112

کورونا وائرس ہوا میں دیر تک رہ سکتا ہے، ماہرین صحت

اسلام آباد ( آوازچترال رپورٹ) ماہرین صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں دیر تک رہ سکتا ہے، اس لیے ہیلتھ حکام نے میڈیکل عملے کے لیے این 95 ماسک کی سفارش کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایمرجنگ ڈیزیز یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر ماریا وان کرخوف نے پریس کانفرنس کے دوران کیا کہ ڈبلیو ایچ او نے طبی عملے کےلیے ایئربورن احتیاطی تدابیر پر غور شروع کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وائرس کھانسی اور چھینکوں کے باعث مائع ذرات میں منتقل ہوتا ہے، اس لیے کورونا ہوا میں دیر تک رہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر ماریا نے یہ بھی کہا کہ جب آپ کسی میڈیکل کیئر مرکز میں ایروسول پیدا کرنے والا عمل کرتےہیں، تو آپ کو ان ذرات کو ایروسولائز کرنےکا امکان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرو سولائز کا مطلب یہ ہے کہ کورونا کے ذرات کچھ دیر ہوا میں موجود رہتے ہیں۔ ایمرجنگ ڈیزیز یونٹ کی سربراہ نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہیلتھ کیئر ورکرز اضافی احتیاط کریں، جب وہ کورونا مریضوں کا علاج کررہے ہوں یا اس عمل میں شامل ہوں تو این 95 ماسک لیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ہوا میں معلق رہ سکتا ہے اس کا انحصار حرارت اور نمی کے عوام پر ہے، سائنس دان خاص طور پر دیکھ رہے ہیں کہ نمی، درجہ حرارت اور الٹرا وائلٹ لائٹنگ کا اس مرض پر کیا اثر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ماریا کا کہنا تھا کہ سائنسدان یہ بھی دیکھ رہےہیں کہ وائرس اسٹیل سمیت مختلف اشیا کی سطح پر کتنی دیر تک موجود رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ حکام نے میڈیکل عملے کے لیے این 95 ماسک کی سفارش کی ہے کیونکہ یہ ماسک تمام مائع اور ایئر بورن ذرات کو 95 فیصد فلٹر کرتا ہے۔

Facebook Comments