84

دادبیداد….ریسرچ لائبریری….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

پورا نام لینگویج ریسرچ لائبریری ہے اور یہ خیبرپختونخواہ کی مخیر شخصیت پرویش شاہین نے منگلور سوات میں قائم کی ہے۔اس کی شہرت کلی فورنیا سے لیکر ٹوکیو تک پھیلی ہوئی ہے۔سری لنکا،نیپال اور چین کے لوگ اس لائبریری کا طواف کرنے آتے ہیں۔پاکستان کی جامعات اور تحقیقی مراکز سے تحقیق کے متلاشی اس طرف کھینچ کرلائے جاتے ہیں۔گذشتہ50برسوں میں لائبریری ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں کی ضرورت بن چکی ہے۔آج اس لائبریری کا خیال اس طرح آیا کہ سندھ کی تاریخ وثقافت کے مطالبے میں ایک سکول کے استاذ شیخ محمد سومار کا ذکر آیا پیر علی محمد راشدی نے لکھا ہے کہ دادو کے استاذ شیخ محمد سومار نے سندھی ادب کی جتنی کتابیں اکیلے شائع کی تھیں اُس زمانے میں کسی ادارے نے اتنی کتابیں منظر عام پر لانے کا نہیں سوچا تھا،یہ کیفیت خیبر پختونخواہ میں محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم کے ریٹائرڈہیڈ ماسٹر محمد پرویش شاہین کے کارناموں کی ہے۔آپ نے اکیلے جتنا کام کیا ہے اتنا کام کسی بڑے ادارے کے بس کا نہ تھا محمد پرویش شاہین کو خیبر پختونخوا کی تاریخ وثقافت اور علاقے کی مادری زبانوں سے عشق ہے آپ کی یہ جچی تلی رائے ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والے محققین اور سیاحوں نے ہماری تاریخ اور ثقافت پر جوکچھ لکھا وہ ترجمانوں کی مددسے لکھا اور اس وجہ سے بعض غلط مفروضے قائم کیئے۔پھر ان مفروضوں کو دوسرے دانشوروں نے نقل کیا۔اور اتنا پھیلایا کہ اب ان کی تردید کرکے ریکارڈ کو درست کرنا مشکل ہوگیا ہے۔وطن عزیز پاکستان کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے پرویش شاہین کو بجاطورپر گلہ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے نامی گرامی پروفیسروں پر باہر سے آنے والے محققین کارعب چھایا ہواہے۔اُن کی غلط بات کا 100بارحوالہ دیتے ہیں۔اپنے ہم وطن مصنف کے کام کا حوالہ دینا کسر شان سمجھتے ہیں۔اس بناء پر طالب علموں کی بھی درست رہنمائی نہیں کرسکتے۔یہ بات وہ اپنی ریسرچ لائبریری میں بیٹھ کر نہیں کرتے،سندھ،پنجاب،بلوچستان،ازاد کشمیر اورخیبرپختونخوا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں ببانگ دُہل اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جس سیشن میں ان کا کوئی مقالہ یا خطبہ صدارت نہ ہو اُس سیشن میں سوال اُٹھاتے ہیں اور سوال کی تمہید باندھتے ہوئے آدھہ گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت دل کی بھڑاس نکالنے میں لیتے ہیں ان کا انداز بیان اور اسلوب اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ حاضرین ان کی گفتگو کا لطف اُٹھاتے ہیں اور منتظمین ان کی موجودگی کو اپنے لئے باعث مسرت قراردیتے ہیں میں نے کئی ایک کانفرنسوں میں اپنے ہی صوبے کے پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کے ساتھ ان کا دلچسپ مناظروں کا لطف اُٹھایا ہے۔مرحوم ڈاکٹر جمیل جابی اور ڈاکٹرسلیم اختر اُن کے مداحوں میں شامل تھے۔گھوڑا گلی کے ایک بڑے سیمینار میں ان کا پشتو فقرہ ”وو گاٹی“(جیتے گا)اس قدر مشہور ہوا کہ 5دنوں تک سارے شرکاء کی زبانوں پر اس کا چرچا رہا۔ڈاکٹر ایوب صابر اور ڈاکٹر ممتازمنگلوری ان کے زاتی دوستوں میں شامل تھے۔ڈاکٹر ممتازمنگلوری کا منگلور ہزارہ میں ہے جبکہ پرویش شاہین کا منگلور سوات میں منگورہ سے کالام جانے والی شاہرہ پر فِضا گٹ کے قریب واقع ہے ڈاکٹر ممتاز منگلوری نے بھی ایک بڑی لائبریری قائم کی تھی اور وصیت کی کہ اگر ہزارہ یونیورسٹی میں شعبہ اردوقائم ہوا تو میری لائبریری اُس شعبے کو دی جائے کیونکہ اس ذخیرہ کتب میں صرف اردو زبان وادب کی کتابیں جمع کی گئی ہیں پرویش شاہین کی لائبریری کے اہم شعبوں میں گندھارا تہذیب،سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے آثار قدیمہ،ملاکنڈ اور گلگت بلتستان میں بولی جانے والی مادری زبانوں پر ہونے والی تحقیق،خیبرپختونخوا کی ثقافت اور تاریخ پر انگریزی اردو،پشتو اور دیگر زبانوں میں چھپنے والی کتابیں وافر مقدار میں ذخیرہ کی گئی ہیں اپنی تحقیق کی بناء پر آپ نے آریائی نظریے پر نظرثانی کرکے نیا تصور پیش کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی ثقافت آریاؤں کی مرہون منت نہیں بلکہ قبل آریائی تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔اس طرح بدھ مت کی اب تک جتنی تاریخیں لکھی گئی ہیں ان کی تصحیح کرکے آپ نے ثابت کیا ہے کہ بدھ مت کی بنیاد سوات ادھیانہ میں رکھی گئی۔کپل وستو کے نام سے جس کا ذکر تاریخوں میں آتاہے وہ سوات کا خوبصورت قصبہ کبل ہی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت میں گزیٹڈ افیسر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انہوں نے چھٹیوں میں 40غیر ملکی دورے کیئے اور45کتابیں شائع کرائیں۔کتابوں میں کے موضوعات متنوع آپ نے 5مضامین میں ایم اے کیا اورپشاور یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا اُنہوں نے تاریخ،لسانیات،ثقافت اور بشریات کے مختلف پہلووں پر قلم اُٹھایا اور جس موضوع پر قلم اُٹھایا اپنی بساط کے مطابق اُس کا حق اداکرنے کی کوشش کی اس وقت ان کے سامنے 20مزیدکتابوں کے مسودے ہیں۔ان میں سے کچھ مسودے پریس بھیجنے کی لئے تیار ہیں۔ان کی کچھ کتابیں خیبر پختونخوا کے پبلشروں نے بھی شائع کیں تاہم زیادہ ترکتابیں لاہور کے ممتاز پبلشروں نے شائع کرکے دیں۔آپ کی علمی،ادبی اور ثقافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے سول اعزاز سے نوازا،بلاشبہ منگلور کی لینگویج ریسرچ لائبریری صوبے کی اہم تحقیقی لائبریریوں میں شمار ہونے کے قابل ہے۔75سال کی عمر میں بھی پرویش شاہین اپنے عہد جوانی کی طرح تندہی اور توانائی کے ساتھ علم وادب کی خدمت کررہے ہیں۔

Facebook Comments