172

چترال بھر میں لاک ڈاون ، لواری ٹنل تمام مسافروں کیلئے بند ، پشاور اسلام آباد سے آنے والی گاڑیوں پر انتظامیہ نے قبضہ کر لیا ۔ ٹرانسپورٹ اڈے سنسان

چترال ( نمائندہ آوازچترال) کورونا وائرس کیلئے ممکنہ حفاظتی اقدامات ، چترال بھر میں لاک ڈاون ، لواری ٹنل تمام مسافروں کیلئے بند ، پشاور اسلام آباد سے آنے والی گاڑیوں پر انتظامیہ نے قبضہ کر لیا ۔ ٹرانسپورٹ اڈے سنسان ، بازار جزوی طور پرکھلے رہے ۔ پرائیویٹ گاڑیاں بھی بند کر دی گئیں ۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے کرونا وائرس کے مکمنہ حفاظتی اقدامات کے طور پر چترال بھر میں لاک ڈاون کر دی ہے ۔ ملک کے دوسرے حصوں سے چترال آنے والے چترالی مسافروں کو تین گھنٹے لواری ٹنل پر روکنے کے بعد چترال جانے کی اجازت دی گئ۔ لیکن اپر چترال کے مسافروں کو لوئر چترال اڈے میں اترنے سے روک دیا گیا ۔ اور انتظامیہ نے مسافروں کو لے Image may contain: one or more people, people standing, mountain, sky, outdoor and natureکر آنے والے گاڑیوں کو واپس جانے سے روک کر قبضے میں لے لیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر چترال کے مطابق ان گاڑیوں کی تعداد 70ہے ۔ جو مسافروں کو لے کر چترال آئے ہیں ۔ اب انہیں واپس جانےکی اجازت اس لئے نہیں دی جا رہی ۔ تاکہ دوسرے ڈرائیوروں کو سبق مل سکے ۔ اور مسافروں کو حالات کی سنگینی کا بھی ادراک ہو سکے ۔ ہفتے کی دوپہر اتالیق اڈہ چترال میں لوکل اور لانگ روٹ گاڑیوں کو بزورطاقت نکالا گیا ۔ جس کے بعد اڈے میں ہو کا عالم رہا ۔ تاہم روڈ پر اکا دکا پرائیویٹ گاڑیاں دوڑتی رہیں ۔ بعد آزان انہیں بھی بند کرنے کے احکامات آئے ۔ چترال سے ایون آنے والی گاڑیوں کو چیتر پل پر ایون میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ جس کی وجہ سے مسافروں کو تین کلو میٹر پیدل چلنا پڑا ۔ اس طرح پشاور جانے والی گاڑیوں کو دروش میں روک لیا گیا۔ جبکہ گذشتہ تین دنوں سے گاڑیوں کو کالاش ویلیز جانےکی اجازت نہیں دی جارہی ۔ اور کئ غیر مقامی سیاحوں کو ایون سے واپس کر دیا گیا ۔ انتظامیہ کی طرف سے یہ اقدام چترال میں کرونا وائرس کی ممکنہ نقل وحمل کو روکنے کیلئے کیا جارہا ہے ۔ جس کی اکثر لوگوں نے حمایت کی ہے ۔ تاہم کئی Image may contain: 1 person, mountain, sky, outdoor and natureلوگ اس میں بہتری لانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں ۔ انتظامیہ کی طرف سے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی ہے ۔ کہ لاک ڈاون کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔ لاک ڈاون کے پہلے روز ہی چترال میں سبزیات ، فروٹ ، مرغیوں اورخوراک کی دیگراشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ اور لوگوں نے ہفتے کے روز سے سٹاک کرنا شروع کر دیا ہے ۔ دوسری طرف ہلکی بارشوں اور بالائی علاقوں کے پہاڑوں پر برفباری نے کرونا وائرس کیلئے ایک آئیڈیل موسم کی راہ ہموار کر دی ہے ۔ انتظامیہ اور ممبران اسمبلی کا کہنا ہے ۔ کہ وائرس سے بچاو کیلئے سب سے موثر اقدام نقل وحمل کی روک تھام ہے ۔ تاہم لاک ڈاون نے چترال کے تمام لوگوں کو اپنے گھروں اور محلوں میں محصور کرکے رکھ دیا ہے ۔

Facebook Comments