115

سماجی ذمےداری…….تحریر؛۔ محمد الیاس جیلانی

اس کاٸنات رنگ و بو میں ہر انسان مشکلات و مصاٸب اور تکالیف و حوادث سے دوچار ہوتا رہتا ہے۔کھبی بیماریاں ألیتی ہیں. کھبی عزیزوں اور پیاروں کی جداٸی کے کربناک لمحات سے گذرتاہے . کھبی تنگدستی کے ہاتھوں بے بسی کی تصویر بنتا ہے تو کھبی غربت و افلاس کا دیو اسکے جسم ناتواں میں اپنے پنجے گاڑ دیتا ہے تو کھبی چلتا کاروبار کساد بازاری کا شکار بنکر ٹھپ ہوکر رہتاہے ۔یہ حالات و حوادث ہر انسان کو پیش أتے ہیں صرف تقدیم و تاخیر کا فرق ہوتا ہے کسی کی مسرتوں کے خرمن پر بجلی پہلے گرتی ہے اور کسی کے خرمن پر بعد میں۔جب کسی کو ایسے حالات پیش أٸیں اور کوٸی حوادث کا شکار ہوجاٸے تو اسلام دوسرے صاحب ثروت مسلمانوں کو اسبات کا پابند کرتا ہے کہ وہ اسکو تنہا نہ چھوڑیں بلکہ اسکے دکھ درد میں شریک ہوں تاکہ وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔ایسے موقع پر کھبی صرف زبانی ہمدردی سے کسی غمزدہ کے زخموں پر مرھم رکھی جاسکتی ہے اور بسا اوقات عملی امداد کی ضرورت پڑتی ہے ۔اب حالات کچھ اسطرح ہیں کہ زبانی کلامی ہمدردی کے دو بول سے کچھ ہونے والا نہیں کرونا واٸرس کیوجہ سے حفاظتی تدابیر و احتیاط کے تحت ملک بھر میں لاگ ڈاٶن کا دورانیہ بڑھا دیا گیاہے اور مزید اضافے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔لاگ ڈاٶن کیوجہ سے کاروبار ذندگی معطل ہے جسکی وجہ سے ہر شعبہ ذندگی سے منسلک لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔پورے ملک کے گھر گھر تک راشن پہنچانا حکومت کیلٸے مشکل بھی ہے نیز حکومتی امداد راتوں رات ریلیز بھی نہیں ہوا کرتی۔ لہذا اب وقت ایاہے کہ صاحب استطاعت اور اہل ثروت اگے أٸیں اور أڑے وقت میں مسلمان بھاٸیوں کا سہارا بنیں اور پہلے أٸیے اور پہلے پاٸیے کی بنیاد پر اجر عظیم کمانے والوں میں رجسٹرڈ ہوجاٸیے۔مصیبت کی اس گھڑی میں بعض ادارے اور افراد کھل کر دست تعاون بڑھا چکے ہیں۔اس سلسلے میں تعلیم القران ٹرسٹ کے زیر اہتمام چترال کی مشہور و مقبول شخصیت قاری فیض اللہ چترالی کی نیابت کرتے ہوے خطیب شاھی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کاکاخیل اپنی سابقہ شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوے الاھم فالاھم کے تحت امدادی سرگرمیاں تیز سے تیز تر کرچکے ہیں۔خطیب صاحب امانت و دیانت کے حوالے سے نیک شہرت رکھتے ہیں اور ایسے مواقع پر انتہاٸی نظم و ضبط اور صبرو تحمل کے ساتھ حق حقدار تک پہنچانے کی سعٸی مشکور رکھتے ہیں۔ابتک تقریبا 3لاکھ روپے مالیت کے امدادی سامان تقسیم کرچکے ہیں ۔اپکی طرف سے اعلان کردہ ایک بھاری پیکیچ کا مستحقین شدت سے منتظر ہیں۔سماجی خدمات کے سلسلے میں ایک اہم نام محترم کوثر ایڈوکیٹ کا بھی ہے جنہوں نے حالیہ بحرانی کیفیت سے دوچار پچاس کے قریب کرایہ داروں سے لاگ ڈاٶن کے دوران ایک مہینے کا کرایہ نہ لینے کا اعلان کرکے مسابقت الی الخیرات کی ایک قابل تقلید مثال قاٸم کرچکے ہیں۔باقی الخدمت کی خدمات کا تو ایک زمانہ معترف ہے اسطرح کے حوادثات میں تیزدم اور تیزقدم رہنا انکا پرانا شیوہ ہے ۔زمام قیادت محترم عبد الحق جیسے تجربہ کار اور امانت و دیانت کے اعتبار سے نیک نام کے ہاتھوں میں ہے ۔جہاں تک چترال سے باہر رہاٸش پذیر چترالیوں کی مشکلات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے لاہور کی سطح پر مولانا سید حکیم نے اپنی روایتی وسیع الظرفی اور غیرت و حمیت کا ثبوت دیتے ہوے راشن کے حوالے سے پریشانی سے دوچار چترالیوں کیلٸے مسیح بنکر سماجی میدان میں قدم رکھ چکے ہیں اور ساتھ ہی رابطہ کمیٹی حلقہ لاہور کے مولانا اعجاز اور مولانا نظار صاحبان بھی امدادی سرگرمیاں شروع کرچکے ہیں۔خدا بھلا کرے ان افراد اور اداروں کا جو مصیبت کی ان گھڑیوں میں خلق خدا پر شفقت اور انکی مدد کررہے ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ چترال کے دیگر صاحب ثروت اور مالی لحاظ سے مستحکم پوزیشن کے حامل افراد بھی بخل سے کام نہیں لیں گے اور لاگ ڈاٶن اٹھنے تک اس کارخیر میں شامل ہوتے جاٸیں گے۔

Facebook Comments