74

دادبیداد….عجم اورعرب….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

عجم کے لغوی معنی میں گونگا لکھا جاتا ہے،عربوں کو زمانہ قبل از تاریخ سے اپنی زبان پر فخر تھا۔جس کی زبان نہیں اسکو عجمی کہتے تھے۔علامہ اقبال نے ایک لازوال شعر میں عرب اور عجم کوعجیب انداز میں یکجا کیا ہے
جو کرنی ہے جہانگیری محمد کی غلامی کر
عرب کا تاج سرپر رکھ خداوند عجم ہوجا
تاریخ کے جس موڑ پر اسلامی فوج نے ایران کو فتح کرکے کسریٰ کاتاج وتخت اُلٹ دیا اُس دور میں عجم سے مراد پارس یا ایران لیا جاتاتھا۔آج بھی تقریباًیہی مفہوم چل رہا ہے۔عربی ایرانیوں کو عجمی کہتے ہیں تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ کورونا نے عرب اور عجم کو یکجا کردیا ہے۔زبان دان اور گونگے کا فرق مٹا دیا ہے۔اخبارات میں آیاہے کہ ایران کی معیشت کا دھڑن تختہ ہوگیا ہے۔ایک ڈالر کے عوض 42ہزار تومان آتے ہیں گویا ایرانی سبزی اور فروٹ لینے کے لئے20لاکھ روپے جیب میں ڈال کرباہر نکلتے ہیں وہ بھی کورونا کی اجازت سے،کورونا اجازت نہ دے توباہر نکل ہی نہیں سکتے۔سعودی عرب کے بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ہجری سال1441کا حج خطرے میں پڑگیا ہے۔سعودی وزارت حج نے مسلمان ملکوں کو مراسلہ جاری کرکے مطلع کردیا ہے کی حج کی تیاری تاحکم ثانی معطل رکھیں۔سعودی عرب میں مکانات اور ٹرانسپورٹ کے لئے معاہدے نہ کریں اسی سال جج اپریشن کی اجازت ملنے تک کوئی کام نہ کریں۔نہ کسی سے پیسہ لیں نہ کسی کو ادائیگی کریں۔گذشتہ 40سالوں سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت چل رہی تھی۔جب تک ایران میں بادشاہت تھی خطے میں امریکہ کو ہرکام کیلئے ایران اپنا کندھا پیش کرتا تھا1979میں جمہوری انقلاب آنے کے بعد ایران اور امریکہ آپس میں دشمن بن گئے خطے میں امریکی مفادات کے لئے سعودی عرب نے اپنا کندھا پیش کیا اور امریکہ نے بخوشی قبول کیا۔افغانستان،عراق اور لیبیا میں امریکہ کو کامیابی نصیب ہوئی البتہ شام اور یمن میں امریکہ پھنس گیا۔اب تک پھنسا ہوا ہے۔اس کشمکش نے عرب اور عجم کی پرانی مخاصمت کو نئے سرے سے زندہ کیا۔1441ہجری کاسال جہاں ایران کے لئے آزمائشوں کا سال ثابت ہوا ہے۔وہاں سعودی عرب کے لئے کڑی آزمائشیں سامنے آئی ہیں۔ایران نے تیل اور گیس کی قدرتی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود آئی ایم ایف سے5ارب ڈالرقرض مانگ لیا ہے۔ایران پر امریکہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے جہاں بین لاقوامی تجارت پر پابندی ہے وہاں آئی ایم ایف بھی امریکہ کی اجازت کے بغیرایران کو ایک پائی کے برابر قرض نہیں دے سکتا یہ ہماری کل اوقات ہے۔معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ ایران کا موجودہ سال گورباچوف کے سویت یونین کی طرح تخت یاتختہ والا سال ہے۔تخت سے زیادہ تختہ کاامکان ہے گویا خمینی کا جمہوری انقلاب معاشی مجبوری کے ہاتھوں تاریخ کے کوڑے دان میں اُترنے والا ہے۔کیونکہ انقلابی حکومت نے فاشزم کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ذرائع ابلاغ پر پابندی ہے۔ہردیوار پرزبان حال سے لکھا ہوا ہے کہ”نازک مزاج شاہان تاب سخن ندارد“سعودی عرب میں ایک بار پھر وہ مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جو بنواُمیہ کے ساتھ عبداللہ ابن زبیر کی جنگوں میں پیدا ہواتھا۔یہ683عیسوی کا واقعہ ہے۔اس کے300سال بعد 952عیسوی میں قرامطہ میں عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کی مکہ مکرمہ میں خونریز جنگ کے بعد بیت اللہ شریف پردھاوا بول دیا اور حجرہ اسودکو نکال کراپنے ساتھ لے گئے۔پھر عباسی خلیفہ سے تاوان لیکر حجراسود کوٹوٹی پھوٹی حالت میں واپس کیا۔اس سال 2020عیسوی کا حج متاثر ہونے کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے سعودی عرب میں کورونا فروری میں آیا کورونا سے پہلے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خلاف بغاوت کے جرم میں 22شہزادوں سمیت 100سے زیادہ حکام کو حراست میں لیا گیا تھا۔کورونا کی وبا آنے کے بعد عمرہ پر پابندی لگائی گئی نیوز چینل الجزیرہ نے اس پابندی کے پس پردہ محرکات میں ممکنہ بغاوت کا بھی ذکر کیا تھا حج کے انتظامات کو روکنے کے بعد ان شکوک اور شبہات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔آزاد میڈیا میں جو خبریں آرہی ہیں ان میں شہاہی خاندان کے جدامجد کنگ عبدالعزیز بن سعود کی وصیت کاذکر کیا جارہاہے۔وصیت یہ تھی کہ کنگ عبدالعزیز کے بیٹوں میں سے کوئی بادشاہ اپنے بیٹے کو ولی عہد نامزد نہیں کرے گا۔ولی عہدی کا عہدہ دستور کے مطابق چلے گا۔اور شاہی کونسل اس کی توثیق کرے گی۔اس وصیت کی رو سے موجودہ بادشاہ کے بعض فیصلوں پر شاہی خاندان کے اندر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔اور شاہی خاندان کے وفادار حکام بھی تذبذب کا شکارہیں۔ایران اور سعودی عرب کے اندرونی حالات جیسے بھی ہوں ان حالات سے امت مسلمہ کے اتحاد میں حائل دونوں رکاوٹوں کے زوال کی اُمید نظر آتی ہے اور یہ ایک نئے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔علامہ اقبال نے سچ کہا
یہی شیخ حرم ہے جو چُرا کربیچ کھاتا ہے
گلیم بوذر و دلق اویس وچادر زہرا