جانور سانس نہیں لے سکتا۔کورونا وائرس کا خدا بھلا کرے اس موذی جرثومے نے جہاں ہمارے لئے لاکھوں مشکلات اور مصائب پیدا کئے وہاں اس نامراد جرثومے کی وجہ سے ہمارے محکمہ صحت کی کارکردگی کا بھانڈا بیچ جوراہے کے پھوٹ گیا بلکہ بعض جگہوں پر پتہ لگ گیا کہ صوبے میں صحت کا کوئی محکمہ نہیں ہے۔ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا آئی سپشلسٹ 8سال پہلے تبدیل یا ریٹائر ہوا۔ اسکی جگہ8سالوں میں نیا سپشلسٹ نہیں آیا۔آنکھوں کی او پی ڈی 8سالوں سے بند ہے اپریشن ٹھیٹر پر تالا لگاہوا ہے۔لاوارث کا منظر پیش کررہا ہے۔گائینکالوجسٹ کی ریٹائرمنٹ کے بعداس کی جگہ خالی ہے۔اگلے10سالوں تک خالی رہے گی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ہسپتال کو2004ء میں کٹیگری بی کا درجہ دیا گیا تھا۔ماہر امراض قلب،ماہر امراض ہڈی وجوڑ،ماہر امراض گردہ اور ماہر تشخٰیص امراض(پیتھا لوجسٹ) کی آسامیاں دی گئی تھیں عمارتیں بھی تعمیر کی گئی تھیں۔اب یہ عمارتیں استعمال کئے بغیر مرمت کے قابل ہوگئی ہیں۔ایک بین لاقوامی این جی اونے یہاں برن اینڈٹراماسنٹر کی خوبصورت عمارت تعمیر کی تھی جو3سالوں سے خالی پڑی ہے،محکمہ صحت کے پاس اس کے جدید آلات کو استعمال کرنے کے لئے عملہ کی گنجائش نہیں۔فنڈ نہیں۔ایک دوسرے بین لاقوامی این جی او نے ہسپتال کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لئے جدید ترین پلانٹ کا تحفہ دیا تھا۔12سال ہوگئے،حکومت کے پاس پلانٹ(Incenirator) کو استعمال کرنے کے لئے عملہ نہیں ہے۔فنڈ بھی دستیاب نہیں۔سی ٹی سکین اور ایم آر آئی بہت دورکی بات ہے اس ہسپتال میں کلچر کا ٹیسٹ بھی نہیں ہوتاصوبے کے34اضلاع میں سے یہ ایک ضلع کی مثال ہے جس کانام پہلے چترال تھا اب اس کو برائے نام اپر اور لوئر میں تقسیم کرکے لاوارث چھوڑدیا گیا۔اُویر اپر چترال کی ایک بڑی وادی ہے جسکی آبادی 20ہزار ہے اس علاقے میں بی ایچ یو1976میں منظور ہوا۔1980ء میں عمارت تعمیر ہوئی گذشتہ 40سالوں سے یہ عمارت خالی پڑی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ اس دور میں منیجمنٹ انفارمیشن سروس کے نام سے جدید ترین سافٹ ویر آیا ہے جو محکمے کے سربراہ کو تمام معلومات ایک ہی بٹن دبائیں تومعلوم ہوگا کہ صوبے میں کتنے بی ایچ یو کام کرتے ہیں ان میں سے کسی بی ایچ یو میں ڈاکٹر نہیں ہے کسی بی ایچ یو میں ٹیکنیشن کی آسامی خالی ہے کونسا بی ایچ یو ایساہے جہاں دوائیں بھیجنے کی ضرورت ہے؟تعجب کی بات یہ ہے کہ2007میں ضلع چترال کے تمام بی ایچ یوز کے لئے ایک این جی او کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اُ س این جی او نے10سال کام کیا مگر اُس کو پتہ نہیں لگا کہ اویر کی طرح کتنے بی ایچ یوز40سالوں سے بند پڑے ہیں۔تعجب کی بات یہ بھی ہے1970میں ڈاکٹر سردارالملک پیدل یاگھوڑے پر سفر کرکے ہر ہسپتال کا معائینہ کرتا تھا۔50سالوں میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کے پاس4قیمتی گاڑیاں،گاڑیوں کے لئے تیل اور تمام سہولیات ہونے کے باوجود کسی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر نے صحت کے مراکز کا دورہ نہیں کیا چند سال پہلے چترال سے50کلومیٹر مشرق میں دراغلش کے مقام پر حادثہ ہوا۔زخمیوں کونکال کر5کلومیٹر دور بی ایچ یو مروئے لایا گیا۔وہ کافی عرصے سے بند تھا30کلومیٹر دور ارایچ سی کوغذی لایا گیا۔وہاں ابتدائی طبی امداد کی سہولت نہیں تھی۔50کلومیٹر کے فاصلے پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچنے سے پہلے3زخمیوں نے دم توڑدیا۔اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے دونوں ہسپتالوں پر تفصیلی رپورٹ لکھی۔لیکن محکمہ صحت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔کچھ لوگ اس کو ماضی پرستی یا نسٹالکجیہ(Nastelgia)کانام دینگے مگر ماضی ہماری زندگی کالازمی حصہ ہے مسئلہ یہ ہے کہ بقول شاعر”گام تیز تر ہے سفر آہستہ آہستہ“ہونا یہ چاہیئے تھا کہ1970ء میں جہاں ڈسپنسری تھی وہاں اب بی ایچ یو قائم ہو،لیبارٹری،ایکسرے اور داخل مریضوں کا وارڈ ہو،ابتدائی طبی امداد کیلئے ایمرجنسی اپریشن روم ہو،لیکن حالت یہ ہے کہ1970میں تھوڑی بہت سہولت تھی وہ بھی ختم کردی گئی ہے۔نئی سہولت نہیں دی گئی عجیب صور حال یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ،ضلعی حکومت،ایم پی اے فنڈ،ایم این اے فنڈ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے کسی بھی منصوبے میں ہسپتالوں کی اب گریڈیشن پر غور نہیں ہوتا،ووٹ مانگنے والوں کو بتایا جاتا ہے کہ ہماری پہاڑی وادی کا ہسپتال کئی سالوں سے لاوارث ہے۔ووٹ مانگنے والے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں مگر کامیاب ہونے کے بعد بھول جاتے ہیں ایک پُرانا گھسا پٹا لطیفہ ہے زبردست اور دبنگ لیڈر دورے پر آیا اُس نے کہا مجھے دومسائل بتادو میں دونوں کو حل کرونگا لوگوں نے کہا پہلا مسئلہ یہ ہے یہ ہے یہاں سکول نہیں ہے لیڈر نے فوراً موبائل فون ملایا،لمبی گفتگوکرنے کے بعد لوگوں کو مبارکباد دی کہ سکول منظور ہوا،دوسرا مسئلہ بتاؤ،لوگوں نے کہا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس وادی میں موبائل کا کوئی بھی نیٹ ورک دستیاب نہیں۔ہسپتالوں کا حال بھی ایسا ہی ہے 50سال پہلے درجہ بندی کی گئی وہ بے معنی ہوگئی ہے کیٹگری بی والے ہسپتال میں کٹیگری سی کی سہولت بھی نہیں ملتی۔اس طرح کی درجہ بندی کا کیا فائدہ ہوگا؟

Facebook Comments