163

صحافت کا ہیرو…. اور 144…. کا سرکاری جنازہ…..تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک

٭ بوم بوم کورونا

وم بوم افریدی…..

نے چترال کا دورہ کیا کیا کہ… ماحول… کو گرما کے رکھ دیا۔گلی گلی میں شور ہے….. اور سوشل میڈیا کے ”کوروناس “ جو نظر نہیں آتے گالیوں، نفرتوں اور دھمکیوں کے…. وائرس… پھلاتے جارہے ہیں۔حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کچھ فحش قسم کی غلطیاں ہمارے سرکاری افسران سے بھی ہوئیں ہیں جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان میں کمشنر مالاکنڈکا بنفس سے نفیس…. افریدی کے ساتھ آنا مناسب نہیں لگا۔ کمشنر ایک بہت معتبر اور معزز انسان ہیں اسے ایک کھلاڑی کے پیچھے سکورٹی افیسر بن کے نہیں آنا چاہیے تھا اسے نہ سلفی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ شاہدافریدی جیسے لوگوں سے ملاقات کی تمنا اور آرزو رکھنا چاہیے جو کھیل اور خیراتی کاموں کے حوالے سے کمشنر آفیس کے چکرلگاتے رہتے ہیں۔کمشنر کے حوالے سے عوام میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ وہ سوات، بونیر، دیر، شانگلہ کے لوگوں کے ساتھ نرمی برتے ہیں اور چترالی مسافروں کے ساتھ… چکدرہ… میں سختی کرنے کے احکامات دے چکے ہیں اور ان پر عمل بھی ہورہا ہے۔جبکہ خود… شاہد افریدی… کے لشکر کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو پس پشت ڈال کر ایک… جلوس… کی شکل میں چترال وارد ہوئے۔پریڈ گراونڈ میں لوگوں کو ضرورت سے زیادہ جمع کیا گیا اور امدادی سامان کی بہت کمی تھی۔ڈی سی ہاوس میں جمعہ کی رات آفات کے آیام میں… چترالی ڈول کے زور پر کورونا کو بھگانے کی بھرپور کوشیش ہوئیں۔اس سے پہلے…. عمر شہزاد… کو چترال کے دورے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔یہ وہ سارے الزمات ہیں جو گھر گھر اٹھائے جارہے ہیں۔ میرا اپنا بھی ارادہ تھا کہ توپوں کا رخ… ڈی سی اور کمشنر کی جانب رکھوں کہ اچانک ایک کرم فرما نے… جناب ایم پی اے صاحب اور ڈی سی صاحب کی… دلبرانا… گفتگوکی…. پھول جھڑی…. مجھے سنائی تو مجھ میں۔ ؎ جو مجھ میں ہے موجود وہ طوفان کدھر جائے۔

٭ 144 کا سرکاری جنازہ۔

میں کو شیش کے باوجود وہ… طوفان… ڈی سی ہاوس کی طرح نہ موڑ سکا جوہر بار ٹھاٹھیں مارتا ہوا… مدرسہ کی دیواروں سے ٹکرانے لگا۔ مجھے ایسا لگا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جناب ایم پی ائے سے یہ ناٹک کروایا گیا ہے اور اس وقت اس کے ساتھ اسی محفل میں اور بھی…. کوروناس… موجود تھے جو شعلوں کوہوا دے رہے تھے ایک نارمل گفتگو کے دوران اچانک مولانا کا طیش میں آنا اور چترالی،اسلامی، منصبی تہذیب…. کاوہ کچھ اتار کے رکھنا جسکا وہ اظہار فرما رہے تھے بہت بلکہ بہت ہی… برا… لگا۔سیاسی عہدہ دار اور علاقے کا ڈپٹی کمشنر ایک دوسرے کے لیے… قلب و جاں… کی حیثیت رکھتے ہیں اگر یہ باہم دست و گریباں ہوئے تو علاقے کے لوگوں کے مسائل کیسے حل ہوں گئے۔ مولانا صاحب اگر دفتر جاکے یا ڈی سی کو بلاکے اس کے ساتھ لڑائی بھی کرتا تو اتنا برا نہیں ہوتا جتنا اس آڈیو سے ہوا ہے۔اس سے بھی بڑا گناہ اسے سوشل میڈیا میں ڈال کر کیا گیا ہے جو اس سے بھی بڑا گناہ اور جرم ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ دونوں طرف… بڑے پن… کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے گلے مل لیا جائے اور آئندہ کے لیے تہذیب کا…دامن… بھی نہ چھوڑا جائے…. شلوار… تو بہت دور کی بات ہے۔ رہ گیا 144 کا سرکاری…. جنازہ… وہ روز…. سرکار… کے ہاتھوں نکل رہا ہے۔ اور سرکار چاہے تو اپنے لیے…. جنازہ… نکالنے کے ہزاروں راستے بنا رکھے ہوتے ہیں جہاں سے بھی چاہے… جنازہ… نکال سکتا ہے اور جنازے کو دیر تک نہ نکالا گیا تو وہ… بدبو… دینے لگتی ہے۔

٭ ڈی سی صاحبان کے نام۔

ڈی سی صاحباں کی خدمت میں سر دست دو گزارشات ہیں. گزشتہ رات ایک نجی دعوت سے واپسی ہوئی تو بونی والے روڈ سے پانچ فلائین کوچ گاڑیاں مسافروں سے بھرے بونی کی جانب جاتے ہوئے نظر آئیں مجھے… لاک ڈاون، 144 یاد آیا گھر کے قریب آکے ایک کوچ ڈرائیور سے ملاقات ہوئی میں نے مسافروں کو بتایا تو اس نے انکشاف کیا کہ ہر رات ٹنل سے کوچ… ہاتھ گرم… کر کے نکلتے ہیں اور… کورٹین… کے بغیرمسافروں کو ان کے گھروں میں پہنچاتے ہیں اور… بڑے افیسرز کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اگر تسلی کرنی ہوئی ہو تو… وڑایچ پارک میں رات یہ تماشہ دیکھا جاسکتا ہے۔ڈی سی صاحبان… کی کرکاردگی ابھی تک بہت بہتر ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ… کالی بھیڑوں… کے طفیل کوئی وائرس ذدہ شخص

چترال میں گھس جائے۔

دوسری گزارش…. یہ تھی کہ 2008 ء کے بعد چترال میں…. امدادی پیکیج کی خوشبو… محسوس کی جارہی ہے اس میں سرکار کے علاوہ،الخدمت۔اور دیگر این جی اوز سرگرم رہے ہیں۔اور چترال کے لوگ بھی… مال مفت دل بے رحم… کی عملی تصور بننے سب کچھ سمٹنے کو دوڑ لگا رہے ہیں۔حالانکہ ان میں مستحق افراد نہ ہونے کے برابر ہیں یہاں کے باسیوں میں کوئی بے گھر نہیں، اللہ کے فضل سے چائے چباتی سب کو میسر ہیں… سیلاب، زلزلوں اور دوسرے حادثات کے علاوہ یہاں امدادی پیکیج کا تقسیم ہونا لوگوں کو مفت خوری، اور… بوسک موخی گاری… کا سبب بننے گا اسے جتنا ہوسکے…پر ہیز… کیا جائے تاکہ لوگوں میں اپنے…پاؤں…پرکھڑا ہونے کا…. سلیقہ….اور جذبہ جنم لے سکے ورنہ…. ایک آنار سو بیمار کا یہ کھیل تھمنے کا نام نہیں لے گا۔

٭ بھکاری بناؤ مہم۔

تبدیلی والی سرکار… جہاں تبدیلی کاآغاز کیا ہے تو بہت کچھ بدلاسا نظر آنے لگا ہے ملک کا سارا نظام ہی بدلا ہوا ہے، لگتا ہے ہم… نسیم حجازی مرحوم کے ”کالے جزیرے“ میں ّآگئے ہیں۔ ایک منٖصف کو اگر اقتدار مل جائے تو اس کی ترجیح انصاف کا حصول ہوگا، اگر ایک فوجی جنرل جلوہ افروز ہوتو دفاع کو مضبوط بنائے گا اگر عبدالستار ایدھی مرحوم کو تخت پر بیٹھایا جاتے تو ہر فرد کے ہاتھ میں… کشکول… ہوتا۔ دینے والے ہاتھ نبی رحمت ﷺ کے مطابق لینے والے ہاتھ سے بہت بہتر قرار دئیے گئے ہیں۔ اب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ دینے والا کوئی رہا نہیں اور مانگنے والوں کی ایک… قطار… لگی ہوئی ہے جو بھی حکومت میں آتا ہے اپنے لوگوں سے لے کر دنیا بھر کے لوگوں کی جیبوں پہ نظررکھتا ہے اور آئی ایم ایف، والڈبینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے… قرض، خیرات، صدقات کی بھیک مانگ مانگ کر ملک و ملت کا وقار سر بازار نیلامی کے لیے پیش کرنا اپنی… قابلیت …. میں شمار کرتا ہے۔اسلام نے بہت جلد مجبور طبقے کو اوپر اٹھاکر… لینے والوں سے نکال کر دینے والوں میں لاکھڑا کیا تھا جوہم ستر سالوں سے نہیں کر سکے، ایک کھلاڑی اور مانگنے والے کپتان کے ہاتھوں پورا ملک….بھکاریستان… کا روپ دھرتا جارہا ہے.۔ شہر شہر لنگر خانے، مسافر خانے کھل کے دم توڑے جارہے ہیں کورونا ٹائیگرز پہ الزمات لگ رہے ہیں کہ وہ امدادی پیکیج اور بارہ ہزاری میں بھی…. پاٹنرز… بنتے جارہے ہیں۔بے نظیر سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنا ایک اچھا اقدام ہے مگر لوگوں کو لائینوں میں لگا کر میڈیا میں ذلیل کر دینا۔انہیں زندہ درگور کرنے سے کم نہیں۔ اللہ کے بنی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ خیرات ایسا کرو کہ بایاں ہاتھ کو خبر نہ ہو یہ بیس کلو تھیلے کے ساتھ ڈونرسمیت دس سرکاری اہلکاروں کی…. فوٹو… شوٹ نمود نمائش نہیں تو اور کیا ہے، ٹی وی شوز میں وزیراعظم کی موجود گی میں فنڈکے لیے بڑے اعلانات اور وزیراعظم کے جانے کے بعد یکدم خاموشی کیا اللہ کی رضا ء کے لیے ہیں۔ حکومت چاہے تو زکوۃ۔ خیرات، سپورٹ اسکیم کے اربوں روپے موبائل بنکینگ کے ذریعے مستحق لوگوں کے اکاونٹ میں شناختی کارڈ نمبرز کے ذریعے بغیر لائین بنائے بغیر ذلیل و خوارکیے بغیر میڈیا اور لوگوں کو دیکھا پہنچا سکتی ہے۔ مگر اسے تو لوگوں کو رسوا کرنے میں مزا آتا ہے نبی ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے میں نہیں۔ اس سے بھی بہتر پالیسی اگر حکومت چاہے تو ہر پانچ سال میں پچاس لاکھ لوگوں کو ایک ایک لاکھ کاروبار کے لیے اس شرط پر دے کر کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ ایک اور فرد کو بھی روزگار مہیا کر نے کا پابند بنا کر۔ ہمیشہ کے لیے ایک گھرانے کو خوشحال بنا سکتی ہے۔ خدارا قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیجیے دوسرے کے پاؤن پر بھکاری بناکر نہیں۔

٭ کورنٹین میں خواتین۔

کورٹین…. کے حوالے سے بھی بہت ساری شکایات ملنا شروع ہوئیں ہیں۔ لوگوں کے ہوٹل مفت میں بند پڑے ہیں اور ان کے کاروبار کا ستیاناس ہوچکا ہے اور حکومت کی طرف سے کرایہ ملنے کا امکان بھی بہت کم بتایا جاتا ہے۔ بعض ہوٹلوں اور ہاسٹلز میں ناقص خوراک اور کچھ میں اعلیٰ انتظامات کے بھی چرچے ہیں۔ ایک افسوس ناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ… زنانہ کورٹائینس“ میں سرکاری مرد اہلکار غیر ضروری طور پر داخل ہوتے ہیں اور انتظامات کے بہانے خواتین خصوصاًطالبات کے کمروں میں جھاگتے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ڈی صاحب اور ہماری سیاسی قیادت کو بھی خواتین کے لیے گرلز کالج ہاسٹل اور خواتین عملے کا انتظام یقینی بنانا چاہیے۔اس سے بھی ضروری بات یہ کہ دیگر شہروں میں… تھرمل ٹسٹ… لینے کے بعد مشکوک لوگوں کو کورٹین کیا جاتا ہے اور باقیوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے یہاں ٹنل کراس کرنے والے… چترالی… کو کورٹین کی…. اذیت… سے گزارا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ، انتظامیہ، ہوٹل مالکان سب پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ اور ابھی تک ان کورٹین کیے ہوئے ہزاروں لوگوں سے کچھ برآمد بھی نہیں ہوا۔ انتظامیہ خود اپنے لیے درد سے پیدا کرنے کی بجائے… تھر مل ٹسٹ… پر بھروسہ کیوں نہیں کر تی۔ اس کے علاوہ نو وارد شخص کو اس کے گھروالوں کی تحویل میں بھی دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس کو چودہ دنوں تک علیحدہ کمرے میں کورنٹین کرئیں۔ اسطرح انتظامیہ پہ بوجھ بھی نہیں بڑھے گا اور لوگ خوشی اور احتیاط سے اپنے گھر والوں کی حفاظت انتظامیہ سے بہتر انداز میں کر سکیں گے کیونکہ کون چاہے گا کہ اس کا پیارا خود موت کا شکار ہو یا اس کی وجہ اس کے چاہنے والے یا اس کے گاؤں والے موت کے منہ میں چلی جائیں۔ میرے خیال میں انتظامیہ اور حکومت نے خود…. آ بیل مجھے مار کا کھیل… کھیل رکھا ہے یا اس میں بھی…. اضافی خیرات…. کا کوئی…. ہنر…. کار فرما ہے۔ ہمارے اسمیلی برادری کے ہاں نجی کورٹائیں کی اعلیٰ سہولیات اور مثالیں موجود ہیں

جو قابل ستائیش ہیں۔

٭ میر شکیل کا جرم۔

ہم بچے سے جوان پھر بوڑھے سے مر کھپنے کے قریب آگئے ہیں مگر…. جنگ گروپ… پر ملک سے غداری، انڈیا نوازی، غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے الزامات کی بارش ہوتی رہی ہے ان سے فوجی آمروں، سے لے کر سیاسی شہیدوں تک سب کے یہی گلے شکوئے رہے ہیں جو بھی حکومت میں آیا ان کے مخالف ہی رہے۔ مگر کسی نے بھی ان کے …. کالے کرتوت … بقول ان کے الزمات کے روشن دلیل… سامنے نہیں لا سکے۔ نہ عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش کرکے انہیں… سزا آشنا … کر سکے۔ جب اپوزیشن میں گئے تو… صحافت کا علم… اٹھائے چینل کی آزادی کا نعرہ لگاتے رہے… پاؤر…میں آئے تو گلہ اور بھی زور سے… دبانے..لگے۔ جیو کو جینے دو…. یہ نعرہ مقبول ہوتا جا رہا ہے ہمارے مقتدر اداروں کی بے وقت کی راگنی نے میر شکیل الرحمن کو ایک…. ہیرو… بنا دیا ہے کہ اتنی ملک دشمنیوں کے قصے کہانیاں سنانے بلکہ گھاڑنے کے بعد… درجنوں سال… پرانا ایک… پلاٹ اسیکنڈل … سامنے لاکر ایک بڑے میڈیا گروپ کا… گلہ گھونٹنا… مہذب دنیا ماننے کو تیار نہیں۔روز بروز میر شکیل کی حمایت میں اضاٖفہ ہوتا جارہا ہے ملکی اور بین الاقو می سطح پر بھی غیرجانبدار، دانشور، صحافی، سیاست دان اور پاکستان کے چاہنے والے آواز اٹھا رہے ہیں اگر میر شکیل کے خلاف ثبوت ہیں تو وہ عدالت کے سامنے لاکر انہیں سزا دلوائی جائے نہ کہ اپنی کمی، کجی،کوتائیوں پر…پردہ… ڈالنے کر… نیب… کی تلوار سے ایک غیرسیاسی اور غیرسرکاری فرد کو…. مرضی اور جانبداری نہ کرنے کی پاداش میں ایک طویل عرصے تک….پابند سلاسل…. رکھنا….نصاف کا خون….تصور ہوگا اور وہ بھی…. جمہوری اور آزاد صحافت کے علمبرداروں …. کے ہاتھوں۔ ٭٭٭٭٭٭

Facebook Comments