127

تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک……..ENJOY CORONAنقارہ خدا۔

یار لوگوں کی فرمائش ہے کہ ”کورونا“ پہ بات کی جائے جو ”ہاتھ دھوکے“ ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ دوستو بات آسان اور مختصر سی ہے کہ حضرت انسان جتنابھی اونچا اڑان بھرے کائنات کے رب کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہی رہتا ہے۔ جو تمام سائنسی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود …. رب…. کے آگے نہ چاہتے ہوئے بھی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ جوکبھی…نمرود… جیسے جابر کو ”پولیو ذدہ مچھر“ کے ذریعے ”جوتے کھانے“ پر مجبور کرتا ہے…. کبھی سونامی کے جھٹکے سے ہزاروں کو تنکے کی طرح بہا لے جاتا ہے… کبھی زمین کی کھانسی یعنی زلزلے سے قیامت ڈھا دیتی ہے۔ اور کبھی کبھار اپنے خلائی اور خفیہ مخلوق جو ایک دور بین سے بھی نظر نہیں آتی…انسان کو انسان بنانے کے لیے…..دل پشوری…. کے طور پر سوائین فلو، انتھراکس، ٹڈی دل اور اب …. کورونا سرکار…. کی صورت یہ تماشا ہمیں دیکھا رہا ہے۔ کہ میرے یہ بندے….لوٹ کے واپس آتے بھی ہیں یا مستی میں ہی غرق رہتے ہیں۔ کیا کبھی کسی انسان نے سوچا بھی تھا کہ ”کعبہ کا طواف“ ایک منٹ کے لیے بھی روک دی جائے گی۔شمع رسالت کے بے تاب پروانے ”سنہری جالیوں“ کو چومنے سے پل بھر کے لیے بھی محروم رہیں گے۔اگر انسان………. بلخصوص مسلمان بن کے سوچا جائے تو ہمارے ” عبرت“ کے لیے…. کورونا خان… میں بہت کچھ چھپا ہوا ہے۔

٭ سر تسلیم خم۔
اگر ہم میں کچھ ….شرم و حیا نام…. کی کوئی وائرس زندہ ہے تو ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کے در اقدس پر سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔ کہ ان کی تعلیمات پر ان کو بلکہ خدا تک کو نہ ماننے والے ”چینی“ عمل کر کے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔آج سے چودہ سو سال پہلے وبائی مرض میں مدینہ کا ”لاک ڈاون“ کرکے آپ ﷺ نے لوگوں کو اس موزی مرض سے بچانے کے سخت احکامات دئے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں بھی انہی نبوی تعلیمات پر سختی سے عمل ہوا تھا۔خود سو سال پہلے چترال میں بھی شجاع الملک کے دور میں عمائدین سلطنت اور وزرا کے مشورے سے چترال ٹاون کا ”لاک ڈاون“ ہوا تھا مگر ہمارے وزیر اعظم صاحب منیر نیازی مرحوم کی طرح ہر کام میں….. دیر کر دینے کا ایک سلیقہ رکھتے ہیں۔
٭ آ بیل مجھے مار۔
اگر تفتان میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تو اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا تھا۔مگراب لکیر پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا اور نہ ایک دوسرے پر الزام تراشی سے…. کوروناسرکار…. کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ بلکہ متحد ہوکے حالات کا مردنا وار مقابلہ کیا جائے۔ہمارے حکمران، ہمارے ادارے اور ہماری قوم ہمیشہ ایک غیر سنجیدہ ایک وکھری ٹائپ ناہنجار سی مخلوق رہی ہے۔ حکومت نے تعلیمی ادارے بند کیے تو کورونا پیکنیک پارٹیوں کا زور شور ہے، مارکیٹ،دفاتر، ہوٹل پارٹیوں پہ بین لگے تو گھروں میں…. کورونا ڈانس پارٹیوں کازور ہے۔کیونکہ میری جسم میری مرضی….. کا دور چل رہا ہے۔ کورونا ذخیرہ اندوز، ریٹ بڑھانے میں…. وائرس…. سے بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں، دس روپے کی ماسک پچاس میں بھی دستیاب نہیں۔غیر مسلم ممالک میں اسلامی تہوار کے مواقع میں مسلمانوں کی سہولت کے لیے اشیاء خوردو نوش سستے کر نے کا رواج عام ہے مگر ہمارا… بوائے آدم ہی نرالا ہے کہ ہمارے بیس بیس حج کئے ہوئے۔ سینکڑوں عمرے سے مسلح…..کاروباری کوروناس…. پل بھر میں پورے بازار کو ہی…. عمرو عیار… کی. ذنبیل میں کس مہارت اور بے نیازی سے چُھپا لیتے ہیں کہ ان کے کندھوں کے اوپر جلوہ افروز…. فرشتے…. بھی پائنٹر نکال نہیں پاتے۔

٭ نسخہ کیمیاء۔
علاج اگرہر مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں موجود رہا ہے اور وہ اپنے مذہبی تعلمات کی روشنی میں دم، دعا، تعویز، پری خانی، دھونی۔ حکیمی،وغیرہ کا سہارا لیتے آئے ہیں لیکن…. کورونا جان…. کی آڑ میں ہمارے ہاں ایک اور مرض…. مسیحاء گری…. کا بھی ہے۔ ٹی وی شوز ہوں، سوشل میڈیا ہو، دوکان گلی محلے ہوں ہر گوشے کوئی نہ کوئی نسخہ کیمیا ء لیے بیٹھا ہے…… اسٹاک مارکیٹ زوروں پہ ہے۔جس میں جعلی مولوی صاحبان، طبیب، ساحر، ڈاکٹرز سب…. چورن…. ایسے بھیج رہے ہیں گویا…. کورونا سے پوچھ کے یہ نسخے بنارہے ہوں لہذا………….جاگھنے والوں………… کو اس جانب بھی توجہ دینا چاہیے۔
٭ ہیروز۔
مقامی طور پر کچھ دلچسپ واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں کہ سردی اور نمونیا کے مریضوں کے بجتے ہوئے دانتوں سے ڈر کے ہمارے کچھ مہربان بدحواسی میں انہیں پشاور کی سیر تک کرانے کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ ان حالات میں بد حواس ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ہسپتالوں میں مناسب سہولیات کی کمی ہے۔اس جنگ میں ہمارا ہراول دستہ ڈاکٹر صاحبان اور سیکورٹی ادارے کے افراد ہیں جن میں پولیس، اسکاوٹس،آرمی کے جوان شامل ہیں اگر ان کی حفاظت کے لوازمات مناسب نہ ہوئے تو یہ جنگ جیتنا مشکل ہوسکتا ہے۔ہمارے ان…. ہیروز…. کی جتنی بھی ممکن ہو حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
٭ کورونا چیک۔
ہماری حکومت بھی ایک تیر سے دو شکار کی ناکام کوشیش کر رہی ہے۔کہ کسی طرح…. کورونا خان…. کا بہانا بناکر ہمارے…. لادے ہوئے قرضے معاف کیے جائیں.اللہ کرئے یہ ٹوٹکہ بھی کاریگر ہو۔لیکن عالمی اقتصادی حالات کو دیکھا جائے تو سب… کورونا …کا رونا رو رہے ہیں۔لہذا اندورنی منصوبہ بندی بہتر بنانے کی ضرورت ہے ناکہ دوسروں پر تکیہ نہ کیا جائے۔ اگر کہیں سے کوئی امداد آبھی جائے تو اسے ضرورت مندوں پر خرچ بھی کیا جائے۔پہلے بھی ہم نے ایسے بہت سے آفات کی روداد رپورٹ کر چکے ہیں کہ اچھے مال گوداموں میں اور مکھڑی کے جالے جیسے خیمے، کمبل، اور بد بودار رضیائیاں جو دیکھتے ہی متاثرین بھاگ جاتے تھے۔متاثرین کے منتظر تھے۔ پہلے بھی بہت سلفیاں ہمارے ذمہ داراں نے بنا لیے اور میڈیا کی زینت بنے رہے۔ اب بھی کچھ لوگوں کی فوٹو گرامی اور ایک ایک عد د فوٹو شو ٹر ساتھ رکھنے کے رپورٹ ہیں۔ میرے سرکاری بھائیوں اگر آپ لوگوں کی دیانت داری اور جذبے سے خدمت کر یں گے تو اس کا صلہ دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کو سرخرو رکھے گا یہ…. بڑوں کو دیکھانے سے بہتر ہے کہ سب سے بڑے کو دیکھایا جائے۔ سرکار کے علاوہ این جی اوز، فلاحی ادارے اور پارٹیاں بھی اس کار خیر کو…. کار خیر…. ہی حد تک محدود رکھیں…. کشمیر کا چندہ، ڈیم فنڈ، مدرسہ مکاؤ مہم نہ بنائیں ویسے بھی…. دو خانوں…. کی چکی میں عوام کے پاس…. پیسنے….. کو بھی کچھ نہیں بچا ہے۔ بحرحال ہمارے چترال انتظامیہ کے اقدامات میں بہت بہتری نظر آرہی ہے اس میں مزید کچھ دنوں کے لیے سختی ہونا چاہیے۔ اور جتنی پھرتی…. کورونا خان …. کے لیے ہے اتنی ہی مقامی ذخیراندوزوں کے لیے ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ دیکھ بال کے عام لوگوں کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر معاملہ کیا جائے تاکہ بے جا لوگ،ضرورت مند تکلیف نہ ہوں۔
٭ تصور کا دوسرا رخ۔
یورپ….. کے لوگ ہمارے مقابلے میں بہت ہی… حساس، کمزور ہاضمے والے واقع ہوئے ہیں اگر ہمارے مقامی پانی کا ایک بوند وہ پی لیں…. (جو ایک سال سے چترال ٹاون کے مکین…. گولین گول….کی سپلائی اسکیم کی بندش کے سبب پبلک ہیلتھ اور ہمارے انتظامیہ کی اعلیٰ کاوشوں کی بدولت پی رہے ہیں)تو تین ماہ تک…. کورنطینہ.. میں نت نئے دھنوں سے آشنا ہوسکیں۔ہمارا کیا ہے…. ہمارا ستر بہتر سالہ تجربہ ہے کہ ہم…. سرف و بل صفا ملا دودھ، مضر صحت جوش و شربت، زہر ملا شراب پی کر جھومنے لگتے ہیں۔برُا، بھس سے مصالہ بناکر کھانوں کی لذت میں اضافہ فرماتے ہیں… ملاوٹ کے بغیر دو نمبری بلکہ دس نمبری کے کھانے کے وافرمقدار میں کھانے روزانہ ہمارے معدوں میں انگڑایاں لیتے ہیں……… گرس، جلے ہوئے موبل آئیل سے یہاں تک کے گٹر کی غلاضت تک سے ہم گھی اور صابن بناتے ہیں۔ جو یورپ کا کسی سائنس دان کا دادا بھی نہیں بنا سکتا…. ہم کھانے پہ آئیں تو…. بیت مال سے لے کر حج، زکواۃ، غریبوں کے پنشن، پلاٹ، گھر، تھر کا کوئلہ، سونا چاندی، گیس بجلی، لوہا، اور ملک کا خزانہ بلکہ پاکستان کے نام پر لیا گیا عالمی …. قرضہ… تک کھا جاتے ہیں۔یہ….. غرس لوچی کاہہک…. کھا کر اگر ہم زندہ رہ سکتے ہیں توہمارے اس… لکڑ ہضم…. پتھر ہضم والی قوم کے لیے ایک عدد…..حقیر کورونا…. کیا حیثیت رکھتی ہے۔…. یورپ…. کا سارا زور …. ہاتھ دھونے تک محدود ہے ایسا لگ رہا ہے وہاں ہاتھ دھونے کا کوئی رواج ہی نہیں…. جبکہ ہم لوگ چودہ سو چالیس سالوں سے….. پانچ ٹائم ہاتھ کے ساتھ اور بھی بہت کچھ دھونے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ جو ہاتھ نہ دھونے والوں کو…………… حاصل نہیں۔
٭ قلندر کی بات۔
اگرچہ میڈیا والے…. سو سال بعد… بریک سنگورا ہائی… کی صدا لگا رہے ہیں اور یہ خوف بھی دلا رہے ہیں کہ دنیا کی چار سے آٹھ فیصد لوگ…. ویزا… لے سکتے ہیں۔ اگر آبادی کے حساب چترال کا جائزہ لیا جائے تو یہ سولہ ہزار سے بتیس ہزار بنتے ہیں۔ ہم لوگ زمین نام کی خلائی کشتی سوار دس ہزار سالوں سے فضاء میں تیرتے آئے ہیں اور….کشتی والے سرکار…. کی جانب بڑھتے جارہے ہیں۔ اگر چہ ہمارے… ذاد راہ …. میں گناہوں کی ہوئی ذخیرہ اندوزیوں کی…. بوریوں… کے علاوہ کچھ نہیں۔ اور بخشنے والی سرکار کے نمائیندے ﷺ نے وبا میں مرنے والوں کو…. شہید… کے اعزاز سے نوازہ ہے لہذا کورونا کے شہدا کو مناسب درجہ دیا جائے۔اگر ہم جیسے گناہ گار اپنے بد اعمالیوں کے باوجود 33% نمبر لے کر تھرڈ ڈویژن….. شہید… بھی قرار پائے تو بہت بڑی کامیابی ہوگی۔اللہ کے کرم سے ملک میں بلعموم…. خیر کے ڈھرے ہیں اور چترال میں بالخصوص رحمت کے سائے ہیں جو اللہ جاری و ساری رکھے۔
؎ پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
اس لیے دوسروں کے لیے نہ صیح ہمیں اپنے لیے اپنے فیملی کے لیے احتیاط…. احتیاط… فقط احتیاط کی ضرورت ہے جو ہماری اسلامی تعلیمات کا… نچوڑ… اور وقت کا…. تقاضا… بھی ہے۔