100

حکومتی عدم توجہ کی بنا پر ایک لاکھ کی آبادی پر مشتمل علاقہ انتہائی مشکلات سے دوچار ہے ۔..دروش کے نمایندگان

چترال ( نمائندہ آوازچترال  ) تحصیل دروش کے بلدیاتی نمایندگان اور عوامی حلقوں نے علاقے کے مسائل پر حکومتی خاموشی پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر انہیں حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اتوار کے روز تحصیل دروش میں چترال پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ پریس فورم سے خطاب کرتے ہوئے قاری جمال عبد الناصر ،قسوراللہ سابق ممبر تحصیل کونسل دروش ، صلاح الدین طوفان ، عمران الملک ،خوش نواز خان سابق نائب ناظم دروش ، شیر نذیر خان سابق تحصیل ممبر شیشی کوہ ، حاجی محمد شفا ، عبدالباری سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل دروش ، گل نواز خان صدر تجار یونین دروش ، اسفندیار خان صدر ڈرائیور یونین دروش ، قاری علی اکبر ارندو ، وقار احمد ، ، حاجی محمود شاہ سابق صدر تجار ، ارشاد عالم ، رضیت باللہ ، نوشاد علی ، محمد اسلام ،نقیب اللہ نے تحصیل دروش کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ حکومتی عدم توجہ کی بنا پر ایک لاکھ کی آبادی پر مشتمل علاقہ انتہائی مشکلات سے دوچار ہے ۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دو سالوں سے لیڈی ڈاکٹر نہیں ۔ جبکہ میل ڈاکٹروں کی زیادہ آسامیاں خالی ہیں جس سے علاقے کے لوگوں کو صحت کی سہولیات کے حصول میں انتہائی تکالیف کا سامنا ہے ۔ صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث دروش بازار گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے ۔ پشاور ٹو چترال روڈ لواری سے چترال کی طرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ جبکہ مختلف ویلیز ، اورسون ، اوسیک ، جنجریت کوہ ، بیوڑی ، شیشی کوہ ،عشریت اور مین ارندو روڈز کی حالت ان سے بھی بد تر ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اوسیک پُل سات مرتبہ ٹینڈر ہو چکا ہے ۔ لیکن ابھی تک اُس پر کام شروع نہیں ہوا ۔ جبکہ جنجریت کوہ ، اوسیک روڈ پر بڑے پیمانے پر کرپشن ہونے کی وجہ سے یہ روڈز اب بھی نامکمل ہیں ۔ جس کی وجہ سے عوام شدید مشکلات میں سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ عشریت میں این ایچ اے روڈ کی زد میں آنے والے گورنمنٹ ہائی سکول ، اور متاثرہ بی ایچ یو کے عوض متعلقہ اداروں کو پیسے مل چکے ہیں اس لئے ان کی جلد از جلد تعمیر کو یقینی بنایا جائے ۔ اور جنگلات کی رائیلٹی فوری طور پر تقسیم کرنے و لواری ٹنل اپروچ روڈ کی سست روی کا نوٹس لینے اور کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ انہوں نے محکمہ ہیلتھ سے دروش زچہ و بچہ سنٹر کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس سنٹر کو بحال کرنے سے ٹی ایچ کیو ہسپتال پر مریضوں کا بوجھ کم ہو گا ۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ ایک مقامی ڈاکٹر اس سنٹر کو بند کرکے سنٹر اپنے گھر منتقل کیا ہے ۔ اور ملازمین بھی اُس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ۔ جس کا ایکشن لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے آرند و روڈ کی منظوری کے بعد اُس کی تعمیر میں تاخیر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔ اوراس کی تعمیر جلد شروع کرنے کا بھی مطا لبہ کیا ۔ انہوں نے گرلز ہائی سکول دروش میں کلاسیں شروع کرنے، کلاس فور اور ٹیچنگ سٹاف کی بھرتیاں کرنے ، وزیراعظم بلاد سود قرضوں کی فراہمی میں آسانی پیدا کرنے کی اپیل کی ۔ جبکہ پیسکو کی طرف سے ظالمانہ اضافی بل بھیجنے پر اُن کے خلاف ایکشن لینے ، دمیل میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی بند کرنے ، علاقے میں بی ایچ یو کے قیام ، زنانہ مڈل سکول کی تعمیر ، مڈکلشٹ میں سیاحتی سڑکوں میں کام شروع کرنے ، دروش بازار میں غیر قانونی اڈے ختم کرکے ٹی ایم اے کے زیر نگرانی ایک اڈہ قائم کرنے ، من مانی کرایوں اور بازار میں ناجائز منافع خوروں و مصنوعی مہنگائی کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دروش بازار میں دو نمبر ادویات غیر مستند کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ کے ہاتھوں فروخت ہو رہے ۔ جن کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ انہوں نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی طرف سے اوسیک سیلاب متاثرین کی خوراک کیلئے اعلان کردہ ایک لاکھ روپے مقامی تنظیم کو بیباق کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ جس نے کمشنر کے اعلان پر متاثرین کو خوراک فراہم کیا تھا ۔

Facebook Comments