78

داد بیداد….پنڈورا باکس……ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

کوئی بھی کام جو کئی مصیبتوں کا پیش خیمہ ہو انگریزی میں پنڈورا با کس کہلا تا ہے یہ الفاظ اردو میں بھی ایسے ہی استعمال ہو تے آرہے ہیں دراصل یہ تر کیب یو نا ن کے قدیم اسا طیر سے لی گئی ہے آج اخبارات میں جنو بی پنجاب صوبے کے اعلا ن اور دالخلا فہ کے حوا لے سے ملتان یا بہا ولپور کی بحث کے ساتھ ہی بہا ولپور کے الگ صوبے کا مطا لبہ سامنے آنے کے بعد ہمیں یو نا نی کہا نی کا وہ مٹکا یا د آیا جو دیوتا نے دیا تھا مگر اس کا منہ کھولنے کی اجا زت نہیں دی جب اس کا منہ کھو لا گیا تو کسی آلا م اور مصائب نے سراُ ٹھا یا وقت گزر نے کے ساتھ Jarیا مٹکا کی جگہ با کس نے لے لی اور پنڈورا با کس ایسے وقت پر استعمال ہو نے والا مقولہ بن گیا جب ایک مصیبت سے کئی مصیبتیں جنم لینے کے لئے منہ کھولنے لگ جائیں ملا کنڈ ڈویژن کی پہاڑی وادیوں میں ایسے بے شمار لو ک کہا نیاں سنا ئی جا تی ہیں جن میں پنڈورا کا نام لئے بغیر جنات کی طرف سے ایک صندوق کہا نی کے ہیرو کو ملتا ہے جس کا تا لا کھولنے کے بعد اندر سے دوسرا صندوق نکل آتا ہے اس طرح کر کے ساتواں صندوق نکلتا ہے تو اس کے اندر قلعے کی چابی ملتی ہے اس چا بی کو لیکر اب قلعہ ڈھونڈ نا ہے جنوبی پنجاب صوبے کا پنڈورا باکس بھی ایسا ہی ہے بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اصول کی رو سے جنو بی پنجاب صوبے کا اعلان وزیر اعظم کو خود کرنا چا ہئیے تھا لیکن اس کا اعلان وزیر خارجہ نے کیا ہے دوسرے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہاں کونسا کا م اصول کے مطا بق ہورہا ہے اب تک سول حکومت کے بیشتر اعلا نا ت فو جی تر جمان کی طرف سے آتے تھے اب بھی وزیر داخلہ کا کام سائنس اور ٹیکنا لو جی کے وزیر سے لیا جا رہا ہے،وزیر قانون کا کام ریلوے کے وزیر سے لیا جا رہا ہے اور وزیر خزانہ کا کام موا صلات کا وزیر کر تا ہے اگر وزیر خارجہ نے نئے صوبے کا اعلان کیا تو کونسی قیا مت آگئی مگر بات وہ ہے جو ایک مشہور ڈرامے کے ایک منظر میں شیکسپئیر کا ایک کردار کہتا ہے”Though this be madness yet there is method in it” اگر چہ یہ دیوانہ پن ہے تا ہم اس میں سلیقہ بہت ہے اصل کا سلیقہ ہے اور نئے صوبے کا سلیقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے پنجاب اسمبلی میں تر میمی بل پا س ہو نا چا ہئیے جس میں نئے صوبے کے حدود کا تعین ہو اس کے بعد قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پاس ہونا چاہئے پھر سینٹ سے اس کی منظوری ہو، پھر صدر مملکت کے دستخط کے بعد وفاقی حکومت اس کا اعلامیہ جاری کرے اورصوبائی حکومت آئینی ترمیم کے مطا بق نئے صوبے کے حدود کے اندر نئی اسمبلی قائم کر کے اس اسمبلی کے ذریعے نئے صوبے کے دارلحکومت کا بل پاس کروائے اس کے بعد نئے دالخلافے میں صوبے کا سکرٹریٹ قائم ہو گا اور انتظا می ڈھا نچہ فراہم کیا جائے گا یہ وہ راستہ ہے جو قانون کے تحت نئے صو بے کے قیام کی طرف جا تا ہے سلیقہ یہ نہیں کہ وزیر خارجہ نئے صوبے کے سکرٹریٹ کے لئے دو الگ شہروں کا نا م لے لے پو لیس کا سربراہ ایک شہر میں بیٹھے اور بیو رو کریسی کا سر براہ دوسرے شہر میں دفتر لگائے عوام حیراں ہو نگے کہ ہمارا دارلخلافہ کونسا شہر ہے ملتان یا بہاولپور؟ بڑی بات یہ ہے کہ بہاولپور والے جنو بی پنجاب سے الگ ایک اور صوبے کا مطا لبہ کررہے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ قیام پا کستان کے وقت ملتان یا ڈیرہ غا زی خان کی کوئی حکومت نہیں تھی جبکہ بہاولپور کی الگ حکومت تھی اور بہا ولپور اس کا دارلخلا فہ تھا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے پنڈورا با کس کھل گیا تو اس میں سے ہزارہ صوبہ بھی نکل آئے گا جناح پور کا صوبہ بھی سامنے آئے گا کشمیر اور گلگت بلتستان کے صوبے بھی منظر عام پر آئینگے گو یا سچ مُچ کا تما شا لگ جائے گا پھر اس کو قابو کرنا مو جو دہ حکومت کے بس میں نہیں ہو گا سیا نے لو گوں کا کہنا ہے کہ مو جودہ حکومت بہت احتیاط سے قدم بڑھا رہی ہے ایک درست کام کو غلط طریقے سے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کام کرنا نہیں چاہتی آئینی انتظام سے پہلے ڈی آئی جی پی کو بہا ولپور اور ایڈیشنل چیف سکر ٹری کو ملتان میں بٹھا کر خسرو بختیار اینڈ کمپنی کا منہ بند کیا جائے گا اُن سے بجا طور پر کہا جائے گا کہ جنو بی پنجاب کے نئے صوبے کا وعدہ ہم نے پورا کیا اب اگر پنجاب اسمبلی میں آئینی تر میم منظور نہ ہوا تو اس کا الزام نون لیگ کے سرتھوپ دیا جائے گا، قومی اسمبلی اور سینٹ میں بل پیش کرنے کی نو بت ہی نہیں آئیگی حکومت کے بقا یا ساڑھے تین سال بیت جائینگے اس کام کے لئے سیا نے کہتے ہیں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چو کھا آئے اب پنڈورا باکس آپ کے سامنے ہے دیکھیں اس میں کیا برآمد ہو تا ہے اور کیسے بر آمد ہوتا ہے؟

Facebook Comments